عوام کو ملا کیا ؟ کدو

پاکستان میں بظاہر ایک متفقہ آئین ہونے کے باوجود مرکز اور صوبے ہمیشہ وسائل کی تقسیم پر ایک دوسرے سے شاکی کیوں رہتے ہیں۔ایک دوسرے کو حقوق غصب کرنے یا استحقاق سے زائد حصہ لینے کا الزام کیوں دیتے رہتے ہیں۔ اسکی ایک بنیادی وجہ آڑھتی سسٹم ہے۔

 مثال کے طور پر دنیا جب اتنی پیچیدہ نہیں تھی تو کسان فصل اگاتا تھا اور اس فصل میں سے اپنے استعمال کا حصہ علیحدہ کر کے باقی فصل قصباتی منڈی میں لے آتا تھا اور مناسب منافع پر صارف کو فروخت کردیتا تھا۔لیکن آبادی ، شہر اور روزمرہ مسائل بڑھنے کے سبب بیچ میں آڑھتی آگیا اور سارا کام خراب ہوگیا۔آڑھتی نے کسان کو قرضہ ، کھاد اور بیج بھاری سود پر دینا شروع کیا۔پانچ روپے کلو کا ٹماٹر ڈھائی روپے میں اٹھایا۔منڈی میں لا کر زخیرہ کیا۔اس ٹماٹر کو دس روپے کیلو میں تھوک فروش کو فروخت کیا۔تھوک فروش نے یہ ٹماٹر پندرہ روپے میں پرچون والے کو دیا اور پرچون فروش نے جیسا موقع لگا بیس سے چالیس روپے میں ہمیں اور آپ کو بیچ دیا۔اب جس کسان نے یہ ٹماٹر اگایا تھا وہی کسان مالی طور یہی ٹماٹر مارکیٹ سے خریدنے کے قابل نہیں رہا۔

 ایک اور مثال لیجئے۔مرکزی حکومت ایک صوبے کو ایک کلومیٹر سڑک بنانے کے لیے سو روپے دیتی ہے۔اس میں سے بیس روپے، سو روپے دینے والے وفاقی عملدار، وزیرِ اعلی، متعلقہ وزیر یا فیصلہ ساز بیوروکریٹ میں بٹ جاتے ہیں۔اب جو اسی روپے بچے اس میں سے چالیس روپے ٹھیکہ منظور کرنے والے محکمے میں اوپر سے نیچے تک بٹ گئے۔اب بچے چالیس روپے ان میں سے پندرہ روپے ٹھیکے دار نے منافع یا مہنگائی کے سبب لاگت بڑھنے کے بہانے رکھ لیے۔اب بچ گئے پچیس روپے جس کی سڑک بنا دی گئی۔کوئی بتائے کہ جو سڑک سو روپے میں بننی تھی وہ پچیس روپے میں کس معیار کی بنے گی۔ یہی فارمولا وسائل اور حقوق کی تقسیم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔اگر انیس سو تہتر کے متفقہ آئین پر ایمانداری سے عمل ہوتا تو آج پاکستان کا شمار مضبوط وفاقی و جمہوری ممالک میں ہوتا۔لیکن ہوا یہ کہ اس آئین کو جنگل کے آئین کی بھاری کتاب تلے دبا دیا گیا۔آئین میں کس کے کیا حقوق اور کیا ذمہ داریاں اور ان حقوق اور ذمہ داریوں کی بجا آوری کا کیا طریقہ ہوگا۔سب کچھ موٹے موٹے حروف میں واضح انداز میں درج ہے۔لیکن ہوا کیا ؟ فوج نے کہا افغانستان، بھارت اور ایٹمی پروگرام پر اس کی پالیسی کو ماننا ہوگا۔ایجنسیاں بھلے کاغذی طور پر وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہوں گی لیکن اصل میں وہ خود کو جوابدہ ہیں۔طاقتور وزیرِ اعظم نے کہا صدر پارلیمنٹ کا حصہ نہیں میرا چپراسی ہے۔طاقتور صدر نے کمزور وزیرِ اعظم سے کہا تو میرا چپراسی ہے۔فوج نے ان دونوں سے کہا آپ دونوں کا آقا راولپنڈی میں بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں کہاں کے حقوق اور کیسی وسائل کی تقسیم ؟ وفاقی شیرنی جس نے فوج ، بیوروکریسی اور مثبت ذہن رکھنے والے سیاست کاروں کے آڑھت آمیز اختلاط سے جنم لیا۔ اس شیرنی نے وسائل کے شکار کے چار حصے کیے اور باقی جانوروں سے کہا کہ ایک حصہ تو بحیثیت شکاری میرا ہے۔دوسرا حصہ جنگل کے بادشاہ کا ہے۔تیسرا میرے بچوں کا ہے۔اور چوتھا یہ پڑا ہے جس میں ہمت ہو اٹھالے۔۔چنانچہ جس جانور میں جتنا زور تھا وہ اتنا ہی بڑا بوٹا توڑ کر لے بھاگا۔اور جو کمزور تھا وہ کونے میں بیٹھ کر اپنے ہی تلوے چاٹنے لگا۔ سو روپے کے قومی بجٹ میں سے پچاس روپے تو گذشتہ اور حالیہ حکمرانوں کے لیے گئے اندھا دھند ملکی وغیر ملکی قرضوں کے بیاج اور کنسلٹنسی کی نذر ہوجاتے ہیں۔پچیس روپے دفاع کے تھیلے میں ڈل جاتے ہیں۔بقیہ پچیس روپے میں سے بیس روپے سرکاری ڈھانچے کی تنخواہوں اور مراعات کے بلیک ہول میں گر جاتے ہیں۔باقی رھ گئے سو میں سے پانچ روپے۔اس پانچ روپے میں سےاٹھارہ کروڑ لوگوں کو کیا ملتا ہے ؟   کدو 

