ZONG launched It’s New Offer!

ZONG has emerged as a committed player in the cellular market and has continued to stay one step ahead of the competition with its exciting tariffs and innovative services. Officially established on April 20, 2000, China Mobile Communications Corporation (China Mobile) has a registered capital of 51.8 billion RMB Yuan and assets of over 400 billion RMB Yuan. China Mobile Limited has set wholly-owned subsidiaries in 31 provinces (autonomous regions and municipalities directly under the central government) in China and went public in Hong Kong and New York Stock Exchanges. Currently, in terms of its market value, subscriber based and network coverage, China Mobile Limited is the largest among all the overseas listed companies.

ZONG once again has introduced a new and exciting offer  “Barah Recharge” which would allow Zong subscribers to “Say it all”

Advertisements

Jamshed Dasti resigns for holding fake degree

National Assembly’s Standing Committee on Sports chairman Jamshed Dasti has tendered resignation from his seat, report said Thursday. Dasti announced his resignation in front of the Supreme Court (SC) hearing a case regarding his fake MA Islamiat degree. Fazed and frayed Jamshed could not answer the volley of questions by the judges. Justice Khalilur Rehman Ramday sought him to tell names of Quranic paras, and surahs and mathematics table. On one occasion, Dasti told the wrong names of the first two surahs of the Holy Quran. Also, he could not respond appropriately a query regarding the duration of his religious education certificate.

The Supreme Court directed the Election Commission to arrange by-elections for two National Assembly and one provincial assembly seats which fell vacant after the resignation of three legislators accused of holding fake educational degrees.

A six-judge bench comprising Chief Justice Iftikhar Mohammad Chaudhry, Justice Chaudhry Ijaz Ahmed, Justice Khilji Arif Hussain, Justice Rahmat Hussain Jafferi, Justice Tariq Pervez and Justice Khalil-ur-Rehman Ramday took up petitions challenging the degrees of PPP legislator Jamshed Dasti (NA-178-III Muzafargarh) and Nazir Ahmed Jat (NA-167 Vehari) and Mohammad Ajmal (PP-63 Faisalabad) of the PML-Q.

The court also asked the secretary of Election Commission to issue within three days a notification about resignation of Jamshed Dasti, who also headed the National Assembly’s Standing Committee on Sports.

Mr Dasti, who had been in the limelight for his tough stance against officials of different sports bodies for their extravagant lifestyle and poor performance, was stopped from attending the assembly session for three days after he had a quarrel with Faisal Saleh Hayat of the PML-Q last year.

Nawabzada Iftikhar Ahmed Khan Babar, son of late Nawabzada Nasrullah Khan, had accused Jamshed Dasti of holding fake degree.

A disoriented and visibly disturbed Dasti informed the bench that he had done his Masters in Islamiat from Al-Shahadat Al Almiya, Multan, in 1998. But he failed to satisfy the court about the period he had spent in the religious institution to get the degree.

He answered wrongly when asked by Justice Ramday about the names of Quranic paras and surahs and arithmetic table. He could not answer when asked about the names of the first two surahs of the Holy Quran.

“Why are you (Mr Dasti) doing wrong things? You are a representative of the public,” Justice Ramday said. “Why do we always misuse the name of God and Islam?” he asked.

Justice Khilji Arif said: “You are disgracing the entire house (National Assembly).” Justice Tariq Parvez said that his (Dasti’s) action could do more harm than feared.

The bench later asked Abdul Rauf, the counsel for Mr Dasti, to consult his client. The counsel later informed the bench that Mr Dasti had tendered his resignation.

Similarly, Advocate Zulfikar Maluka, representing Nazir Ahmed Jat, informed the court about the resignation of his client. Mr Jat was accused of tampering with contents of the degree he had received from Al-Khair University, AJK.

Justice Ramday asked Advocate Maluka to inform his client that he might land in jail if his degree was found to be bogus. The court was also informed that Mohammad Ajmal had resigned from his PP-63 seat on March 24. He had obtained a Sanad (certificate) from Darul Uloom Mehmoodia Azeemabadi in Bannu.

