کچھ آئینی تجاویز

ان دنوں پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی ستہرویں ترمیم سمیت آئین کی کئی متنازعہ شقوں کا جائزہ لے کر انکےان دنوں پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی ستہرویں ترمیم سمیت آئین کی کئی متنازعہ شقوں کا جائزہ لے کر انکے معقول متبادلات تجویز کرنے کا کام کررہی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بحیثیت ایک عام شہری عہدِ حاضر کی حقیقتوں کی روشنی میں کچھ تجاویز میری طرف سے بھی پیشِ خدمت ہیں۔

 مثلاً انیس سو تہتر کے آئین کے دیباچےکا پہلا جملہ ہے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ تعالی کی امانت ہے اور پاکستان کے عوام یہ امانت اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے خدا کی طے کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جملہ یوں ہونا چاہئے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ تعالی کی امانت ہے اور پاکستان کے عوام یہ امانت سول و فوجی اسٹیبلشنمٹ یا انکے بااعتماد منتخب نمائندوں کے ذریعے ، امریکہ کی طے کردہ حدود میں رہتے ہوئے خدا کے نام پر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ آگے چل کر دیباچے میں کہا گیا ہے کہ آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف اور جمہوری اصولوں کو اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہ کر پوری طرح اپناتے ہوئے جہاں مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات کو قرآن و سنہ کے مطابق گذارنے کے اہل ہوں گے وہیں اقلیتوں کے لیے بھی ایسے قوانین تشکیل دیے جائیں گے جن کے تحت وہ اپنے عقائد پر آزادی سے عمل پیرا ہوکر اپنی ثقافت و اقدار کو ترقی و تحفظ دے سکیں۔ بدلے ہوئے پاکستان میں مذکورہ آئینی جملہ یوں ہونا چاہئے کہ اگر نان سٹیٹ ایکٹرز ، سیاسی و عسکری و قبائیلی و اقتصادی مافیا اور بیرونِ پاکستان عناصر کے ہاتھوں اغوا، آزادی ، جمہوریت ، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اصول ریاستِ پاکستان بچانے میں کامیاب ہوگئی تو پھر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان اصولوں کی پوری پاسداری کی جائے گی اور جیسے ہی مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات قرآن و سنہ کے مطابق گذارنے کے قابل ہوں گے اقلیتوں کے لیے بھی ایسی قانون سازی کی جائے گی جس کے تحت و اپنے عقائد و اقدار پر آزادی سے عمل پیرا ہوسکیں۔ آگے چل کر آئینی دیباچے میں درج ہے کہ شہریوں کو قانون اور عمومی اخلاقیات کے دائرے میں سماجی، اقتصادی و سیاسی انصاف، قانون کے روبرو مساوی سلوک، آزادی اظہار، تنظیم سازی، اور عقیدے کی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔اور یہ کہ عدلیہ کی آزادی کا مکمل تحفظ کیا جائےگا۔ سن دو ہزار نو کے پاکستان کی آئینی ضرورت یہ ہے کہ مذکورہ پیرا اس طرح سے آئین میں شامل کیا جائے کہ شہریوں کو سماجی اقتصادی و سیاسی انصاف، قانون کے سامنے مساوی سلوک، آزادی اظہار، تنظیم سازی، اور عقیدے کی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے بشرطیکہ ان حقوق کا استعمال مقامی انتظامیہ ، پولیس اور بااثر گروہوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے۔اور یہ کہ عدلیہ کی آزادی کا تحفظ عدلیہ کے آزاد ہونے کے بعد پوری طرح سے کیا جائےگا۔ دیباچے کے بعد آئینِ پاکستان کا تعارفی یا پہلا باب چھ شقوں پر مشتمل ہے۔ شق نمبر تین کے مطابق ریاست ہر ایک کو اسکی اہلیت کے مطابق اور ہرایک کو اسکی کارکردگی کے مطابق کا اصول اپناتے ہوئے استحصال کی تمام شکلوں کے خاتمے کو یقینی بنائےگی۔ اس شق کو یوں ہونا چاہئے کہ سفارش، اثرو رسوخ ، دھمکی اور رشوت کی بنیاد پر جتنی بھی آسامیاں اور مواقع پر ہونے سے بچ جائیں گے ان پر ہر ایک کو اسکی اہلیت اور ہرایک کو اسکی کارکردگی کے مطابق کا اصول لاگو ہوگا۔ شق نمبر چار کے مطابق کسی بھی شہری کے حقِ زندگی، جسمانی تحفظ یا حقِ املاک کو نقصان پہنچانے کا کوئی ماورائے قانون اقدام نہیں کیا جائےگا۔کسی بھی شخص کو ایسے کام سے نہیں روکا جائےگا جس کی قانون اجازت دیتا ہو اور کسی بھی شخص کو غیرقانونی کام پر مجبور نہیں کیا جائےگا۔ اس شق میں صرف یہ اضافہ ہونا چاہئے کہ اس کا اطلاق وفاقی و صوبائی عہدیداروں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نہیں ہوگا۔ تعارفی باب کی شق نمبر چھ کے مطابق جو شخص بھی یہ آئین توڑنے، یا اسکی کوشش یا سازش کرنے یا پھر آئین کو بزورِ طاقت یا دیگر غیرآئینی طریقوں سے تبدیل کرنے کی کوشش کرے یا ایسی کوششوں میں شریک ہو تو وہ غداری کا مرتکب ہوگا۔اور پارلیمنٹ ایسے شخص یا اشخاص کو غداری کی سزا دینے کی مجاز ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ یہ شق سرے سے آئین میں ہونی ہی نہیں چاہئیے۔کیونکہ اس پر عمل درآمد کی صورت میں بیشتر حالیہ و سابقہ سیاسی ، عسکری ، قانونی ، دینی اور ابلاغی قیادت اور بیوروکریسی زد میں آسکتی ہے۔لہذا شق نمبر چھ کو اس طرح سے لکھا جائے کہ آئین بنانے والوں نے اپنا کام مکمل کردیا۔اب یہ آئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو پھر ایسے آئین کے ساتھ جو بھی جو کچھ کرے وہ اس کا پوری طرح اہل اور مجاز تصور کیا جائےگا۔ اگر انیس سو تہتر کے آئین میں تبدیلیوں کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی مجھ سے مزید تجاویز مانگے گی تو میں بخوشی اسکی مدد کو تیار ہوں۔ معقول متبادلات تجویز کرنے کا کام کررہی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بحیثیت ایک عام شہری عہدِ حاضر کی حقیقتوں کی روشنی میں کچھ تجاویز میری طرف سے بھی پیشِ خدمت ہیں۔ مثلاً انیس سو تہتر کے آئین کے دیباچےکا پہلا جملہ ہے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ تعالی کی امانت ہے اور پاکستان کے عوام یہ امانت اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے خدا کی طے کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جملہ یوں ہونا چاہئے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ تعالی کی امانت ہے اور پاکستان کے عوام یہ امانت سول و فوجی اسٹیبلشنمٹ یا انکے بااعتماد منتخب نمائندوں کے ذریعے ، امریکہ کی طے کردہ حدود میں رہتے ہوئے خدا کے نام پر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ آگے چل کر دیباچے میں کہا گیا ہے کہ آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف اور جمہوری اصولوں کو اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہ کر پوری طرح اپناتے ہوئے جہاں مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات کو قرآن و سنہ کے مطابق گذارنے کے اہل ہوں گے وہیں اقلیتوں کے لیے بھی ایسے قوانین تشکیل دیے جائیں گے جن کے تحت وہ اپنے عقائد پر آزادی سے عمل پیرا ہوکر اپنی ثقافت و اقدار کو ترقی و تحفظ دے سکیں۔ بدلے ہوئے پاکستان میں مذکورہ آئینی جملہ یوں ہونا چاہئے کہ اگر نان سٹیٹ ایکٹرز ، سیاسی و عسکری و قبائیلی و اقتصادی مافیا اور بیرونِ پاکستان عناصر کے ہاتھوں اغوا، آزادی ، جمہوریت ، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اصول ریاستِ پاکستان بچانے میں کامیاب ہوگئی تو پھر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان اصولوں کی پوری پاسداری کی جائے گی اور جیسے ہی مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات قرآن و سنہ کے مطابق گذارنے کے قابل ہوں گے اقلیتوں کے لیے بھی ایسی قانون سازی کی جائے گی جس کے تحت و اپنے عقائد و اقدار پر آزادی سے عمل پیرا ہوسکیں۔ آگے چل کر آئینی دیباچے میں درج ہے کہ شہریوں کو قانون اور عمومی اخلاقیات کے دائرے میں سماجی، اقتصادی و سیاسی انصاف، قانون کے روبرو مساوی سلوک، آزادی اظہار، تنظیم سازی، اور عقیدے کی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔اور یہ کہ عدلیہ کی آزادی کا مکمل تحفظ کیا جائےگا۔ سن دو ہزار نو کے پاکستان کی آئینی ضرورت یہ ہے کہ مذکورہ پیرا اس طرح سے آئین میں شامل کیا جائے کہ شہریوں کو سماجی اقتصادی و سیاسی انصاف، قانون کے سامنے مساوی سلوک، آزادی اظہار، تنظیم سازی، اور عقیدے کی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے بشرطیکہ ان حقوق کا استعمال مقامی انتظامیہ ، پولیس اور بااثر گروہوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے۔اور یہ کہ عدلیہ کی آزادی کا تحفظ عدلیہ کے آزاد ہونے کے بعد پوری طرح سے کیا جائےگا۔ دیباچے کے بعد آئینِ پاکستان کا تعارفی یا پہلا باب چھ شقوں پر مشتمل ہے۔ شق نمبر تین کے مطابق ریاست ہر ایک کو اسکی اہلیت کے مطابق اور ہرایک کو اسکی کارکردگی کے مطابق کا اصول اپناتے ہوئے استحصال کی تمام شکلوں کے خاتمے کو یقینی بنائےگی۔ اس شق کو یوں ہونا چاہئے کہ سفارش، اثرو رسوخ ، دھمکی اور رشوت کی بنیاد پر جتنی بھی آسامیاں اور مواقع پر ہونے سے بچ جائیں گے ان پر ہر ایک کو اسکی اہلیت اور ہرایک کو اسکی کارکردگی کے مطابق کا اصول لاگو ہوگا۔ شق نمبر چار کے مطابق کسی بھی شہری کے حقِ زندگی، جسمانی تحفظ یا حقِ املاک کو نقصان پہنچانے کا کوئی ماورائے قانون اقدام نہیں کیا جائےگا۔کسی بھی شخص کو ایسے کام سے نہیں روکا جائےگا جس کی قانون اجازت دیتا ہو اور کسی بھی شخص کو غیرقانونی کام پر مجبور نہیں کیا جائےگا۔ اس شق میں صرف یہ اضافہ ہونا چاہئے کہ اس کا اطلاق وفاقی و صوبائی عہدیداروں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نہیں ہوگا۔ تعارفی باب کی شق نمبر چھ کے مطابق جو شخص بھی یہ آئین توڑنے، یا اسکی کوشش یا سازش کرنے یا پھر آئین کو بزورِ طاقت یا دیگر غیرآئینی طریقوں سے تبدیل کرنے کی کوشش کرے یا ایسی کوششوں میں شریک ہو تو وہ غداری کا مرتکب ہوگا۔اور پارلیمنٹ ایسے شخص یا اشخاص کو غداری کی سزا دینے کی مجاز ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ یہ شق سرے سے آئین میں ہونی ہی نہیں چاہئیے۔کیونکہ اس پر عمل درآمد کی صورت میں بیشتر حالیہ و سابقہ سیاسی ، عسکری ، قانونی ، دینی اور ابلاغی قیادت اور بیوروکریسی زد میں آسکتی ہے۔لہذا شق نمبر چھ کو اس طرح سے لکھا جائے کہ آئین بنانے والوں نے اپنا کام مکمل کردیا۔اب یہ آئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو پھر ایسے آئین کے ساتھ جو بھی جو کچھ کرے وہ اس کا پوری طرح اہل اور مجاز تصور کیا جائےگا۔ اگر انیس سو تہتر کے آئین میں تبدیلیوں کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی مجھ سے مزید تجاویز مانگے گی تو میں بخوشی اسکی مدد کو تیار ہوں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s