 کیا مسئلے ایسے ہی حل ہوتے ہیں ؟؟

 

Advertisements

حقوق زوجیت ادا کرنے کا موقع دیا جائے

federal_shariat_court

شوہر کی لمبی مدت تک غیر حاضری یا آپس میں رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی بُرائیاں جنم لے سکتی ہیں
وفاقی شرعی عدالت کے لارجر بینچ نے ملک کی تمام جیلوں کے حکام سے کہا ہے کہ قیدیوں کو حقوق زوجیت ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے جیل کے اندر بھی بندوبست کیا جاسکتا ہے اور اس کے علاوہ قیدی کو اُس کی واپسی کی شرط پر مختصر رہائی دی جاسکتی ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کے لارجر بینچ نے یہ فیصلہ جیل قوانین کی شرعی حیثیت کے حوالے سے دائر درخواستوں پر دیا۔ یہ درخواستیں سنہ 1992 میں ڈاکٹر اسلم خاکی، مختار شیخ اور ماسٹر اعجاز حسین نے دائر کی تھیں۔
جسٹس علامہ فدا محمد خان، جسٹس صلاح الدین مرزا، جسٹس ظفر یٰسین اور جسٹس افضل حیدر پر مشتمل وفاقی شرعی عدالت کے لارجر بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دو صوبوں کے علاوہ جیل میں شادی شدہ قیدیوں کے لیے حقوق زوجیت ادا کرنے کی سہولت نہیں ہے جس کی وجہ سے لواطت اور منشیات جیسے جرائم جنم لیتے ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ شوہر کی لمبی مدت تک غیر حاضری یا آپس میں رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی بُرائیاں جنم لے سکتی ہیں اس لیے قیدیوں کو اپنی شریک حیات کے ساتھ ملنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جیل سے متصل کوئی ایسی موزوں جگہ نہیں بنائی گئی جہاں پر قیدی اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرسکیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جیل سے متصل مخصوص جگہ تعمیر کی جائے تاکہ قیدی تنہائی میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ گھریلو معاملات پر گفتگو کرسکیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ بہاولنگر میں مجوزہ اوپن جیل میں ابتدائی طور پر طویل مدت کی سزا بھگتنے والے اچھے کردار کے حامل پانچ سو قیدی لے جائے جائیں اور اُن کی بحالی اور آبادکاری کے علاوہ زراعت کی ترقی میں بھی اُن سے کام لیا جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہر صوبہ اوپن جیل کی تعمیر کے لیے زمین آلاٹ کرے اس حوالے سے امریکہ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا ہے۔
دو صوبوں کے علاوہ جیل میں شادی شدہ قیدیوں کے لیے حقوق زوجیت ادا کرنے کی سہولت نہیں ہے جس کی وجہ سے لواطت اور منشیات جیسے جرائم جنم لیتے ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت
عدالت نے ان درخواستوں پر اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سزائے موت کے قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک احکام شریعت کے منافی ہے۔ تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو اے، بی اور سی کلاس میں تقسیم کرنا شرعی احکام کے خلاف نہیں ہے۔
قیدی کو سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعدصرف اُس وقت سزائے موت کا قیدی قرار دیا جائے جب اُس کی توثیق ہائی کورٹ یا فیڈرل شریعت کورٹ نے کی ہو۔
عدالت کا کہنا تھا کہ جیل جرائم میں جیل حکام کے فیصلوں کے خلاف قیدیوں کو اپیل کرنے کا حق ملنا چاہیے اور اس حوالے سے سیشن جج کی عدالت موزوں ترین فورم ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ قیدی کو صوبے کے اندر ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کرنے کا باقاعدہ حکم جاری ہوگا جس کی نقل قیدی کو فراہم کی جائے گی تاکہ اگر وہ اپیل کرنا چاہے تو وہ سیشن کورٹ میں اپیل کرسکے۔
قیدیوں کو روز مرہ ملنے والی تین وقت کی خوراک کے لیے مقرر کی گئی رقم کو ناکافی قرار دیا گیا ہے اور عدالت نے تجویز دی ہے کہ یہ رقم ایک سو روپے تک کردی جائے۔
جیل قوانین میں قیدی پر چیک جاری کرنے کی پابندی کو احکام اسلام کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

