Very Awesome…

Reed-Warbler بلاعنوان

Advertisements

Woodpeckers…

Woodpecker is in actuality mind-blowing bird; there are approximately 200 classes of woodpecker live in the jungle and woodlands worldwide. Woodpeckers are found on every continent with the exception of the Polar Regions, Australia and Madagascar. The smallest kind of woodpecker is the Bar-breasted Pickled that only grows to 8cm in height. The Gray Salty woodpecker from south East Asia is the largest breathing woodpecker in the world with some of these woodpecker individuals growing to nearly 60 cm tall. The woodpecker has a distinctive long beak, which the woodpecker uses to make holes in trees. The woodpecker does this in order to dig out the grubs living under the bark. The average woodpecker is able to peck up to 20 pecks per second! The woodpecker is only able to peck so much and move its head so quickly without getting a headache due to the air pockets that help to cushion the woodpecker’s brain. Here i collected different woodpecker images.

Woodpecker Photos Collection (1)

Woodpecker Photos Collection (2)
Woodpecker Photos Collection (3)
Woodpecker Photos Collection (4)
Woodpecker Photos Collection (5)
Woodpecker Photos Collection (6)
Woodpecker Photos Collection (7)
Woodpecker Photos Collection (8)
Woodpecker Photos Collection (9)
Woodpecker Photos Collection (10)
Woodpecker Photos Collection (11)
Woodpecker Photos Collection (12)
Woodpecker Photos Collection (13)
Woodpecker Photos Collection (14)
Woodpecker Photos Collection (15)
Woodpecker Photos Collection (16)
Woodpecker Photos Collection (17)
Woodpecker Photos Collection (18)
Woodpecker Photos Collection (19)
Woodpecker Photos Collection (20)

Enemy within

We are printing Rs300 crore a day every day of the calendar year. That’s what inflation is all about. To be certain, the meanest component of inflation is food inflation because the poorer one is the higher percentage of his or her income goes toward buying food. And in this Land of the Pure there’s some 12 crore to 13 crore Pakistanis earning Rs200 or less a day. Inflation, in fact, is the biggest of all our problems (Gallup Pakistan; Jan 27, 2011). Just who is behind this printing of notes – America, India or Israel?

Loadshedding ?
According to our very own National Power Control Centre, we have an installed capacity of 18,167 MW – and that is roughly 10 percent or 15 percent more than currently needed. The problem, therefore, is not capacity but the circular debt. The federal government, KESC, Fata, our private sector and the government of Balochistan collectively owe Pepco a colossal Rs250 billion. Pepco in return owes the IPPs, Wapda, our oil sector and our gas sector Rs140 billion. Just who is behind this loadshedding – America, India or Israel?

Pakistan Railways?
Here are five facts about Pakistan Railways (PR): One; 384 out of 540 diesel engines are out of order. Two; PR has 16,433 carriage wagons out of which 8,005 are not on tracks. Three; the US has offered a $400 million loan for the purchase of 150 locomotives. Four; Haji Ghulam Ahmed Bilour, our railways minister, has decided to lease 50 engines from India. Five; PR’s deficit stands at Rs40 billion. Just who is behind this mess at PR? Haji Ghulam Ahmed Bilour is not an Indian agent. Javed Iqbal, chairman railways, is not an American agent.

Pakistan International Airline (PIA)?

Here are four facts about PIA: One; 10 out of 39 PIA aircraft have been grounded because of technical faults – that’s 25 percent of the entire fleet. Two; Nadeem Khan Yousufzai is the MD. Three; accumulated losses are fast approaching Rs100 billion – 100 followed by nine zeros. Is Nadeem Khan following some top-secret Israeli agenda? Isn’t Yousufzai one of the largest of all Pushtun tribes?

Education Policy?
Of all the evils we have ever nurtured, substituting public school curriculum with hate literature has to be one of the most evil (National Education Policy 1979). We have 157,360 primary, 41,330 middle and 24,792 secondary schools. Mossad has 1,200 employees and we have more than 1.2 million teachers teaching – or is it preaching – at our schools. To be sure, public school curriculum is a powerful driver behind conflict throughout the length and breadth of Pakistan. Just who is behind this master conspiracy – America, India or Israel? Is Sanjeev Tripathi, the head of RAW, also a member of our curriculum wing?

Government Performance?

