حقوق زوجیت ادا کرنے کا موقع دیا جائے

federal_shariat_court

شوہر کی لمبی مدت تک غیر حاضری یا آپس میں رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی بُرائیاں جنم لے سکتی ہیں
وفاقی شرعی عدالت کے لارجر بینچ نے ملک کی تمام جیلوں کے حکام سے کہا ہے کہ قیدیوں کو حقوق زوجیت ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے جیل کے اندر بھی بندوبست کیا جاسکتا ہے اور اس کے علاوہ قیدی کو اُس کی واپسی کی شرط پر مختصر رہائی دی جاسکتی ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کے لارجر بینچ نے یہ فیصلہ جیل قوانین کی شرعی حیثیت کے حوالے سے دائر درخواستوں پر دیا۔ یہ درخواستیں سنہ 1992 میں ڈاکٹر اسلم خاکی، مختار شیخ اور ماسٹر اعجاز حسین نے دائر کی تھیں۔
جسٹس علامہ فدا محمد خان، جسٹس صلاح الدین مرزا، جسٹس ظفر یٰسین اور جسٹس افضل حیدر پر مشتمل وفاقی شرعی عدالت کے لارجر بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دو صوبوں کے علاوہ جیل میں شادی شدہ قیدیوں کے لیے حقوق زوجیت ادا کرنے کی سہولت نہیں ہے جس کی وجہ سے لواطت اور منشیات جیسے جرائم جنم لیتے ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ شوہر کی لمبی مدت تک غیر حاضری یا آپس میں رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی بُرائیاں جنم لے سکتی ہیں اس لیے قیدیوں کو اپنی شریک حیات کے ساتھ ملنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جیل سے متصل کوئی ایسی موزوں جگہ نہیں بنائی گئی جہاں پر قیدی اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرسکیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جیل سے متصل مخصوص جگہ تعمیر کی جائے تاکہ قیدی تنہائی میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ گھریلو معاملات پر گفتگو کرسکیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ بہاولنگر میں مجوزہ اوپن جیل میں ابتدائی طور پر طویل مدت کی سزا بھگتنے والے اچھے کردار کے حامل پانچ سو قیدی لے جائے جائیں اور اُن کی بحالی اور آبادکاری کے علاوہ زراعت کی ترقی میں بھی اُن سے کام لیا جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہر صوبہ اوپن جیل کی تعمیر کے لیے زمین آلاٹ کرے اس حوالے سے امریکہ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا ہے۔
دو صوبوں کے علاوہ جیل میں شادی شدہ قیدیوں کے لیے حقوق زوجیت ادا کرنے کی سہولت نہیں ہے جس کی وجہ سے لواطت اور منشیات جیسے جرائم جنم لیتے ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت
عدالت نے ان درخواستوں پر اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سزائے موت کے قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک احکام شریعت کے منافی ہے۔ تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو اے، بی اور سی کلاس میں تقسیم کرنا شرعی احکام کے خلاف نہیں ہے۔
قیدی کو سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعدصرف اُس وقت سزائے موت کا قیدی قرار دیا جائے جب اُس کی توثیق ہائی کورٹ یا فیڈرل شریعت کورٹ نے کی ہو۔
عدالت کا کہنا تھا کہ جیل جرائم میں جیل حکام کے فیصلوں کے خلاف قیدیوں کو اپیل کرنے کا حق ملنا چاہیے اور اس حوالے سے سیشن جج کی عدالت موزوں ترین فورم ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ قیدی کو صوبے کے اندر ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کرنے کا باقاعدہ حکم جاری ہوگا جس کی نقل قیدی کو فراہم کی جائے گی تاکہ اگر وہ اپیل کرنا چاہے تو وہ سیشن کورٹ میں اپیل کرسکے۔
قیدیوں کو روز مرہ ملنے والی تین وقت کی خوراک کے لیے مقرر کی گئی رقم کو ناکافی قرار دیا گیا ہے اور عدالت نے تجویز دی ہے کہ یہ رقم ایک سو روپے تک کردی جائے۔
جیل قوانین میں قیدی پر چیک جاری کرنے کی پابندی کو احکام اسلام کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

ان درخواستوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کی سماعت اسلام آباد کے علاوہ لاہور اور کراچی میں بھی کی گئی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مستند علماء کرام اور مشیران کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کا مؤقف بھی سُنا گیا۔

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s