ان درخواستوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کی سماعت اسلام آباد کے علاوہ لاہور اور کراچی میں بھی کی گئی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مستند علماء کرام اور مشیران کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کا مؤقف بھی سُنا گیا۔

 

کچھ آئینی تجاویز

ان دنوں پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی ستہرویں ترمیم سمیت آئین کی کئی متنازعہ شقوں کا جائزہ لے کر انکےان دنوں پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی ستہرویں ترمیم سمیت آئین کی کئی متنازعہ شقوں کا جائزہ لے کر انکے معقول متبادلات تجویز کرنے کا کام کررہی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بحیثیت ایک عام شہری عہدِ حاضر کی حقیقتوں کی روشنی میں کچھ تجاویز میری طرف سے بھی پیشِ خدمت ہیں۔

 مثلاً انیس سو تہتر کے آئین کے دیباچےکا پہلا جملہ ہے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ تعالی کی امانت ہے اور پاکستان کے عوام یہ امانت اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے خدا کی طے کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جملہ یوں ہونا چاہئے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ تعالی کی امانت ہے اور پاکستان کے عوام یہ امانت سول و فوجی اسٹیبلشنمٹ یا انکے بااعتماد منتخب نمائندوں کے ذریعے ، امریکہ کی طے کردہ حدود میں رہتے ہوئے خدا کے نام پر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ آگے چل کر دیباچے میں کہا گیا ہے کہ آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف اور جمہوری اصولوں کو اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہ کر پوری طرح اپناتے ہوئے جہاں مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات کو قرآن و سنہ کے مطابق گذارنے کے اہل ہوں گے وہیں اقلیتوں کے لیے بھی ایسے قوانین تشکیل دیے جائیں گے جن کے تحت وہ اپنے عقائد پر آزادی سے عمل پیرا ہوکر اپنی ثقافت و اقدار کو ترقی و تحفظ دے سکیں۔ بدلے ہوئے پاکستان میں مذکورہ آئینی جملہ یوں ہونا چاہئے کہ اگر نان سٹیٹ ایکٹرز ، سیاسی و عسکری و قبائیلی و اقتصادی مافیا اور بیرونِ پاکستان عناصر کے ہاتھوں اغوا، آزادی ، جمہوریت ، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اصول ریاستِ پاکستان بچانے میں کامیاب ہوگئی تو پھر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان اصولوں کی پوری پاسداری کی جائے گی اور جیسے ہی مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات قرآن و سنہ کے مطابق گذارنے کے قابل ہوں گے اقلیتوں کے لیے بھی ایسی قانون سازی کی جائے گی جس کے تحت و اپنے عقائد و اقدار پر آزادی سے عمل پیرا ہوسکیں۔ آگے چل کر آئینی دیباچے میں درج ہے کہ شہریوں کو قانون اور عمومی اخلاقیات کے دائرے میں سماجی، اقتصادی و سیاسی انصاف، قانون کے روبرو مساوی سلوک، آزادی اظہار، تنظیم سازی، اور عقیدے کی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔اور یہ کہ عدلیہ کی آزادی کا مکمل تحفظ کیا جائےگا۔ سن دو ہزار نو کے پاکستان کی آئینی ضرورت یہ ہے کہ مذکورہ پیرا اس طرح سے آئین میں شامل کیا جائے کہ شہریوں کو سماجی اقتصادی و سیاسی انصاف، قانون کے سامنے مساوی سلوک، آزادی اظہار، تنظیم سازی، اور عقیدے کی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے بشرطیکہ ان حقوق کا استعمال مقامی انتظامیہ ، پولیس اور بااثر گروہوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے۔