Next. Between 1947 and 2008 we took on Rs6 trillion worth of public debt. Over the past three years our public debt has gone from Rs6 trillion to Rs12 trillion. Every man, woman and child in Pakistan is now indebted to the tune of Rs61, 000. Imagine; the Government of Pakistan continues to borrow additional funds and that too at the rate of Rs500 crore a day every calendar day of the year. Is Pakistan’s Debt Policy Coordination Office working under the direction of Tamir Pardo, the current director of the Mossad?

Who said that facts are the enemy of truth?

Writer: Dr Farrukh Saleem

The Secret of Happy and Love Life (خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز)

کسی جگہ ایک بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اُس سے بہت ہی پیار کرتا تھا۔ دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اُسکا خاوند اُس کیلئے محبت بھری شاعری کرتا اور اُس کیلئے شعر کہتا تھا۔ عمر جتنی زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اُتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔ جب اس عورت سے اُس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟

یا  وہ بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟

یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور بچے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟

یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟

تو عورت نے یوں جواب دیا کہ

خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ  کی ذات کے  بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔  اگر عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت  کی چھاؤں بنا سکتی ہے اوراگر  یہی عورت چاہے تو اپنے گھر کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سےبھی  بھر سکتی ہے۔

مت سوچیئے کہ  مال و دولت خوشیوں کا ایک سبب ہے۔ تاریخ کتنی  مالدار عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاوند اُن کو اُنکے مال متاب سمیت چھوڑ کر کنارہ کش ہو گئے۔

اور نا ہی عیالدار اور بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے  پیدا کئے مگر نا خاوند اُنکے مشکور ہوئے اور نا ہی وہ اپنے خاوندوں سے کوئی خصوصی التفات اور محبت پا سکیں بلکہ طلاق تک نوبتیں جا پہنچیں۔

اچھے کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں رہ کرمزے مزے کے کھانے پکا کر بھی عورتیں خاوند کے غلط معاملہ کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں اور خاوند کی نظروں میں اپنی کوئی عزت نہیں بنا پاتیں۔

تو پھر آپ ہی بتا دیں اس  پُرسعادت اور خوشیوں بھری زندگی  کا کیا راز ہے؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان پیش آنے والے مسائل اور مشاکل سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟

اُس نے جواب دیا: جس وقت میرا  خاوند غصے میں آتا تھا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں  ( نہایت ہی احترام کے ساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ احترام کےساتھ خاموشی کا یہ  مطلب ہے کہ آنکھوں سے حقارت اور نفرت نا جھلک رہی ہو اور نا ہی  مذاق اور سخریہ پن دکھائی دے رہا ہو۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال اور ایسے معاملے کو  بھانپ لیا کرتا ہے۔

اچھا تو آپ ایسی صورتحال میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟

اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا  نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی، خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے نا صرف یہ کہ سُننا بلکہ اُس کے کہے سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔ میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جایا کرتی تھی، کیونکہ اس ساری چیخ و پکار اور شور و شرابے والی گفتگو کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہوتی تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کام کاج میں مشغول ہو جاتی تھی، بچوں کے کام کرتی، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے میں وقت گزارتی اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور بھگانے کی کوشش کرتی جو میری خاوند نے میرے ساتھ کی تھی۔

تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اختیار کرلینا اور خاوند سے ہفتہ دس دن کیلئے بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟

اُس نے کہا: نہیں، ہرگز نہیں،  بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا فعل اور خاوند کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دو رُخی تلوار کی مانند ہے۔  اگر تم اپنے خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع شروع میں اُس کیلئے یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنا چاہے گا اور بولنے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ  اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو  اُس میں  تم سے دو ہفتوں تک نا بولنے کی استعداد آ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔ خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے  بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے آکسیجن کی مانند ہو اور تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہے۔اگر ہوا بننا ہے تو ٹھنڈی اور لطیف ہوا بنو نا کہ گرد آلود اور تیز آندھی۔

اُس کے بعد آپ کیا کیا کرتی تھیں؟

اُس عورت نے کہا: میں دو گھنٹوں کے بعد یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس کا ایک  گلاس یا پھر گرم چائے کا یک کپ بنا کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت ہی سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوتا تھا۔ میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی  کہ گویا  ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات ہوئی ہی نہیں۔

جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔جبکہ میرا ہر بار اُس سے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔ اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویئے کی معذرت کرتا تھا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔

تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟

ہاں، بالکل، میں اُن باتوں پر بالکل یقین کرتی تھی۔ میں جاہل نہیں ہوں۔

کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھ سے غصے میں کہہ ڈالتا تھا اور اُن باتوں پر یقین نا کروں جو وہ مجھے پر سکون حالت میں کرتا تھا؟ غصے کی حالت میں دی ہوئی طلاق کو تو اسلام بھی نہیں مانتا، تم مجھ سے کیونکر منوانا چاہتی ہو کہ میں اُسکی غصے کی حالت میں کہی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا کروں؟

تو پھر آپکی عزت اور عزت نفس کہاں گئی؟

کاہے کی عزت اور کونسی عزت نفس؟ کیا عزت اسی کا نام ہے تم غصے میں آئے ہوئے  ایک شخص کی تلخ و ترش باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نا دو جو وہ تمہیں پیار بھرے  اور پر سکون ماحول میں کہہ رہا ہے!

میں فوراً ہی اُن غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔

جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل کے اندر موجود تو ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے۔

Alwada Alvida Hai Mah e Ramzan

Alwida Alwida Alvida Hai,
Mah e Ramzan bas alwada hai.

Dil teray aanay say motbar thay,
Noor mein dubay shaam o sehar they.
Teray janay say dil ro raha hai,
Mah e Ramzan bas alwada hai.

Alwada Alwida Alvada Hai, Mah e Ramazan bass alwida hai.

Sehri iftar qir’at tarawi,
Aur azaan e namazein o tasbeeh.
Yeh saman noori tujh say mila hai,
Mah e Ramzan bas alwada hai.

Alwada Alwida Alvada Hai, Mahe Ramadan bass alwida hai.

Rehmatoon ka tu pegham laya,
barkatoon ka tu inaam laya.
Rutba aala o afzal tera hai,
Mah e Ramzan bas alwada hai.

Alwada Alwida Alvida Hai, Mah e Ramadhan bas alwida hai.

Jaam rehmat kay tunay pilaye,
Gul muradoon kay tuney khilaye.
Tu juda hum say ab ho raha hai,
Mah e Ramzan bas alwada hai.

Alwada Alwida Alvada Hai, Mah e Ramdhan bas alwida hai.

Humko baykal tu paye ga kab tak,
Gar rahe zinda aglay baras tak.
Phir milein gay jo huqmay khuda hai
Mah e Ramzan bas alwada hai.

Alwada Alwida Alvada Hai, Mah e Ramadhaan bass alwida hai.

Chal diya hai tu jo Rab ki janib,
Ahl e Imaan kay purnam hain Qalib.
Qalb e Ishrat bhi gham say bhara hai,
Mah e Ramzan bas alwada hai.

Alwada Alwida Alvida Hai, Mah e Ramazaan bass alwida hai.

Humko bekal tu payega tab tak
Gar rahay zinda agle baras tak.
Phir milengay jo huqm e Khuda hai
Mah e Ramzan bas alwada hai.

Alwada Alwida Alvada Hai, Mah e Ramzan bas alwida hai.

Urdu Column by‎ Javed Choudary – Sousti ka banulaqwami award (سستی کا عالمی ایوارڈ )

  Javed Chaudhryجاوید چوہدری) is a newspaper columnist. His series of columns have been published in four volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politic

Below is his new column published also with Daily Express  titled “Sousti ka banulaqwami award سستی کا عالمی ایوارڈ– in which he writes about the our behavior in life and technology fields.

ANP to celebrate Independence Day in KPK on Aug 16

 For the first time in the history of Pakistan, Awami National Party (ANP) has announced to celebrate Independence Day in Khyber Pakhtunkhwa province on August 15 by hoisting the national flag at the highest point in Peshawar, SAMAA reported late Sunday.

It is pertinent to mention here that the rival country of Pakistan, India will be celebrating the Independence Day on Monday, August 15. Besides, Kashmiris will be observing India’s Independence Day as ‘Black Day’.

Meanwhile, ANP leader and provincial Secretary Information Arbad Tahir, clarifying the impression, has said that due to security arrangements, the hoisting of the flag was delayed till Monday, August 15.

He said that the function may further be extended till August 16 or 17 if security agencies fail to issue security clearance.

Also, PPP’s leader Nabil Gabool, has requested the ANP leadership to change the date of celebrations, citing the past issues in connection with Ramazan and Eid’s moon sighting.

He said the government officials might have mistakenly set this date sans consent of ANP government.

He said if this is a bid for setting a trend then PPP will see the incident as ‘worrying’.

PML-N’s leader Ahsan Iqbal deplored the decision, saying that PM Gilani should immediately take notice and should order directives of cancelation of celebrations on August 16.

Source