بابری مسجد معاملہ: کب کیا ہوا؟

بابری مسجد کی ایک فائل فوٹو

بابری مسجد کا تنازعہ تو پرانا ہے لیکن اس میں شدت انیس سو اننچاس میں آئی تھی۔

بتایا جاتا کہ کچھ ہندو عقیدت مندوں نے مسجد میں داخل ہوکر وہاں بھگوان رام کی مورتیاں نصب کیں اور اس کے بعد دونوں فریقین نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حکومت نے اس علاقے کو متنازعہ قرار دے کر مسجد کے دروازے پر تالا ڈلوا دیا۔

بابری مسجد پندرہ سو اٹھائیس میں مغل بادشاہ بابر کےایک اہلکار نے تعمیر کرائی تھی۔ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ اس مقام پر پہلے رام کا مندر تھا اور یہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔

مؤرخین کے مطابق مندر مسجد کے تنازعہ نے پہلی مرتبہ اٹھارہ سو ترپن میں تشدد کی شکل اختیار کی اور چھ سال بعد اٹھارہ سو انسٹھ میں برطانوی حکمرانوں نے ایک باڑ تعمیر کرا کر مسجد کے اندرونی احاطے میں مسلمانوں کو باہر کے احاطے میں ہندؤں کو عبادت کی اجازت دی۔

انیس سو اسی کی دہائی میں اس تنازعہ نے سیاسی شکل اختیار کی۔ ہندوؤں نے انیس سو چوراسی میں وشو ہندو پریشد کے پرچم تلے اس رام جنم بھومی کو بقول ان کے آزاد کرانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور بعد میں اس تحریک کی قیادت بی جے پی کے سربراہ لال کرشن اڈوانی نے لی۔

انیس سو چھیاسی میں فیض آباد کے ضلعی جج نے مسجد کا دروازہ کھلوا کر وہاں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دیدی۔ مسلمانوں نے جواب میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی قائم کی۔

انیس سو نواسی میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مسجد کے قریب ایک غیر متنازعہ مقام پر رام مندر کی بنیاد رکھنے کی اجازت دی جبکہ اگلے سال لال کرشن اڈونی نے سومناتھ سے ایودھیا تک کی رتھ یاترا شروع کی لیکن انہیں بہار میں داخل ہوتے ہیں گرفتار کر لیا گیا۔

ایک سال بعد ہندو شدت پسندوں نے بابری مسجد کو جزوی نقصان پہنچایا۔ اس وقت کے وزیر اعظم چندر شیکھر نے مذاکرات کے ذریعہ تنازعہ حل کرانے کی کوشش کی لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

مسجد کی مسماری کی بنیاد ایک طرح سے انیس سو اکیانوے میں رکھی گئی جب اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی۔

چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہندو کار سیوکوں نے بابری مسجد مسمار کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک مذہبی فسادات کی آگ میں جھلسنے لگا۔ دو ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

اپریل دو ہزار دو سے الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازعہ زمین کے حق ملکیت سے متعلق مقدموں کی سماعت شروع کی۔ عدالت کے حکم پر ماہرین آثار قدیمہ نے یہ پتہ لگانے کے لیے کھدائی شروع کی کہ آیا اس جگہ کبھی رام کا مندر تعمیر تھا یا نہیں۔

اگست دو ہزار تین میں ماہرین نے کہا کہ انہیں مندر کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں لیکن مسلمانوں نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔

مختلف عدالتوں میں تقریباً ساٹھ سال کا سفر مکمل کر کے چوبیس ستمبر کو فیصلے کی نوبت آئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے فیصلہ سنائے جانے پر روک لگا دی تھی جو عدالت عظمیٰ کے تازہ ترین فیصلے سے ختم ہو گئی ہے۔

3 thoughts on “بابری مسجد معاملہ: کب کیا ہوا؟

  1. Pingback: بابری مسجد معاملہ: کب کیا ہوا؟ | Tea Break

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s