اھلا و سھہل رمضان کریم

استقبال رمضان ::مبارک اور رحمتوں بھرے لمحات

RamadanMubarak

السلام علیکم ورحمۃ‌اللہ وبرکاتہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے

ان لِلَّهِ عُتَقَاءَ في كل يَومٍ وَلَيلَةٍ لِكلِّ عَبدٍ منهم دَعوَةٌ مُستَجَابَةٌ

بے شک اللہ تعالیٰ ہر رات میں اور ہر دِن میں (یعنی رمضان کی راتوں اور دِنوں میں) لوگوں کو (جہنم کی آگ سے ) آزاد فرماتے ہیں اور ان آزاد ہونے والوں میں سے ہر ایک کے ایک قبول شدہ دُعا ہوتی ہے   مسند أحمد ، صحیح الجامع الصغیر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رجب سے یہ دعا مانگنا شروع کردیتے

اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان
ائے اللہ رجب بھی ہمارے لیے مبارک کردے شعبان بھی اور ہمیں رمضان المبارک تک لے جا

محترم بھائیو اور بہنو
ہمارے گھر، خاندان، اور معاشرے میں‌کتنے افراد ایسے تھے جو پچھلے رمضان المبارک میں‌ہمارے ساتھ تھے لیکن آج وہ ہم میں‌نہیں‌ وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں‌یقینآ ہم سب نے وہیں‌جانا ہے۔
اس لیے جسے یہ ایام مبارک نصیب ہوں‌وہ بڑا ہی خوش بخت اور سعید ہے جس شخص کے لیے یہ ایام ویسے ہی ہیں‌جیسے زندگی کے دوسرے دن اور اس نے اس ماہ مبارک کی راتوں میں‌قیام نہ کیا، قرآن سے اپنے قلب و روح کو سرشار نہ کیا دن میں‌اللہ کے لیے ناجائز امور سے رک نہ گیا اور نوافل و تلاوت کے ذریعے اللہ رب العزت کی محبت اور ڈر کو حاصل نہ کر پایا تو وہ بڑا ہی بدبخت ہے (ائے اللہ ہمیں ایسا نہ بنا آمین)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ یہ دعا رمضان کے آخری ایام میں کیا کرتے تھے
اللهم لا تجعله اخر العهد من صيامنا ايام فأن جعلته فأجعلني مرحوما ولا تجعلني محروما
ائے ہمارے اللہ یہ یہ روزے ہمارے آخری روزے نہ ہوں (ہمیں اسکے بعد بھی رمضان عطا کیجیے گا (اور اگر آپکا فیصلہ ہے کہ یہ روزے میرے آخری روزے ہیں تو مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جن پر آپ نے رحم فرمادیا اور مجھے محروم ہوجانے والے (بدنصیب) لوگوں میں‌شامل نہ فرمائیے۔
ائے ہمارے رب ہمیں‌ایسا بنا کہ اس ماہ میں‌نیکیوں‌کو بڑھانے کی فکر کریں اور جہنم سے آزادی پانی کے لیے جو کچھ بھی کرسکتے ہیں کر گزریں اور یہ سب کرنے کے بعد تیرے سامنے عاجزی سے جھک جائیں‌اور جہنم سے آزادی کی دعا کریں۔ آمین

روزے کے مقاصد اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں‌یہ بیان کیے ہیں

رمضان کا قرآن سے تعلق
{ ماہ رمضان وہ ہےجس میں قرآن مجید اتارا گیا جولوگوں کو ھدایت کرنے والا ہے اورجس میں ھدایت کی اورحق و باطل کی تمیز کی نشانیان ہیں} البقرۃ ( 185 )

تقوی و پرہیز گاری

{ اے ایمان والو تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہيں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنے فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی وپرہیز گاربنو } البقرۃ ( 183 ) ۔

رمضان المبارک میں‌ قرآن حکیم کو تلاوت کرنے، سمجھنے عمل کرنے اور دوسرے لوگوں تک پنچانے کے لیے بے شمار مواقع ملتے ہیں اور قرآن، نوافل روزہ انسان کے اندر تقوی پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

آئیے ہم سب مل رمضان المبارک کا استقبال کریں‌اور اس کو بہترین انداز میں بسر کرنے کا عہد کریں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s