شب قدر کی تاریخ کا تعین

3200 by you.

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“شب قدر کو رمضان کےآخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو”
(صحیح بخاری)


صحیح بخاری ہی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا پھر درمیانی عشرہ میں ایک ترکی خیمہ میں کہ جس کے دروازے پر چٹائی لٹکی ہوئی تھی، اعتکاف کیا۔ (تیسرے عشرے کے شروع میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے چٹائی کو پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کر دیا اور اپنا سر باہر نکال کر لوگوں سے مخاطب ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے رات (لیلة القدر) کی تلاش میں پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا، پھر درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا، پھر میرے پاس کوئی (فرشتہ) آیا اور میری طرف یہ وحی کی گئی کہ (لیلة القدر کی) یہ رات آخری عشرہ میں ہے۔ تم میں سے جو شخص اعتکاف کرناچاہے تو وہ اعتکاف کرے۔ چنانچہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ اعتکاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا کہ وہ طاق راتوں میں ہے اور میں اس کی صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پھر جب اکیسویں شب کی صبح ہوئی اور اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک نماز پڑھتے رہے۔ اور بارش ہوئی تو مسجد ٹپکی اور میں نے مٹی اور پانی کو دیکھا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک کی چوٹی پر مٹی اور پانی کا نشان تھا اور وہ اکیسویں رات تھی۔
(صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب کو (خواب میں) شب قدر (رمضان کی) آخری سات راتوں میں دکھائی گئی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہوگئے ہیں اس لئے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری (طاق) راتوں میں تلاش کرے۔
(صحیح بخاری)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو، پھر اگر کوئی کمزوری دکھائے یا عاجز ہو جائے تو آخر کی سات راتوں میں سست نہ ہو۔
(صحیح مسلم)

سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب قدر دکھائی گئی تھی پھر بھلا دی گئی۔ اور میں نے (خواب میں) دیکھا کہ اس رات کی صبح کو میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ راوی نے کہا کہ ہم پر تئیسویں شب کو بارش برسی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر پھرے (یعنی صبح کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر پانی اور کیچڑ کا اثر تھا۔ اور سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تئیسویں رات کو شب ِ قدر کہا کرتے تھے۔
(صحیح مسلم)

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیلة القدر کا علم دیئے جانے سے قبل اسے ڈھونڈھتے تھے۔ جب درمیانی عشرہ گزر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ کھولنے کا حکم دیا تو وہ کھول دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بذریعہ وحی) یہ بتا دیا گیا کہ یہ آخری عشرہ میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ لگانے کا حکم کیا تو دوبارہ لگا دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے پاس آئے تو فرمایا: اے لوگو! مجھے لیلة القدر کا علم دے دیا گیا تھا اورمیں تمہیں بتانے کیلئے نکلا تھا کہ دو آدمی لڑتے ہوئے آئے جن کیساتھ شیطان بھی تھا، تو (اس کی تعیین) مجھے بھلا دی گئی۔ اب تم اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو(آخری عشرے کی) نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔
(صحیح مسلم)

سیدنا زِرّ بن حبیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمہارے بھائی عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ جو سال بھر تک جاگے گا، اس کو شب ِ قدر ملے گی تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، یہ کہنے سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگ ایک ہی رات پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں (بلکہ ہمیشہ عبادت میں مشغول رہیں) ورنہ وہ خوب جانتے تھے کہ وہ رمضان میں، آخری عشرہ میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے۔ پھر انہوں نے بغیر ان شاء اللہ کہے قسم اٹھا کر کہا کہ کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابو منذر! تم یہ دعویٰ کس بنا پر کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ایک نشانی یا علامت کی وجہ سے جس کی خبر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، وہ یہ کہ اس کی صبح کو آفتاب جو نکلتا ہے تو اس میں شعاع نہیں ہوتی (مگر یہ علامت اس رات کے ختم ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے)۔
(صحیح مسلم)

خلاصۂ تحقیق:

