‘مینوں کی پتہ۔۔’

ان دنوں پاکستان میں میڈیائی بلونگڑے کے آگے ایک نئی گیند اچھال دی گئی ہے یعنی ایم کیو ایم کے خلاف انیس سو بانوے کا آپریشن فوج نے اپنی مرضی سے شروع کیا تھا یا اس وقت کے سیاسی وزیرِ اعظم نواز شریف کو اعتماد میں لے کر کیا گیا تھا۔

جو زندہ ہیں کہہ رہے ہیں۔۔۔ ‘صدر غلام اسحاق خان مرحوم، جنرل آصف نواز مرحوم یا جام صادق علی مرحوم سے جا کر پوچھو۔۔ مینوں کی پتہ۔۔’

مینوں کی پتہ! یہ وہ جادوئی فقرہ ہے جو ہر سیاستدان، جرنیل اور ویلے انٹیلی جنس افسر اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ کی ڈھال ہے۔

جی کشمیر میں انیس سو اڑتالیس میں قبائلی کس نے بھیجے۔۔ ‘مینوں کی پتہ۔۔۔ جنرل اکبر خان یا قائدِ اعظم سے پوچھیں۔’

انیس سو پینسٹھ میں آپریشن جبرالٹر کس نے شروع کیا۔ ‘فلاں نے کیا، فلاں نے کیا، فلاں نے کیا۔’ اور آپ؟؟ ‘میں۔۔ میں تو اس وقت ملک میں تھا ہی نہیں، مینوں کی پتہ۔’

اور اکہتر میں مشرقی پاکستان؟ ‘یقیناً بھٹو تھا، مجیب تھا، نیازی تھا، ٹکا خان تھا، یحیی تھا، اندرا تھی، اروڑا تھا۔۔۔ میں، میں تو اس وقت بیت الخلا میں تھا۔۔۔ مینوں کی پتہ۔۔’

اور بھٹو کی پھانسی؟ ‘صاف ظاہر ہے ضیا تھا، چشتی تھا، تارا مسیح تھا، میرا کیا لینا دینا میں تو اس وقت سوات میں چھٹیاں گزار رہا تھا۔۔’

اور ضیا الحق کی موت ؟ ‘جنرل بیگ سے پوچھیں، اعجاز الحق سے پوچھیں، ریگن سے پوچھ لیں۔۔ میں تو بہاولپور گیا ہی نہیں۔ مینوں کی پتہ!!’

اور کرگل؟ نواز شریف کہہ رہے ہیں، مینوں کی پتہ، مشرف کہہ رہے ہیں، مینوں کی پتہ۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ ‘تو پھر یقیناً سردار عبدالقیوم نے فوج بھیجی ہوگی ان سے معلوم کریں۔۔۔’

اور بے نظیر کا قتل؟ ‘دیکھیں جی اس میں یا تو بیت اللہ ملوث تھا، یا پھر راولپنڈی میونسپلٹی والے ملوث ہیں، جنہوں نے واردات کے دو گھنٹے کے اندر جائے وقوعہ کو دھو ڈالا۔۔۔ میں تو ان دنوں بیمار شمار تھا، میرا ہاتھ کیسے ہوسکتا ہے۔ قسمے خدا دی!’

اور یہ رویہ صرف سیاستدان، جرنیل، ویلے انٹیلی جنس افسر یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہی کا نہیں۔ آپ سڑک پر نکل کر اس موٹر سائیکل سوار اور کار ڈرائیور کا مکالمہ سنیں جن کی ابھی ابھی ٹکر ہوئی ہو۔ ‘تم تھے’، ‘نہیں تم غلط سمت سے آرہے تھے’، ‘نہیں تمہیں گاڑی نہیں چلانی آتی’، ‘میرا کیا قصور!’ ‘اوئے تم تھے!’ آپ جمع ہونے والی بھیڑ میں کسی راہ گیر سے پوچھیں قصور کس کا تھا؟ وہ کندھے اچکا کر دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے گا ‘اس سے پوچھیں، اس نے مجھ سے پہلے یہ حادثہ دیکھا’۔ آپ دوسرے سے پوچھتے ہیں تو وہی جواب ملتا ہے۔۔ ‘مینوں کی پتہ۔ اس سے پوچھیں۔۔’

اس اجتماعی رویے کے تناظر میں کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ پاکستان میں جن جن عمارات اور پہاڑیوں پر جلی حروف میں ‘ایمان، اتحاد، تنظیم’ لکھا ہوا ہے، اسے کھرچ کر زیادہ بڑے حروف میں لکھوا دیا جائے:

‘مینوں کی پتہ!’

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s