عوام کو ملا کیا ؟ کدو

پاکستان میں بظاہر ایک متفقہ آئین ہونے کے باوجود مرکز اور صوبے ہمیشہ وسائل کی تقسیم پر ایک دوسرے سے شاکی کیوں رہتے ہیں۔ایک دوسرے کو حقوق غصب کرنے یا استحقاق سے زائد حصہ لینے کا الزام کیوں دیتے رہتے ہیں۔ اسکی ایک بنیادی وجہ آڑھتی سسٹم ہے۔

 مثال کے طور پر دنیا جب اتنی پیچیدہ نہیں تھی تو کسان فصل اگاتا تھا اور اس فصل میں سے اپنے استعمال کا حصہ علیحدہ کر کے باقی فصل قصباتی منڈی میں لے آتا تھا اور مناسب منافع پر صارف کو فروخت کردیتا تھا۔لیکن آبادی ، شہر اور روزمرہ مسائل بڑھنے کے سبب بیچ میں آڑھتی آگیا اور سارا کام خراب ہوگیا۔آڑھتی نے کسان کو قرضہ ، کھاد اور بیج بھاری سود پر دینا شروع کیا۔پانچ روپے کلو کا ٹماٹر ڈھائی روپے میں اٹھایا۔منڈی میں لا کر زخیرہ کیا۔اس ٹماٹر کو دس روپے کیلو میں تھوک فروش کو فروخت کیا۔تھوک فروش نے یہ ٹماٹر پندرہ روپے میں پرچون والے کو دیا اور پرچون فروش نے جیسا موقع لگا بیس سے چالیس روپے میں ہمیں اور آپ کو بیچ دیا۔اب جس کسان نے یہ ٹماٹر اگایا تھا وہی کسان مالی طور یہی ٹماٹر مارکیٹ سے خریدنے کے قابل نہیں رہا۔

 ایک اور مثال لیجئے۔مرکزی حکومت ایک صوبے کو ایک کلومیٹر سڑک بنانے کے لیے سو روپے دیتی ہے۔اس میں سے بیس روپے، سو روپے دینے والے وفاقی عملدار، وزیرِ اعلی، متعلقہ وزیر یا فیصلہ ساز بیوروکریٹ میں بٹ جاتے ہیں۔اب جو اسی روپے بچے اس میں سے چالیس روپے ٹھیکہ منظور کرنے والے محکمے میں اوپر سے نیچے تک بٹ گئے۔اب بچے چالیس روپے ان میں سے پندرہ روپے ٹھیکے دار نے منافع یا مہنگائی کے سبب لاگت بڑھنے کے بہانے رکھ لیے۔اب بچ گئے پچیس روپے جس کی سڑک بنا دی گئی۔کوئی بتائے کہ جو سڑک سو روپے میں بننی تھی وہ پچیس روپے میں کس معیار کی بنے گی۔ یہی فارمولا وسائل اور حقوق کی تقسیم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔اگر انیس سو تہتر کے متفقہ آئین پر ایمانداری سے عمل ہوتا تو آج پاکستان کا شمار مضبوط وفاقی و جمہوری ممالک میں ہوتا۔لیکن ہوا یہ کہ اس آئین کو جنگل کے آئین کی بھاری کتاب تلے دبا دیا گیا۔آئین میں کس کے کیا حقوق اور کیا ذمہ داریاں اور ان حقوق اور ذمہ داریوں کی بجا آوری کا کیا طریقہ ہوگا۔سب کچھ موٹے موٹے حروف میں واضح انداز میں درج ہے۔لیکن ہوا کیا ؟ فوج نے کہا افغانستان، بھارت اور ایٹمی پروگرام پر اس کی پالیسی کو ماننا ہوگا۔ایجنسیاں بھلے کاغذی طور پر وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہوں گی لیکن اصل میں وہ خود کو جوابدہ ہیں۔طاقتور وزیرِ اعظم نے کہا صدر پارلیمنٹ کا حصہ نہیں میرا چپراسی ہے۔طاقتور صدر نے کمزور وزیرِ اعظم سے کہا تو میرا چپراسی ہے۔فوج نے ان دونوں سے کہا آپ دونوں کا آقا راولپنڈی میں بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں کہاں کے حقوق اور کیسی وسائل کی تقسیم ؟ وفاقی شیرنی جس نے فوج ، بیوروکریسی اور مثبت ذہن رکھنے والے سیاست کاروں کے آڑھت آمیز اختلاط سے جنم لیا۔ اس شیرنی نے وسائل کے شکار کے چار حصے کیے اور باقی جانوروں سے کہا کہ ایک حصہ تو بحیثیت شکاری میرا ہے۔دوسرا حصہ جنگل کے بادشاہ کا ہے۔تیسرا میرے بچوں کا ہے۔اور چوتھا یہ پڑا ہے جس میں ہمت ہو اٹھالے۔۔چنانچہ جس جانور میں جتنا زور تھا وہ اتنا ہی بڑا بوٹا توڑ کر لے بھاگا۔اور جو کمزور تھا وہ کونے میں بیٹھ کر اپنے ہی تلوے چاٹنے لگا۔ سو روپے کے قومی بجٹ میں سے پچاس روپے تو گذشتہ اور حالیہ حکمرانوں کے لیے گئے اندھا دھند ملکی وغیر ملکی قرضوں کے بیاج اور کنسلٹنسی کی نذر ہوجاتے ہیں۔پچیس روپے دفاع کے تھیلے میں ڈل جاتے ہیں۔بقیہ پچیس روپے میں سے بیس روپے سرکاری ڈھانچے کی تنخواہوں اور مراعات کے بلیک ہول میں گر جاتے ہیں۔باقی رھ گئے سو میں سے پانچ روپے۔اس پانچ روپے میں سےاٹھارہ کروڑ لوگوں کو کیا ملتا ہے ؟   کدو 

 کیا مسئلے ایسے ہی حل ہوتے ہیں ؟؟

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s