اس رات کی حتمی تعین کے بارے میں علمائے کرام کے بہت سے اقوال ہیں جن کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اور ان کی تعداد 46تک جا پہنچتی ہے۔ آخر میں اپنی رائے دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ :
“ان سب میں ترجیح اس قول کو حاصل ہے کہ یہ مبارک رات رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں ہوتی ہے۔ اور یہ کسی ایک رات میں نہیں بلکہ ہر سال (ان آخری پانچ طاق راتوں میں ایک سے دوسری رات میں) منتقل ہوتی رہتی ہے۔ ویسے جمہور علمائے کرام نے ستائیسویں رات کو زیادہ ترجیح دی ہے جبکہ فقہائے شافعیہ نے اکیسویں رات کو، تاہم صحیح تر یہ ہے کہ لیلۃ القدر کیلئے کوئی خاص تاریخ متعین نہیں کی جاسکتی۔ علماء نے کہا کہ اس رات کے مخفی ہونے میں یہ حکمت ہے کہ اس کی تلاش کیلئے کوشش کی جائے اور (خصوصیت کے ساتھ) رمضان المبارک کی تمام آخری راتوں میں عبادت کی جائے کیونکہ اگر اس کا تعین کردیا جاتا تو پھر باقی راتوں میں عبادت کی رغبت نہ رہتی اور اسی رات پر اکتفا کرلیا جاتا”
(فتح الباری)

ان راتوں میں عبادت میں سخت محنت کرنی چاہئے اور نوافل و تلاوت، ذکر الہی و درود پڑھنے، توبہ و استغفار اور دعا میں خلوص دل سے مشغول رہنا چاہئے۔ اگر تمام رات جاگنے کی استطاعت نہ ہو تو جتنا ہوسکے جاگے۔ اگر خدانخواستہ یہ بھی نہ ہوسکے تو عشاء اور فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرے، کیونکہ حدیث میں وارد ہے کہ ایسا کرنے پر بھی تمام رات کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔

تنبیہہ:

ان راتوں کو مختلف قسم کی ہنگامہ آرائیوں، مثلاً جلسوں، اور دیگر محفلوں میں صرف کرنا حد درجہ بدبختی و محرومی کی علامت ہے۔ یہ رات سال میں صرف ایک مرتبہ آتی ہے اور (علاوہ فرائض و تراویح کے) تمام تر عبادات انفرادی طور پر افضل و بہتر ہیں۔

بعض جگہ دیکھا جاتا ہے کہ شب قدر کے حوالے سے اشتہارات اور دیگر ذرائع سے کچھ مخصوص عبادات لکھی جاتی ہیں جو بے بنیاد ہیں، شریعت مطہرہ میں اس رات کی کوئی مخصوص عبادت، (سوائے اس دعا کے جو آگے بیان ہوگی ان شاء اللہ) مقرر نہیں ہے۔ لہذا جس سے جس قدر ہوسکے اعمال صالحہ کرے مگر بدعات و رسومات سے اجتناب کرے۔ المدخل، کتاب الاعتصام میں ہے کہ اہل بدعت کی نہ دعا قبول کی جاتی ہے اور نہ عبادت۔

شب قدر میں کیا دعا مانگی جائے؟

شب قدر کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص یہ دعا بتلائی ہے:

اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی

ترجمہ: اے اللہ! آپ معاف کرنے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں پس میری خطائیں معاف کردیں۔
(سنن الترمذی ابواب الدعوات، ابن ماجہ کتاب الدعاء)

اس لئے چاہئے کہ رمضان المبارک کی آخری طاق راتوں میں بکثرت اس دعا کو ورد زبان رکھا جائے۔

آخری عشرہ میں عبادت میں زیادہ محنت کرنا سنت ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔
(بخاری)

تشریح: کمر کس لینے کا مطلب یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عشرہ میں عبادت الہی کیلئے خاص محنت کرتے، خود جاگتے گھر والوں کو جگاتے اور رات بھر عبادت الہی میں مشغول رہتے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل تعلیم امت کیلئے تھا۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا:
ترجمہ: بیشک اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ (الاحزاب ۲۱)
یوں تو ہمیشہ ہی عبادت الہی کرنا مسلمان پر لازم ہے تاہم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اس کی بہت تاکید بھی ہے، پھر لیلۃ القدر بھی اسی عشرہ کی کسی رات میں ہے، لہذا ان ایام میں جس قدر بھی عبادت کی جائے کم ہے۔

One thought on “شب قدر کی تاریخ کا تعین

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s