سائنس کو مسلمان بنانے کی خواہش

کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے کہ مسلم دانش گذشتہ آٹھ صدیوں سے مسلسل روبہ زوال ہے اور دنیا کے مسائل کا مدلل حل پیش کرنے اور عملی سطح پر کوئی مثبت قدر تخلیق کرنے سے عاری ہوچکی ہے۔

۔ جب سے مسلم دنیا کا واسطہ دوسری سوسائٹیوں میں پنپنے والے علوم سے پڑا ہے اسکے دانشور بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ ایک وہ جو مذہب کو اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ویسا ہی رکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ چودہ صدیوں پہلے تھا جبکہ دوسرا گروہ وقفوں وقفوں سے اسے وقت کے تقاضوں کیساتھ ہم آہنگ بنانے کی کوشش میں لگا ہواہے۔ جب یونانی فلسفہ مسلم دنیا میں متعارف ہوا تو مسلم دانش میں حیران کن انقلابی تبدیلیوں کا آغاز ہواجسکے نتیجے میں ابنِ رشد جیسے فلسفی اور ابنِ سینا جیسے حکیم اور سائنسدان پیدا ہوئے کہ جن کے نقشِ قدم آج کی جدید یوروپی دنیا کی بنیاد بنے۔ یہ مسلم فلاسفہ اور سائنسدان ہی تھے جنہوں نے ماضی میں سسکتے اور دم توڑتے ہوئے یونانی فلسفے کو اپنے غوروفکر اور تدبر سے دوبارہ زندگی عطا کی۔ لیکن بدقسمتی سے سوادِ اعظم نے کبھی بھی اس روش کو پذیرائی نہیں بخشی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی کم علمی اور معاشی مسائل کی وجہ سے مذہب کیساتھ اپنی نسلی، جذباتی اور نفسیاتی گرفت سے کبھی بھی نجات پانے کے قابل نہیں ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ خرد دشمن اور روائتی مذہب کے پرچارک مُلاّؤں نے ہمیشہ ہی انہیں نہایت کامیابی کیساتھ استعمال کرتے ہوئے استحصالی حکمران طبقوںکیلئے آسان شکار بنائے رکھا۔ سائنس ہماری زندگی کا سب سے زیادہ جیتا جاگتا، توانا اور ثابت شدہ مظہر ہے جس سے کوئی عقل کا اندھا ہی انکار کرسکتا ہے۔ روائتی مذہب کے کھونٹے سے بندھے ہوئے مُلاّ نما علماء کو اس سے زیادہ بھڑکانے والا مظہر اور کوئی نہیں ہے، جسکے نتیجے میں نہ صرف وہ خود منفی ردِعمل کی نفسیات کا شکار بنتے ہیں بلکہ اپنی متعصبانہ جذباتی تقریروںاور تحریروں سے عوام کو بھی سائنسی علوم کی اہمیت کے ادراک سے دور رکھتے ہیں۔ یہی وہ منفی ردِعمل کی نفسیات ہے جو معصوم اور بے علم نوجوانوں کو مذہب کے نام پر تشدد اور خودکش حملوں کی طرف آسانی کیساتھ مائل کردیتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ نائن الیون کے واقعہ نے یوروپی دنیا میں مسلمانوں کا تشخص پہلے سے بھی زیادہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ ہمارے بے سوچے سمجھے اعمال کا شاخسانہ ہے کہ اب ہر مسلمان کو ایک اچھے انسان کی بجائے محض دہشت گرد کے روپ میں دیکھا جارہا ہے۔ حالات کی سنگینی کا احساس مفقود ہے ۔ ردعمل کی نفسیات میں الجھے ہوئے یہ لوگ ایک ان دیکھی دنیا کو آباد کرنے کے شوق میں جیتی جاگتی انسانی دنیا کو برباد کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہ دعویٰ کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے، کوئی بھلا کیونکر مانے گا؟؟؟ عرصہ ہوا دنیا کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکی مگر ہماری جہالت کا حوصلہ دیکھو کہ ہم ابھی تک ماضی کے شاندار قصوں کی ریت میں شتر مرغ کی طرح گردن دبائے کھڑے ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو مسلمان دانشوروں کا وہ عقلیت پسند گروہ جو یوروپ کی نشاة ثانیہ کے بعد کی پیداوار ہے ، وہ بھی ایک خاص معنوں میں شکست خورہ ذہنیت کیساتھ ساتھ نفسیاتی باندھ کا شکار بھی ہے۔ شکست خوردہ ذہنیت ان معنوں میں کہ انہیں اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اب سائنسی ترقی کا راستہ روکنا انکے بس کی بات نہیں رہی اور نفسیاتی باندھ یہ کہ مذہب ہی انسان کو بہترین رہنمائی فراہم کرسکتا ہے۔ لہٰذا وہ جدید سائنسی انکشافات کو مذہب سے ہم آہنگ کرنے کی مشکل سے ہمہ وقت دوچار رہتے ہیں اور سائنس ہے کہ اسکی برق رفتاری انہیں دم لینے کی مہلت نہیں دے رہی۔ اقبال بلاشبہ عظیم امکانات سے بھرپور ذہن کے مالک تھے اور ہم انہیں گذشتہ صدی سے لیکر آج تک کے جدید سوچ رکھنے والے مسلمانوں کا گرو کہہ سکتے ہیں، لیکن وہ بھی اپنی نفسیاتی ساخت کی بنا پرسائنس کو مسلمان کرنے کی ایسی کوشش کرتے رہے جسکاکہ کچھ عرصہ کے بعد متروک ہوجانے کا امکان بدرجہء اتم موجود تھا۔ اقبال خواجہ غلام السیّدین کے نام ایک خط میں یوں رقم طراز ہیں: ”علم سے میری مراد وہ علم ہے جس کا دارومدار حواس پر ہے۔ عام طور پر میں نے علم کا لفظ انہی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس علم میں ایک طبعی قوت ہاتھ آتی ہے جس کو دین کے ماتحت رکھنا چاہئے۔ اگر دین کے ماتحت نہ رہے تو محض شیطنت ہے۔۔۔۔ مسلمانوں کیلئے لازم ہے کہ علم یعنی اس علم کو جس کا مدار حواس پر ہے اور جس سے بے پناہ قوت پیدا ہوتی ہے، مسلمان کریں۔