اور یہ کہ عدلیہ کی آزادی کا تحفظ عدلیہ کے آزاد ہونے کے بعد پوری طرح سے کیا جائےگا۔ دیباچے کے بعد آئینِ پاکستان کا تعارفی یا پہلا باب چھ شقوں پر مشتمل ہے۔ شق نمبر تین کے مطابق ریاست ہر ایک کو اسکی اہلیت کے مطابق اور ہرایک کو اسکی کارکردگی کے مطابق کا اصول اپناتے ہوئے استحصال کی تمام شکلوں کے خاتمے کو یقینی بنائےگی۔ اس شق کو یوں ہونا چاہئے کہ سفارش، اثرو رسوخ ، دھمکی اور رشوت کی بنیاد پر جتنی بھی آسامیاں اور مواقع پر ہونے سے بچ جائیں گے ان پر ہر ایک کو اسکی اہلیت اور ہرایک کو اسکی کارکردگی کے مطابق کا اصول لاگو ہوگا۔ شق نمبر چار کے مطابق کسی بھی شہری کے حقِ زندگی، جسمانی تحفظ یا حقِ املاک کو نقصان پہنچانے کا کوئی ماورائے قانون اقدام نہیں کیا جائےگا۔کسی بھی شخص کو ایسے کام سے نہیں روکا جائےگا جس کی قانون اجازت دیتا ہو اور کسی بھی شخص کو غیرقانونی کام پر مجبور نہیں کیا جائےگا۔ اس شق میں صرف یہ اضافہ ہونا چاہئے کہ اس کا اطلاق وفاقی و صوبائی عہدیداروں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نہیں ہوگا۔ تعارفی باب کی شق نمبر چھ کے مطابق جو شخص بھی یہ آئین توڑنے، یا اسکی کوشش یا سازش کرنے یا پھر آئین کو بزورِ طاقت یا دیگر غیرآئینی طریقوں سے تبدیل کرنے کی کوشش کرے یا ایسی کوششوں میں شریک ہو تو وہ غداری کا مرتکب ہوگا۔اور پارلیمنٹ ایسے شخص یا اشخاص کو غداری کی سزا دینے کی مجاز ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ یہ شق سرے سے آئین میں ہونی ہی نہیں چاہئیے۔کیونکہ اس پر عمل درآمد کی صورت میں بیشتر حالیہ و سابقہ سیاسی ، عسکری ، قانونی ، دینی اور ابلاغی قیادت اور بیوروکریسی زد میں آسکتی ہے۔لہذا شق نمبر چھ کو اس طرح سے لکھا جائے کہ آئین بنانے والوں نے اپنا کام مکمل کردیا۔اب یہ آئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو پھر ایسے آئین کے ساتھ جو بھی جو کچھ کرے وہ اس کا پوری طرح اہل اور مجاز تصور کیا جائےگا۔ اگر انیس سو تہتر کے آئین میں تبدیلیوں کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی مجھ سے مزید تجاویز مانگے گی تو میں بخوشی اسکی مدد کو تیار ہوں۔ معقول متبادلات تجویز کرنے کا کام کررہی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بحیثیت ایک عام شہری عہدِ حاضر کی حقیقتوں کی روشنی میں کچھ تجاویز میری طرف سے بھی پیشِ خدمت ہیں۔ مثلاً انیس سو تہتر کے آئین کے دیباچےکا پہلا جملہ ہے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ تعالی کی امانت ہے اور پاکستان کے عوام یہ امانت اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے خدا کی طے کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جملہ یوں ہونا چاہئے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ تعالی کی امانت ہے اور پاکستان کے عوام یہ امانت سول و فوجی اسٹیبلشنمٹ یا انکے بااعتماد منتخب نمائندوں کے ذریعے ، امریکہ کی طے کردہ حدود میں رہتے ہوئے خدا کے نام پر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ آگے چل کر دیباچے میں کہا گیا ہے کہ آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف اور جمہوری اصولوں کو اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہ کر پوری طرح اپناتے ہوئے جہاں مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات کو قرآن و سنہ کے مطابق گذارنے کے اہل ہوں گے وہیں اقلیتوں کے لیے بھی ایسے قوانین تشکیل دیے جائیں گے جن کے تحت وہ اپنے عقائد پر آزادی سے عمل پیرا ہوکر اپنی ثقافت و اقدار کو ترقی و تحفظ دے سکیں۔ بدلے ہوئے پاکستان میں مذکورہ آئینی جملہ یوں ہونا چاہئے کہ اگر نان سٹیٹ ایکٹرز ، سیاسی و عسکری و قبائیلی و اقتصادی مافیا اور بیرونِ پاکستان عناصر کے ہاتھوں اغوا، آزادی ، جمہوریت ، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اصول ریاستِ پاکستان بچانے میں کامیاب ہوگئی تو پھر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان اصولوں کی پوری پاسداری کی جائے گی اور جیسے ہی مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات قرآن و سنہ کے مطابق گذارنے کے قابل ہوں گے اقلیتوں کے لیے بھی ایسی قانون سازی کی جائے گی جس کے تحت و اپنے عقائد و اقدار پر آزادی سے عمل پیرا ہوسکیں۔ آگے چل کر آئینی دیباچے میں درج ہے کہ شہریوں کو قانون اور عمومی اخلاقیات کے دائرے میں سماجی، اقتصادی و سیاسی انصاف، قانون کے روبرو مساوی سلوک، آزادی اظہار، تنظیم سازی، اور عقیدے کی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔اور یہ کہ عدلیہ کی آزادی کا مکمل تحفظ کیا جائےگا۔ سن دو ہزار نو کے پاکستان کی آئینی ضرورت یہ ہے کہ مذکورہ پیرا اس طرح سے آئین میں شامل کیا جائے کہ شہریوں کو سماجی اقتصادی و سیاسی انصاف، قانون کے سامنے مساوی سلوک، آزادی اظہار، تنظیم سازی، اور عقیدے کی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے بشرطیکہ ان حقوق کا استعمال مقامی انتظامیہ ، پولیس اور بااثر گروہوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے۔اور یہ کہ عدلیہ کی آزادی کا تحفظ عدلیہ کے آزاد ہونے کے بعد پوری طرح سے کیا جائےگا۔ دیباچے کے بعد آئینِ پاکستان کا تعارفی یا پہلا باب چھ شقوں پر مشتمل ہے۔ شق نمبر تین کے مطابق ریاست ہر ایک کو اسکی اہلیت کے مطابق اور ہرایک کو اسکی کارکردگی کے مطابق کا اصول اپناتے ہوئے استحصال کی تمام شکلوں کے خاتمے کو یقینی بنائےگی۔ اس شق کو یوں ہونا چاہئے کہ سفارش، اثرو رسوخ ، دھمکی اور رشوت کی بنیاد پر جتنی بھی آسامیاں اور مواقع پر ہونے سے بچ جائیں گے ان پر ہر ایک کو اسکی اہلیت اور ہرایک کو اسکی کارکردگی کے مطابق کا اصول لاگو ہوگا۔ شق نمبر چار کے مطابق کسی بھی شہری کے حقِ زندگی، جسمانی تحفظ یا حقِ املاک کو نقصان پہنچانے کا کوئی ماورائے قانون اقدام نہیں کیا جائےگا۔کسی بھی شخص کو ایسے کام سے نہیں روکا جائےگا جس کی قانون اجازت دیتا ہو اور کسی بھی شخص کو غیرقانونی کام پر مجبور نہیں کیا جائےگا۔ اس شق میں صرف یہ اضافہ ہونا چاہئے کہ اس کا اطلاق وفاقی و صوبائی عہدیداروں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نہیں ہوگا۔ تعارفی باب کی شق نمبر چھ کے مطابق جو شخص بھی یہ آئین توڑنے، یا اسکی کوشش یا سازش کرنے یا پھر آئین کو بزورِ طاقت یا دیگر غیرآئینی طریقوں سے تبدیل کرنے کی کوشش کرے یا ایسی کوششوں میں شریک ہو تو وہ غداری کا مرتکب ہوگا۔اور پارلیمنٹ ایسے شخص یا اشخاص کو غداری کی سزا دینے کی مجاز ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ یہ شق سرے سے آئین میں ہونی ہی نہیں چاہئیے۔کیونکہ اس پر عمل درآمد کی صورت میں بیشتر حالیہ و سابقہ سیاسی ، عسکری ، قانونی ، دینی اور ابلاغی قیادت اور بیوروکریسی زد میں آسکتی ہے۔لہذا شق نمبر چھ کو اس طرح سے لکھا جائے کہ آئین بنانے والوں نے اپنا کام مکمل کردیا۔اب یہ آئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو پھر ایسے آئین کے ساتھ جو بھی جو کچھ کرے وہ اس کا پوری طرح اہل اور مجاز تصور کیا جائےگا۔ اگر انیس سو تہتر کے آئین میں تبدیلیوں کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی مجھ سے مزید تجاویز مانگے گی تو میں بخوشی اسکی مدد کو تیار ہوں۔