Urdu:

یومِ پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللٰہ الرحمٰن الرحیم
23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک میں قراردادِ لاہور پیش کی گئی تھی، جو بعد میں‌ قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس دن آل انڈیا مسلم لیگ نے اے-کے فضلِ حق، جو بنگال کے وزیراعلیٰ تھے، کی پیش کردہ قرارداد منظور کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ اب متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندؤوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے۔ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کا تصور تو علامہ محمد اقبال نے پیش کیا تھا، لیکن مسلم لیگ نے اس قرارداد کو منظور کرکے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا، جو 7 سال بعد قیامِ پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔

کیا عہد کیا گیا تھا؟

قرارداد پاکستان اس بات کا عہد تھا، کہ مسلمانان ہند کے لئے ایک علیحدہ مملکت قائم کرنے کی جدوجہد کی جائے گی، جہاں پر وہ اپنے عقائد کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ واضح رہے کہ یہ قرارداد اس شخص کی موجودگی میں‌ پاس ہورہا تھا، جو کسی زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کا بہت بڑا حامی تھا۔ یہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے، جن پر ہندوؤں کی ذہنیت اور مکاری آشکار ہوگئی تھی، اور انہوں نے ہندوؤں کے ساتھ ساتھ برصغیر کے قوم پرست مسلمان علماء کا بھی مقابلہ کیا جو قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ ایسے ہی حالات کی طرف علامہ محمد اقبال نے اشارہ کیا تھا:

ملا کو ہے جو ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

موجودہ حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں‌ کہ ہم نے اس عہد کو بھلا دیا ہے جس کو پورا کرنے کی خاطر ہمارے آباؤاجداد نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی تھی۔ جس کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنے گھر، کاروبار اور جانیں تک قربان کردی تھیں۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا کہ سیکولر؟ کسی نے یہ نہیں‌ پوچھا تھا کہ فیڈریشن ہونا چاہیئے کہ کنفیڈریشن؟ کسی نے اپنے برانڈ کے اسلام کی نفاذ کی بات نہیں‌ کی تھی۔ یہ سارے سوال ہی بے محل اور غیر ضروری تھے۔ ان کے سامنے تو ایک ہی مقصد اور منزل تھی، اور وہ منزل تھی، ”مسلمانان ہند کے لئے الگ مملکت کا قیام“۔ سیکولر اور اسلامی ریاست کے بحث سے قطع نظر، ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کسی سیاسی نعرے کی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ ایک واضح اور متعین نصب العین تھا کہ ایسی جگہ جہاں‌ پر وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اگر صرف نماز، روزہ ہی کافی تھا، تو اس کی اجازت تو متحدہ ہندوستان میں بھی تھی۔

اس وقت ایک جذبہ تھا، ایک لگن تھی، ایک آرزو تھی، کہ کسی طرح مسلمانوں کو آزادی مل جائے اور وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس جدوجہد میں‌ علماء بھی تھے، انگریزی تعلیمی اداروں سے پڑھے ہوئے لوگ بھی تھے، نوکر پیشہ لوگ بھی تھے اور کھیتوں میں‌ کام کرنے والے بھی۔ ان سب نے مل کر اپنا کل، ہمارے آج پر قربان کردیا، تا کہ ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے سکیں۔

ہمارے موجودہ رویے

لیکن ہماری حالت کیا ہے؟ پتہ نہیں‌ کیوں 23 مارچ 1940ء کی تصاویر دیکھتے ہوئے مجھے 16 دسمبر 1971ء یاد آجاتا ہے، اور وہ تصویر جس میں‌ پاک فوج کے کمانڈر ہندوستانی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔ ہندوستانی فوجیوں کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ ہے، اور ہمارے جوانوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ جس دوقومی نظریہ کی بات ہم نے 23 مارچ 1940ء کو کی تھی، اس کا بدلہ انہوں نے ہم سے لے لیا۔ کتنی جلدی ہم نے اپنے آباؤاجداد کی محنت پر پانی پھیر دیا؟ کتنی آسانی سے ہم نے ” ادھر تم، ادھر ہم“ کے نعرے میں آدھے پاکستان کو کھو دیا؟

