قصاب تمام الزامات میں قصوروار

ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچنے والے مجرم اجمل قصاب کو خصوصی عدالت نے قصوروار قرار دیا ہے۔

ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تہیلیانی نے اجمل امیر قصاب کو ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے ، دہشت گردی کی سازش رچنے، قتل اور اقدام قتل جیسے مختلف الزامات کے تحت مجرم قرار دیا ہے۔

وہیں عدالت نے اس مقدمے کے دو ہندستانی ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین صابر شیخ کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر تمام الزامات سے بری کر دیا۔ قصاب کی سزا کا تعین عدالت منگل کو کرے گی۔

قصاب کے لیے جج کا فیصلہ

جج تہیلیانی نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ جس انداز میں دس ملزمین کشتی میں بحری راستے کے ذریعہ اے کے 47 رائفل ، بڑی مقدار میں اسلحہ ، دھماکہ خیز اشیاء بم لے کر آئے، منصوبہ بند طریقے سے انہوں نے پہلے ہی وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کی سروسیز حاصل کی، جی پی ایس انسٹرومنٹ کا استعمال کیا،یہ سب یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی معمولی جرم یا قتل کی سازش نہیں تھی بلکہ ہندستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش تھی۔

جج نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ اوبیرائے ہوٹل اور ناریمان ہاؤس میں جس طرح حملہ آوروں سے فون پر دوسری جانب سے ہدایت مل رہی تھی وہ بھی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ملک میں جنگ جیسی صورتحال پیدا کر دی گئی تھی۔

حکومت کو حملہ آوروں سے مقابلہ کرنے کے لیے این ایس جی کمانڈوز کو بلانا پڑا۔ جج نے اس موقع پر ٹیلی فون پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کو پڑھ کر بھی سنایا۔

جج تہیلیانی نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ سازش کا الزام ثابت کرنا بہت ہی مشکل امر ہوتا ہے کیونکہ اس کا عام طور پر کوئی عینی شاہد نہیں ہوتا لیکن اس کیس میں سازش کافی عرصہ پہلے سے رچی جا رہی تھی اور ممبئی پر حملہ کرنے تک یہ سازش جاری رہی۔

قصاب نے پولیس حراست کے دوران ایڈیشنل چیف مجسٹریٹ آر وی ساونت واہولے کے سامنے جو اقبالیہ بیان دیا اس کے بیشتر حصے کو عدالت نے قبول کر لیا۔ جج نے جواز دیا کہ مجسٹریٹ نے ملزم کو پولیس دباؤ سے نکلنے کے لیے کافی وقت دیا تھا اس لیے یہ بیان آزادانہ بیان کہا جا سکتا ہے۔

جج نے قصاب کو سی ایس ٹی اور گرگام چوپاٹی پر ہوئے سات قتل کے لیے قصاب کو براہ راست مجرم قرار دیا لیکن ساتھ ہی سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن کے علاوہ شہر کے دیگر ان تمام مقامات پر جہاں حملے ہوئے تھے، عدالت نے قصاب کو قتل کا مجرم قرار دیا۔ عدالت کے مطابق قصاب قتل کے لیے اکسانے جیسے الزام کے تحت مجرم ہے۔

جج تہیلیانی نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ اشوک کامٹے کے بدن سے نکلی گولی قصاب کے ساتھی مجرم ابو اسماعیل کی رائفل سے نکلی تھی یہ بات یلاسٹک رپورٹ سے ثابت ہو کی ہے لیکن جج نے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے اور انسپکٹر وجے سالکر کے بدن میں لگی گولیوں کے بارے میں کہا کہ وہ یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس کی رائفل سے نکلی تھی۔ شاید دونوں مجرمین میں سے کسی ایک کی رائفل سے۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے جج کے اس فیصلہ پر کھڑے ہو کر سوال کیا کہ کیا عدالت قصاب کو ان کے قتل کا ذمہ دار مانتی ہے ؟ جج نے کہا’بالکل‘۔

جج نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ عدالت یہ ثابت نہیں کر سکی کہ حملہ آوروں کو ہدایت دینے والے کہاں تھے لیکن کوبیر کشتی میں ملے سامان اور واقعاتی شواہد کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس وقت پاکستان میں تھے اور وہیں سے ہدایت جاری تھیں۔

فہیم انصاری اور صباح الدین کے لیے جج کا فیصلہ

عدالت نے قصاب کا فیصلہ سنانے کے بعد فہیم انصاری اور صباح الدین کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دونوں کے خلاف استغاثہ نے ثبوت اکٹھا نہیں کیے۔ جو ثبوت عدالت میں پیش کیے ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

استغاثہ کے کیس کے مطابق فہیم انصاری نے ممبئی کے ان مقامات کا ہاتھ سے نقشہ بنایا تھا جہاں حملے کیے جانے والے تھے اور یہ نقشہ انہوں نے نیپال جا کر دیا تھا۔اس کے لیے استغاثہ نے ایک گواہ پیش کیا تھا جس کی گواہی پر شبہ ظاہر کرتے وہئے عدالت نے کہا کہ انہیں تو شبہ ہے کہ گواہ کبھی نیپال گیا بھی ہو گا یا نہیں۔

عدالت ميں قصاب

سفید کرتے پاجامے میں ملبوس قصاب پورا وقت اپنا سر جھکائے بیٹھے رہے۔ جج نے ان دونوں ملزمین کو بری کرنے کے بعد قصاب کو کھڑے رہنے کا حکم دیا۔

قصاب کو انہوں نے بتایا کہ ‘ عدالت نے تمہیں خون کرنے اور پولیس اور سرکاری افسران کو مارنے کی سازش رچنے کا مجرم قرار دیا ہے۔’یہ ثابت ہو گیا کہ آپ نے مریدکے، منسیرہ اور مظفرآباد میں تربیت لی۔ آپ نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا جرم کیا وہ ثابت ہو گیا ہے۔ آپ نے اسی سازش کے تحت سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن ، کاما ہسپتال کے اندر اور باہر لوگوں کو قتل کیا یہ جرم ثابت ہو گیا ہے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے خون کیے اور لوگوں کو اکسایا یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے۔ آپ یہاں بغیر لائسنس اے کے فورٹی سین لے کر آئے، کسٹم اور اسمگلنگ قانون کے تحت آپ مجرم ہیں۔ آپ نے دہشت گردانہ کاروائی کی‘۔

قصاب اس دوران بھی بالکل خاموش کھڑے رہے۔ جج نے انہیں واپس لے جانے کی ہدایت دی۔

One thought on “قصاب تمام الزامات میں قصوروار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s