برقعہ اور بِکنی

’’میں نے اپنے کمرے کی دیوار پر دو مختلف عورتوں کی دوتصویریں ایک ساتھ لگارکھی ہیں۔ ایک تصویر ایک برقعہ پوش خاتون کی ہے جو سرسے پیر تک اس طرح ڈھکی ہوئی ہے کہ کوئی اس کا کچھ نہیں دیکھ سکتا۔ دوسری تصویر میں ایک عورت کے جسم پر صرف بِکنی ہے اور ہر کوئی اس کا سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔ یہ دو انتہائیں نام نہاد ’’تہذیبی کشمکش‘‘ کی مظہر ہیں۔ کسی بھی کلچر میں عورت کا کردار مرکزی حیثیت رکھتاہے۔ میں مسلم خواتین کی صورت حال کا نہ تو ماہر ہوں نہ برقعے کا وکیل ہوں۔ البتہ ان اقدار کا دفاع کرتا ہوں جن کی نمائندگی برقعہ کرتاہے۔ میرے نزدیک برقعہ عورت کی پاکیزگی اور تقدیس کا غماز ہے۔ مسلم عورت کا محورِ توجہ اس کا گھر ہے جسے وہ بناتی اور چلاتی ہے۔ بچوں کی پرورش اور بڑوں کی مدد کرتی ہے۔ اس کے برعکس بِکنی پوش عورت عملاً عریاں ہوتی ہے۔ شارعِ عام پر اور ٹی وی پر لاکھوںکے سامنے اپنی نمائش کرتی ہے۔ عملی اعتبار سے وہ ایسی پبلک پراپرٹی ہے جو کسی کی نہیں لیکن سب کی ہے۔ وہ خود کو لگاتار سرِبازار بیچتی رہتی ہے۔ امریکہ میں عورت کا تہذیبی پیمانہ اس کی جنسی کشش ہے۔ اس کشش کے معدوم ہوتے ہی وہ منظر سے غائب ہوکر متعدد مصیبتوں میں گھرجاتی ہے۔ کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔‘‘

موازنہ کس کا ہے

برقعے اور بِکنی کا یہ موازنہ کسی مسلم مبصر نے نہیں بلکہ مغرب کے مشہور عالم مبصر ہنری مکاؤ نے کیا ہے۔ (ایچ ای این آر وائی ایم اے کے اوڈبلیوڈاٹ کام).   ہنری مکاؤ کنیڈا کے سوئٹزرلینڈ نژاد شہری ہیں اور مغرب کی صورت حال خصوصاً وہاں ہونے والی سازشوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مذہباً عیسائی ہیں۔ عراق اور افغانستان پر امریکی قبضے کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ مسلمانوں کو ان کے قدرتی وسائل اور مذہبی اقدار سے محروم کردینے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ یہودیت کو وہ اسلام کے ساتھ عیسائیت کی دشمن بھی قرار دیتے ہیں۔ فیمنزم یعنی مغرب کی تحریک نسواں کو وہ انسانی سوسائٹی کو غیرمستحکم کرنے کی تحریک قرار دیتے ہیں۔ مکاؤ کے اس موازنے پر انہیں قارئین کی آراء بھی موصول ہوئی ہیں۔ اکثر نے اس پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یہاں تک کہ مکاؤ کے وہ حریف مبصرین جو اسلامی اقدار کے خلاف ہمیشہ لکھتے اور بولتے ہیں، نرم لہجہ اختیارکررہے ہیں۔ یعنی پیر ے جیسے اسلام دشمن کو کہنا پڑاکہ ’’برقعہ اور بِکنی دونوں ہی عورت کی غلامی کی علامت ہیں۔‘‘ (جب کہ پیرے کے نزدیک اب تک صرف مسلم عورت غلام اور مظلوم تھی) امریکہ کے ایک نوجوان اور اس کی گرل فرینڈ نے لکھا ہے کہ اس تجزیہ نے انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیاہے۔

اس یقین کو تقویت ملی

ہنری مکاؤ کے اس تجزیے سے اس یقین کو ایک بار پھر تقویت ملتی ہے کہ انسانوں کی تیسری آنکھ اس صورت حال کو گہرائی اور غیرجانبداری کے ساتھ دیکھ رہی ہے جو اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف مغربی سازشوں نے پیدا کررکھی ہے۔ جہاں دنیا کے اکثر ممالک اور وہاں کے شہریوں نے امریکی استعمار کے عالمی ایجنڈے کو شعوری یا غیرشعوری طورپر قبول کرکے خود کو اس کی ذہنی غلامی میں دے رکھا ہے وہیں دنیا کے دوراندیش اور انصاف پسند نفوس اس صورت حال پر فکرمند ہیں۔ خود امریکہ اور یورپ میں ایسے انسانوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہاہے جو اسلام کے خلاف امریکی مہم پر آواز اٹھارہے ہیں اور امریکی استعمار کے ایجنڈے کے خطرناک نتائج سے دنیا کو خبردار کررہے ہیں۔ ایک خاصا طبقہ ایسا ہے جو اسلامی اقدار کے خلاف مغربی مہم اور مسلم ملکوں پر امریکی زیادتیوں کی وجہ سے اسلام کی طرف متوجہ ہوا ہے اور دیانتداری کے ساتھ دیکھنا چاہتاہے کہ اسلامی عقیدے اور مغربی کلچر میں کیا بنیادی فرق ہے۔ ہنری مکاؤ کے مشاہدات سے اس طبقے کو کافی مدد مل سکتی ہے۔ ضرورت ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے نوجوان اس قسم کے مشاہدات کو بڑے پیمانے پر دوسروں تک پہنچائیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s