تھوڑا آگے چلیں تو پے درپے فوجی آمریتوں نے وطن عزیز کو جیسے مفلوج کرکے رکھ دیا۔ مانا کہ جممہوری آمر بھی کچھ کم نہ تھے، صرف وردی کا فرق تھا، لیکن بنیادی طور پر قائداعظم کے پاکستان کو جتنا نقصان آمریت نے پہنچایا ہے، اتنا جمہوریت نے نہیں دیا۔ کیونکہ ہم بطورِ قوم، سیاسی طور پر بالغ نہ ہوسکے۔ آج کل کی نوزائیدہ جمہوریت کی بچکانہ حرکتیں انہی آمریتوں کا شاخسانہ ہیں۔

ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو جمہوری حکومت کے ادوار میں سیاسی پارٹیوں کی آپس کی چپقلش ہو، یا فوجی حکمرانوں کے دور میں‌ امریکہ نوازی کی بات ہو، نقصان پاکستان کا ہی ہوا ہے۔ ہم نے ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگا کر سب سے پہلے پاکستان ہی کو داؤ پر لگا دیا۔ ایک طرف قائد اعظم تھے، جو مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے امریکی صدر پر دباؤ ڈالتے ہیں، اور ایک طرف ہم ہیں کہ ایک ہی فون کال پر ڈھیر ہوجاتے ہیں۔

رہی موجودہ حالات کی بات، تو جہاں پر یہ معلوم نہ ہو کہ دشمن کون ہے اور دوست کون؟ اس سے ابتر صورتحال کیا ہوسکتی ہے؟ کل تک جو دشمن تھے، ان کے لئے امن کی آشائیں ہیں، اور جو واقعی بلا معاوضہ سپاہی اور دوست تھے، ان کی لاشوں پر بیٹھ کر ہم اپنے ملک کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ جلتی پر تیل کا کام پاکستانی طالبان نے کیا، جو آئے روز معصوموں کی جان لے کر پتہ نہیں کونسے اسلام کی خدمت کر رہے ہیں؟

پس چہ باید کرد؟

اتنے گھمبیر اور پیچیدہ حالات میں اس عہد کو کیسے یاد رکھا جاسکتا ہے، جو پاکستان کے قیام کا باعث بنا۔ مایوس ہونا بہت آسان ہے، اور اس کے لئے کافی سارے وجوہات بھی ہیں۔ اس طرح کے تبصرے ہمیں‌ آئے روز سننے کو ملتے ہیں، کہ خاکم بدہن، اب پاکستان کا قائم رہنا مشکل ہے۔ لیکن کیا مایوس ہونے سے ہم ان مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے جن میں‌ ہم آج گھرے ہوئے ہیں؟علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:

خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تُو، زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تُو ہے

ہم ہر سال 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے طور پر مناتے ہیں۔ کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ آخر کیوں ہم اس دن کو مناتے ہیں؟ کیا گھر پر پاکستان کا پرچم لگا کر، فوجی پریڈ دیکھ کر اور دفتر سے چھٹی لے کر اس دن کا حق ادا ہوجاتا ہے؟ ہر گز نہیں۔

اگر ہم اس سال 23 مارچ کا دن ایک الگ طریقے سے منائیں، ایک مختلف انداز سے منائیں، جس میں سادگی بھی ہو اور وقار بھی ہو، امید کا پیغام بھی ہو اور دکھوں کا مداوا بھی، تو ہم اس مایوسی کی کیفیت سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم اگر اس دن کو عہد کریں کہ جس مقصد کی خاطر ہم نے پاکستان حاصل کیا تھا، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم مزید جدوجہد کریں گے۔وہ مقصد مسلمانوں کی ان کے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی سہولت تھی۔ جہاں‌ پر مذہب، مسلک، برادری اور علاقے کی بنیاد پر کسی سے کوئی برا سلوک نہ ہو۔ اس کام کے لئے کسی سیاسی تحریک کی ضرورت نہیں، کیونکہ سیاسی تحریکیں کچھ عرصے بعد اپنی موت آپ مر جاتی ہیں۔ اس کام کے لئے اخلاص، لگن اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم نے ہمیں ایمان، اتحاد، تنظیم جیسے رہنماء اصول دئے تھے، جن کو ہم نے ”سب سے پہلے پاکستان“ سے بدل دیا۔ آج ہمیں‌ پھر اپنے پرانے شناخت کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم کے بتائے ہوئے اصولوں کے بغیر پاکستان ادھورا ہے۔

