New Motorola FlipOut

Motorola officially announced the Youth guglofon with an unusual form factor and user interface MotoBlur integrated access to social networks Facebook, MySpace, Twitter and full support services Google. Motorola FlipOut – a very compact device. Its size at just 67 x 67 x 17. The upper part of the device with a touch screen (2.8 inches with a resolution of 320 x 240 pixels) rotates around one of the corners, opening the QWERTY keyboard. FlipOut managed OS Android 2.1, equipped with Wi-Fi module and A-GPS, electronic compass, 3.5mm jack for headphones, camera, 3 megapixel technology to support Kodak Perfect Touch, noise-canceling CrystalTalk PLUS, 512MB of internal memory and a memory card to 2GB kit. The device operates in quad-band GSM / EDGE and liaises third generation – HSPA 3G. About the price of the gadget so far nothing is known. More images after the break…
Motorola+Flipout+-+002.jpg

Motorola+Flipout+-+003.jpg

Motorola+Flipout+-+004.jpg

Motorola+Flipout+-+005.jpg

Motorola+Flipout+-+006.jpg

Motorola+Flipout+-+001.jpg

Advertisements

چاند کی تسخیر کے بارے میں چند مغالطے

ایسے میں جب کہ دنیا بھر میں چاند پر پہلے انسانی قدم کی چالیسویں سالگرہ منائی جارہی ہے،بعض حلقے چاند کی تسخیر پر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔ شکوک وشبہات کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ یہ 20 جولائی 1969ء کو اسی وقت سامنے آنا شروع ہوگئے تھے جب دنیا بھر میں ٹیلی ویژن پر نیل آرم سٹرانگ اور بز ایلڈرن کے چاند پر اترنے کے مناظر براہِ راست دکھائے جارہے تھے۔ چاند کی تسخیر پر اٹھائے جانے والے چند اہم اعتراضات کیا ہیں اور فلکیات کے ماہرین ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔ 1۔ جب خلاباز چاند پر امریکی پرچم لگا رہے تھے تو وہ لہرا رہا تھا جب کہ چاند پر تو ہوا ہے ہی نہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ پرچم ایک نازک سی المونیم کی سلاخ کے ساتھ نصب کرکے اس پول کے ساتھ لگایا گیا تھا جسے چاند کی سطح میں گاڑھنا تھا۔ سلاخ لگانے کا مقصد یہ تھا کہ پرچم کھلا رہے کیونکہ چاند پر ہوا کی عدم موجودگی میں وہ کھلی حالت میں نہیں رہ سکتاتھا۔جب پرچم کے پول کو چاند کی سطح میں گاڑھا جارہا تھا تو اس وقت المونیم کی سلاخ میں ہلکی سی تھرتھراہٹ پیدا ہوئی۔چونکہ چاند کی کشش ثقل زمین کے مقابلے میں بہت کم ہے، اس لیے وہ تھرتھراہٹ پول نصب کیے جانے کے کچھ دیر بعد بھی جاری رہی۔ جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ گویا پرچم ہوا سے لہرا رہا ہے۔ 2۔ چاند کی سطح پر کھڑے ہوکر اپالو کے خلابازوں نے جو تصویریں کھینچی تھیں، ان میں کہیں بھی ستارے دکھائی نہیں دے رہے تھے جب کہ پس منظر میں سیاہ آسمان دکھائی دے رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند گاڑی اس وقت اتری تھی جب قمری حساب سے دن کا وقت تھا اور سورج پوری طرح روشن تھا۔چنانچہ اس وجہ سے تصویر کھینچنے کے لیے کیمرے کے شٹر کی رفتار بہت زیادہ رکھی گئی تھی تاکہ کیمرے کے اندر کم سے کم روشنی داخل ہو اور زیادہ فاصلے پر واقع چیزوں کی تفصیلات سے گریز کیا جائے۔چاند پر اگرچہ ستارے کھلی آنکھ سے تو دیکھے جاسکتے ہیں لیکن وہ اتنے روشن نہیں ہوتے کہ کیمرے کی اس سیٹنگ پر ان کی تصویریں کھینچی جاسکیں۔ 3۔ چاند کی سطح پر اترتے وقت چاند گاڑی کی جو تصویریں کھینچی گئیں تھیں، ان میں اس جگہ پر کوئی گڑھا دکھائی نہیں دے رہا تھا جہاں چاندگاڑی اتری تھی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ چاندگاڑی ایک چٹان پراتری تھی جس پر گرد کی ایک باریک تہہ تھی۔ اس لیے وہاں پر گڑھا پڑنے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ جگہ نسبتاً کم سخت ہوتی تو بھی چاند کی سطح پر زمین کے مقابلے میں کشش ثقل کم ہونے کی وجہ سے اس جگہ پرچاند گاڑی کے اترتے اورپرواز کے وقت سطح پر پڑنے والا دباؤ زمین کے مقابلے میں بہت معمولی ہوتا ہے۔ 4۔ چاند گاڑی کا وزن 17 ٹن تھا، لیکن پھر بھی چاند کی سطح پر اس کا کوئی نشان نہیں پڑا۔جب کہ اس کے قریب ہی خلابازوں کے قدموں کے نشان ریت پر صاف دکھائی دے رہے تھے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ چاند گاڑی اترنے کے بعد ایک سخت چٹان پر پوری طرح ٹک گئی۔