خوفزدہ دہشت گرد

کمانڈو سٹائل دہشت گرد حملہ مناواں پولیس مرکز پر ہو،

جی ایچ کیو پر ہو یا سری لنکن ٹیم کے خلاف ہو۔سرکاری
بیان ایک ہی رہتا ہے

خودکش حملہ آور چاہے لنڈی کوتل کی خاصہ دار بیرک ، پشاور کے خیبر بازار یا اسلام آباد میں عالمی ادارہ خوراک کے دفتر میں پھٹے، بارودی ٹرک چاہے میریٹ اسلام آباد یا پرل کانٹی نینٹل پشاور میں گھسے، یا کمانڈو سٹائل دہشت گرد ایکشن مناواں پولیس مرکز اور سری لنکن ٹیم کے خلاف ہو۔سرکاری بیان ایک ہی رہتا ہے۔

دہشت گرد گھبراگئے ہیں اور بدحواسی میں یہ حملے اپنی کمزوری چھپانے کے لیے کررہے ہیں۔ دہشت گردوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اب ان کےگرد سکیورٹی فورسز کا دائرہ تنگ ہوچکا ہے۔ پوری قوم ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہے۔اس لیے ان کے یہ حملے بجھتے ہوئے چراغ کی آخری بھڑکتی ہوئی لو ہیں۔ان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ایسے حملے ابھی اور ہوں گے۔لیکن دہشت گردی کو بالاخر جڑ سے اکھاڑ دیا جائےگا۔
اگر سرکاری بیانات پر یقین کرلیا جائے تو پھر جی ایچ کیو راولپنڈی پر ہونے والا حملہ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے۔یعنی درجن بھر دہشت گردوں نے ایک ماہ قبل اسلام آباد کے نزدیک اعوان ٹاؤن میں ’گھبرا‘ کر ایک مکان کرائے پر لیا۔ بیس پچیس روز تک ’ بدحواسی‘ کے عالم میں جائے واردات کے نقشے بنائے اور جی ایچ کیو کے اطراف سروے کیا۔’انتہائی خوفزدہ‘ ہوکر فوجی ودریاں پہنیں اور ’دہشت زدہ‘ ہوکرایک موٹر سائیکل اور سوزوکی وین میں جی ایچ کیو کی دو حفاظتی چوکیاں پار کیں اور کانپتے ہاتھوں سے دو گرینیڈ پھینک کر چھ فوجی افسروں اور جوانوں کو ہلاک کردیا۔

اس دوران دہشت گردوں کے کچھ ساتھی بھی مارے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر باقی دہشت گردوں کے’ہاتھ پاؤں پھول گئے‘ اور انہوں نے دو فوجی عمارتوں میں گھس کر تیس کے لگ بھگ لوگوں کو انیس گھنٹے کے لیے یرغمال بنا لیا۔

دہشت گردوں کی اس ’بدحواسانہ دندناہٹ‘ پر سرکاری طفل تسلیوں پر مجھے وہ قصہ یاد آرہا ہے کہ ایک حکیم صاحب کے پاس ڈائریا کا مریض آیا۔حکیم صاحب نے کہا یہ گولیاں استعمال کرو انشااللہ افاقہ ہوگا۔ حکمت میں چونکہ مرض کو دبا کر نہیں بلکہ ابھار کا ختم کیا جاتا ہےلہذا دوا کے استعمال سے اگراور دست آئیں تو گھبرانا نہیں۔

دو روز بعد مریض کا بیٹا حکیم صاحب کے پاس آ کر شکایتی لہجے میں بولا کہ ابا کو تو دوا کے استعمال کے بعد اتنے دست آئے ہیں کہ چارپائی سے لگ گئے ہیں۔حکیم صاحب نے کہا گھبراؤ نہیں دوا اثر کررہی ہے اور مرض کو باہر نکال رہی ہے۔ابھی اور دست آئیں گے پھر افاقہ شروع ہوجائےگا۔

تین روز بعد مریض کا بیٹا پھر حکیم صاحب کے پاس آیا یہ بتانے کے لیے کہ ابا کا انتقال ہوگیا ہے۔حکیم صاحب نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا مرنا تو ایک دن سب کو ہے شکر ہے ان کے دست بند ہوگئے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s