برگیڈیئر امتیاز، عدنان خواجہ گرفتار

سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے اٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ برگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز احمد اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹیڈ کے سابق چیئرمین عدنان خواجہ کو گرفتار کرلیا۔

ان افراد کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات درج تھے اور قومی احستاب بیورو کی متعلقہ عدالت نے اُنہیں ان مقدمات میں مُجرم قرار دیتے ہوئے سزا سُنائی تھی۔ تاہم کالعدم قرار دیے جانے والے قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کے تحت ان افراد کو دی جانے والی سزائیں ختم کرد ی گئیں تھیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے این آر او کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی تو قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ جس وقت این آر او کے تحت اُن کی سزائیں ختم کی گئیں تھیں اُس وقت مجرم برگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز کو آٹھ سال قید اور ستر لاکھ روپے جُرمانے کی سزا ہوئی تھی جس میں تین سال سے زائد عرصے کی قید ابھی باقی ہے۔ عدنان خواجہ جنہیں دو سال کی قید اور دو لاکھ روپے جُرمانے کی سزا ہوئی تھی اُن کی سزا پوری ہونے میں دس ماہ اور بائیس دن کا عرصہ باقی تھا۔

عدنان خواجہعدالت کا کہنا تھا کہ جب سولہ دسمبر سنہ دوہزار نو کو این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا تھا تو پھر کالعدم قرار دیے جانے والے اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف کے خلاف مقدمات دوبارہ کیوں نہیں کھولے گئے۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل راجہ عامر نے عدالت کو بتایا کہ برگیڈیر ریٹائرڈ امتیاز احمد کے مقدمے کی سماعت 23 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ہونا ہے۔

عدالت نے عدنان خواجہ سے استفسار کیا کہ جب اُنہیں معلوم تھا کہ وہ نیب سے سزا یافتہ ہیں تو اور دس سال کے لیے سرکاری عہدہ قبول کرنے کے اہل نہیں ہیں تو پھر انہوں نے او جی ڈی سی کے چیئرمین کا عہدہ کیسے قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ اُنہیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ اُن کا مقدمہ ختم ہوچکا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نیب کے حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جب اُنہیں معلوم تھا کہ ان افراد کے خلاف مقدمات دوباہ کُھل چُکے ہیں تو پھر ابھی تک اُنہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان افراد کی طرف سے پہلے سے دائر کیے گئے ضمانتی مچلکے این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کالعدم ہوچکے ہیں لہذا اُنہیں نئے ضمانتی مچلکے جمع کروانے ہوں گے۔

انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ ابھی ضمانتی مچلکے جمع کرواسکتے ہیں جس پر عدالت نے اُن کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ مچلکے متعلقہ عدالت میں جمع کروائے جائیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ تین یوم کے اندر متعلقہ عدالت میں نئے مچلکے جمع کروائے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عدنان خواجہ کو او جی ڈی سی ایل کا چیئرمین مقرر کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے اس کا از خودنوٹس لیا تھا کہ سزا یافتہ شخص کو کیسے اتنے اہم عہدے پر تعینات کردیا گیا جس پر حکومت نے عدنان خواجہ کی تقرری کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔

این آر او کے خلاف عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وفاقی سیکرٹری قانون مسعود چشتی کو عدالت میں طلب کیا اور اُنہیں ہدایات کی سوئس عدالتوں میں مقدمات جو این آر او کے تحت ختم کیے گئے تھے اُنہیں دوبارہ کھولنے کے لیے سمری وزیر اعظم کو بھجوائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے وزیر اعظم کو سمری بھیجنے کے لیے عدالت تین مرتبہ پہلے بھی احکامات جاری کرچکی ہے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت چوبیس ستمبر تک ملتوی کردی۔

Source

One thought on “برگیڈیئر امتیاز، عدنان خواجہ گرفتار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s