چاند کی سطح پر مٹی کی ایک باریک تہہ ہے۔ چاند گاڑی کے اترتے وقت سطح پر ہلکا سا جھٹکا لگنے کے بعد اڑنے والی گرد فوراً واپس بیٹھ گئی۔ اور جب خلابازوں نے چاند کی سطح پر اپنی چہل قدمی شروع کی تو ان کے قدموں کے نیچے وہی اڑ کر سطح پر بیٹھی ہوئی مٹی موجو د تھی۔جس کی وجہ سے تصویروں میں ان کے قدموں کے نشان ظاہر ہوئے۔ 5۔ چاند پر جہاں نہ تو نمی ہے، نہ ہی کوئی فضا ہے اور نہ ہی زیادہ کشش ثقل ہے، پھر بھی اس کی مٹی پر قدموں کے نشان غیر متوقع طورپر بہت اچھی طرح کیوں محفوظ ہوگئے گویا وہ کسی گیلی ریت پر بنے ہوں؟ ماہرین کہتے ہیں کہ چاند کی سطح پر ہوا کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ چاند کی باریک خشک مٹی پر قدموں کے جو نشان پڑیں گے، وہ اس طرح غائب نہیں ہوں گے جس طرح کہ زمین پرایسے ہی نشان ہوا سے غائب ہوجاتے ہیں۔ 6۔ جب چاند گاڑی ایگل نے چاند کی سطح پر سے پرواز کی تو اس کے راکٹ سے کوئی بھی شعلہ نکلتا دکھائی نہیں دیا۔جب کہ راکٹ کے اڑتے ہوئے اس میں سے شعلہ ضرور نکلتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ چاندگاڑی کے راکٹ انجن میں ایک خاص قسم کا ایندھن استعمال کیا گیاتھا جو ہائیڈرا زین (hydrazine)اور ڈائی نائٹروجن ٹیٹرو آکسائیڈ(dinitrogen tetroxide) کا آمیزہ تھا۔ یہ ایندھن جب جلتا ہے تو اس کا شعلہ دکھائی نہیں دیتا۔ 7۔ چاند کی سطح پر چہل قدمی کرتے ہوئے خلابازوں کی فلم کو اگرآپ تیز رفتار سے چلائیں تو وہ ایسا دکھائی دیتا ہے گویا اس کی فلم بندی زمین پر کی گئی تھی اور پھر اس فلم کی رفتار کم کردی گئی تھی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بظاہر یہ بات کچھ درست دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ 8۔ خلابازوں کو چاند کے اس سفر میں زمین کے اردگرد واقع ایک انتہائی تابکار دائرے وان ایلن(Van Allen) سے گذرنا پڑا جہاں سے ان کا زندہ بچ کر زمین پر واپس آجانا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اعتراض زیادہ تر ایک روسی خلاباز کے دعویٰ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز بہت کم وقت میں اس دائرے سے گذرا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ خلاباز،ایک محفوظ خلائی جہاز کے اندر موجودتھے، اس لیے ان پر تابکاری کے اثرات بہت ہی معمولی ہوئے ہوں گے۔ 9۔ چاند سے لائے جانے والے پتھر بالکل انٹارکٹیکا میں سائنسی تحقیقات کے دوران اکٹھے کیے جانے والے پتھروں جیسے ہیں؟ ماہرین کہتے ہیں کہ زمین پر چاند کے کچھ پتھر ملے ہیں لیکن وہ سب کے سب خشک اور جلی ہوئی حالت میں ہیں اور ان پر آکسیجن کے اثرات موجود ہیں، جیسا کہ شہاب ثاقب کے زمین کے مدار میں داخل ہونے کے وقت ہوتا ہے۔ ارضیات کے ماہرین مکمل یقین کے ساتھ یہ تصدیق کرچکے ہیں کہ اپالو 11 کے ذریعے لائے گئے پتھر لازمی طور چاند ہی سے لائے گئے ہیں۔ 10۔ چاند کی سطح پر تمام کے تمام چھ مشن نکسن انتظامیہ کے دور میں ہوئے۔ 40 سال کے دوران ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز تر ترقی کے باوجود کسی اور قومی لیڈر نے کبھی بھی خلابازوں کے چاند پر اترنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ نیل آرم سٹرانگ چاند کی سطح پر امریکی پرچم نصب کرنے کے بعد ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اس حوالے سے اٹھایا جانے والا سب سے عام اعتراض ہے۔ کیونکہ اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف رچرڈ نکسن کے دورِصدارت پر انگلی اٹھانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اپالو کی چھ پروازوں کے بعد چاند کو سرکرنے کی دوڑ جیتی جاچکی تھی اور اس مہم کے لیے فنڈز ختم ہوگئے تھے۔ سابق سویت یونین کو اس دوڑ میں کروڑوں ڈالر خرچ کر کے دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور دونوں جانب کے سیاست دانوں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ زمین کے نچلے مدار کےمشن، چاند پر جانے کی نسبت فوجی اور تجارتی لحاظ سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہیں۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن چاند کی تسخیر کے بارے میں غالباً سب سے دل چسپ اعتراض کسی شخص نے یہ کیا تھا کہ یہ لوگ چودھویں کے چاند پر گئے تھے، ہم تو جب مانیں گے اگر پہلی کے چاند پر اتر کر دکھائیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ناسا کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔

Jamil Hussain wants to connect with you on Yahoo!

Yahoo!
t192.jpg?ciAQ2PNBL9AJ2ElM
Hey ,
Jamil Hussain wants to connect with you on Yahoo!.
Start sharing what’s most important to you across the web. If you accept Jamil’s invite, you can see updates, photos and more.
Jamil Hussain
Islamabad, Islamabad
Accept & Get Started with Yahoo!
You can always change your settings or block this person.
If you don’t know this person report abuse/spam.
This invitation will expire in 180 days. You can also manage the notifications you receive from Yahoo!.

World’s Biggest Train Set !!!!

This is the world’s biggest train set which covers 1,150 square meters (12,380 square feet), features almost
six miles of track and is still not complete

Twin brothers Frederick and Gerrit Braun, 41, began work on the ‘Miniatur Wunderland’ in 2000

The set covers six regions including America , Switzerland , Scandinavia , Germany and the Austrian Alps

The American section features giant models of the Rocky Mountains, Everglades, Grand Canyon …

…and Mount Rushmore

The Swiss section has a mini-Matterhorn

The Scandinavian part has a 4ft long passenger ship floating in a ‘fjord’

It is expected to be finished in 2014, when the train set will cover more than 1,800 square meters (19, 376 sq ft)
and feature almost 13 miles of track, by which time detailed models of parts of France, Italy and the UK will have been added

It comprises 700 trains with more than 10,000 carriages and wagons

The longest train is 46ft long

The scenery includes 900 signals, 2,800 buildings, 4,000 cars – many with illuminated headlights.. .

…and 160,000 individually designed figures

Thousands of kilograms of steel and wood was used to construct the scenery…

The 250,000 lights are rigged up to a system which mimics night and day by automatically turning them on and off

The whole system is controlled from a massive high-tech nerve centre

In total the set has taken 500,000 hours and more than �8 million to put together, the vast majority of which has come from ticket sales

Gerrit said: “Our idea was to build a world that men, woman, and children can be equally astonished and amazed in”


We want 100 percent raise in pay – Teachers, LHWs, clerks on roads in Islamabad

“We want raise in salaries 100%”. Police on Tuesday resorted to baton charge and fired tear gas to push back hundreds of protestors leaving several injured including clerks, teachers and Lady Health Workers, who were demanding immediate increase in salary packages and regularization of their services.
Protesting against low salary packages and criminal silence of authorities concerned for not increasing salary package of the Lady Health Workers despite Government’s promise, a large number of LHWs were staging demonstration in front of the Parliament House on Thursday.

Later officials from All Pakistan Clerics Association, and teachers also joined them and they raised slogan in support of their demands including regularisation of their services and increase in their salary. Police used tear gas when the protesters attempted to move towards the President House, several protesters were injured and a number of protestors were arrested on the occasion. Even the scorching heat did not turned down their moral and they continued protest for hours.

The protest was held at a time when after a couple of days the Government is going to made budget announcement for the year 2010-11. The clerks were demanding 50 percent increase in their salaries, whereas it has been learnt that the Government had decided to give 15 to 20 percent raise in their salaries. Teachers working under Federal Directorate of Education (FDE) were also among the protestors demanding regularization of their services.
LHW programme was started in 1994 during Prime Minister Benazir Bhutto’s government and since then they had been waiting for regularisation of their services, said a Lady Health Supervisor. Despite passage of 16 years the Lady Health Workers Programme could not be regularised and the LHW are compelled to work on a meagre salary package of Rs 3190. While considering their services the Government promised to raise their salaries Rs 6000 but still the LHWs are getting the previous salary amount, “LHWP is the only national level programme having majority of females is being ignored by the Ministry”, LHWs are serving in every district including the remotest areas providing preventative, curative, and rehabilitation services but they were never given the due status and importance by any government.