اقبال ہی کیا ان کے ایک ہم عصر سیّد سلیمان ندوی کی خواہش بھی یہی تھی جسکا اظہار انہوں نے ”حیاتِ شبلی” میں یوں کیا اور اقبال سے زیادہ برملا انداز میں کیا۔ وہ لکھتے ہیں: ”

امام غزالی کا اصلی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے یونانی تراجم کو براہِ راست درس میں داخل نہیں کیا بلکہ ان علوم کو پڑھ کر انہوں نے خود یا دوسرے مسلمانوں نے ان علوم پر اپنی اسلامی طرز کی کتابیں لکھیں انکو علماء کے درس میں رکھا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے ان علوم کو مسلمان بنایا پھر انکو مسلمانوں میں رواج دیا۔۔۔ تاہم جو اصل نکتہ ہے وہ یہی ہے کہ کہ پہلے ان جدید علوم کو مسلمان بنانا چاہئے پھر انکو مسلمانوں میںرواج دینا چاہئے۔” مطلب یہ ہوا کہ علم کی دریافت کیلئے اپنی جان جوکھوں میں دوسرے ڈالیں اور مسلمانوں کا کام اتنا ہے کہ وہ علم کی ہر نئی دریافت کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کرلیں اور پھر دعویٰ کرتے پھریں کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے ۔۔۔