آئیے ہم عہد کریں کہ

ہم پاکستان کو اپنے قائد کے دئے ہوئے راہنما اصولوں کی روشنی میں چلانے کی کوشش کریں گے۔
ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں‌ ایک اسلامی، فلاحی مملکت بنائیں گے۔
ہم پاکستان کو غیروں کی غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد کریں گے اور پُرامن طریقوں سے اغیار کے غلام حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کریں‌ گے۔
ہم آپس کے اختلافات بھلا کر پہلے مسلمان، پاکستانی اور بعد میں‌ پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان ہونے کا عملی مظاہرہ کریں گے۔
ہم اپنی آنے والی نسلوں‌ کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینے کے لئے جدوجہد کریں‌ گے، تاکہ وہ اپنے دین کی پیروی کرتے ہوئے باقی اقوام سے ترقی کی دوڑ میں‌ بھی مسابقت کریں۔

اور آخر میں سب مل کر یہ دعا کریں کہ اے اللٰہ، ہمارے پیارے پاکستان کو ہمیشہ قائم رکھنا، ہمیں دوستوں اور دشمنوں میں‌ تمیز کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں‌ آپس کی لڑائیوں، اور نفاق سے بچا، ہمیں اسلام کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

Transport strike on in twin cities

Transport strike on in twin cities Rawalpindi— Commuters had to face severe difficulties in twin cites of Rawalpindi and Islamabad due to transporters strike against cancellation of revised fares on Saturday.
Allied Transport Union has said that the chief commissioner is not entitled to cancel the fare order and called for reversal of the cancellation.  It is worth mentioning here that around 5,000 mini buses and coaches ply on 30 routes in the twin cities of Rawalpindi and Islamabad, however, the commuters had to face difficulties owing to the strike.

The administration had cancelled the revised fares after two-day violent protests by students. Allied Transport Union leader Sultan Awan while talking to a Private TV Channel said that vehicles would return to roads only when law and order situation is be improved.

The absence of public transport vehicles caused great hardship to the citizens who were forced to travel on the cabs, which took full advantage of the situation and charged the passengers at will.

Ahmed Kashif Saeed, a resident of Islamabad, said “taxi drivers always ask you for a minimum of Rs150 if you are travelling from Zero Point to Peshawar Mor.”

A general impression is that Police are responsible for checking drivers from overcharging. However, the Traffic police claimed that the issue did not fall under their jurisdiction.

“We are aware of the problem but we have no control over taxi drivers,” said an official of the Islamabad Traffic Police help line.

He said they would not entertain any complaint regarding yellow cabs. “We would listen to you only if you are being charged higher fares by public transport vehicles.” He said it was up to the passenger as at what fare he hires a cab.“Yellow cab drivers are issued the commercial vehicle licence by the motor vehicle inspector, so they are not under our authority,” he claimed. Online

Bonsai

It is the art of dwarfing trees or plants and developing them into an aesthetically appealing shape by growing, pruning and training them in containers according to prescribed techniques. Container-grown plants, including trees and many other kinds of plants, have a history stretching back at least to the early times of Egyptian culture – Pharaoh Ramesses III donated gardens consisting of potted olives, date palms, and other plants to hundreds of temples. Pre-Common-Era India used container-grown trees for medicine and food.

A tree planted in a small pot is not a bonsai until it has been pruned, shaped, and trained into the desired shape. Bonsai are kept small by careful control of the plant’s growing conditions. Only branches important to the bonsai’s overall design are allowed to remain and unwanted growth is pruned away. Roots are confined to a pot and are periodically clipped. And bonsai may live to be hundreds of years old.

SURESH PHILIP