‘فکرِاقبال’ میں خلیفہ عبدالحکیم لکھتے ہیں: ”اقبال آخری عمر میں فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اپنا نظریۂ حیات فلسفیانہ جستجو سے حاصل نہیں کیا۔ زندگی کے متعلق ایک خاص زاویۂ نگاہ ورثے میں مل گیا تھا، بعد میں مَیں نے عقلی استدلال کو اسکے اثبات میں صرف کیا۔” یعنی اقبال کا مسئلہ بھی عقیدے کی بنیاد پر پہلے سے بنی ہوئی اپنی نفسیاتی ساخت کو جدید فلسفے اور سائنس کی مدد سے درست ثابت کرنا تھا نہ کہ سائنس اور فلسفے کی روشنی میں اس ساخت کو بدلنا۔ اقبال کا معاملہ اس عیسائی متکلم جیسا ہے جس نے صدیوں پہلے کہا تھا: ”میں پہلے عقیدہ رکھتا ہوں، پھر غوروفکر کرتا ہوں۔ غوروفکر کے بعد عقیدہ اختیار نہیں کرتا۔” اقبال کو اپنی اس نفسیاتی ساخت کی بنا پر اس بات کا یقین تھا کہ عنقریب ایک وقت آئیگا جب سائنس اور مذہب میں مشترک اقدار دریافت کرلی جائیں گی۔ یعنی انکا یہ پختہ خیال تھا کہ سائنس عنقریب مذہب کی حقانیت ثابت کردے گی۔ وہ غالباََ یہ نہیں جانتے تھے کہ سائنس کا کبھی یہ مسئلہ نہیں رہا کہ وہ خود کو مذہب کیساتھ ہم آہنگ کرنے کی خواہش میں دریافت کرے بلکہ یہ مسئلہ اہلِ مذہب کا ہے کہ انہیں کچھ عرصہ بعدہی دوبارہ سے مذہب کی ایسی تشریحات پر مجبور ہونا پڑتا ہے جو سائنس سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ اقبال نے بلاشبہ جدید فلسفے اور سائنسی علوم کا بڑی عرق ریزی کیساتھ مطالعہ کیا لیکن بدقسمتی سے انہوں نے اپنے مطالعے کا حاصل مابعدالطبیعات کی بھول بھلیوں میں گما دیا۔ ان حالات میں بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ یہ بھول بھلیاںانکی شاعری اور نثر میں منعکس نہ ہوتیں۔ علی عباس جلالپوری نے یہ کہہ کر دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ ”چونکہ رومانی ہونے کے باعث اقبال نے بھی صرف شاندار اور پُرکشش تعمیمات (Generalities) کی طرف توجہ دلانے پر کفائت کی ہے جن کے مطالعہ سے فرد کے تخیلات اور جذبات کو ہنگامی طور پر تو ضرور اکسایا جا سکتا ہے لیکن انکی مدد سے کوئی موثر اور نتیجہ خیز اجتماعی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔” مولانا مودودی تو اس فکر میں تھے کہ کسی طرح مسلمانوں میں ایسے مفکر پیدا ہوں جو نہ صرف مغربی تہذیب کی بنیادوں کو ڈھادیں بلکہ قرآن کی بنیاد پر ایک نئی اسلامی سائنس کی عمارت بھی اٹھائیں۔ ع اے بسا آرزو کہ خاک شود۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ نا اہلی کے باوصف احساسِ برتری میں مبتلا اور علم کو اپنے عقائد کا غلام سمجھنے والے لوگ کبھی خواہشات کی سطح سے اوپر نہیںاُٹھ سکتے۔ مولانا مرحوم بھی اپنی فکر میں تضادات کا عجیب وغریب مرقع تھے۔ جس مغربی تہذیب کو وہ ڈھانے کی خواہش میں مبتلا ہیں اب اسی تہذیب کی تعریف میں یوں رطب اللسان ہیں: ”مسلمانوں کی افسردہ، جامد اور پسماندہ تہذیب کا مقابلہ ایک ایسی تہذیب سے ہے جس میں زندگی ہے، حرکت ہے، روشنیٔ عمل ہے، گرمیٔ عمل ہے۔ ایسے نامساوی مقابلے کا جو نتیجہ ہوسکتا ہے وہی ظاہر ہورہا ہے۔ مسلمان پسپا ہورہا ہے، ان کی تہذیب شکست کھا چکی ہے۔” یہ سائنس کی مجبوری نہیں ہے کہ وہ اپنے سچ کی سند کیلئے مذہب کی محتاج ہو بلکہ یہ مذہب کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے سچ کی سند کیلئے سائنس کا محتاج ہوتا جا رہا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ سائنس کے چیلنج کی سنجیدگی کو محسوس کرنے والے علماء غیر شعوری طور پر یہ بات تسلیم کر چکے ہیںکہ انکے اکثر اعتقادات عقلی سطح پر قائل کرنے والے دلائل سے محروم ہیں، سو وہ لاشعوری طور پراس خواہش اور کوشش کا شکار نظر آتے ہیں کہ کسی طرح انہیں سائنس کی طرف سے کوئی جواز میسر آجائے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، علم اور ترقی کے منہ زور گھوڑے پر سواری کی معصوم خواہش اپنی جگہ پر، مگر موجودہ روش کی بنا پر ہم زیادہ سے زیادہ اسکی دم پکڑ کر گھسٹ ہی سکتے ہیں کیونکہ ہمارے قومی جسد میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم زقند بھر کر اسکی پیٹھ پر سوار ہو سکیں۔ سوال یہ ہے کہ امام غزالی سے لیکرموجودہ دور تک جن نابغوں نے سائنس اور فلسفے کی ترقی سے خوفزدہ ہوکر عقل کو عقل کے خلاف استعمال کیا اور یا پھر سائنس اور فلسفے کو عقائد کی حقانیت ثابت کرنے والا ٹُول سمجھا، آخر انہوں نے مسلم سماج کی مبلغ عقل میںآج تک کونسا ایسا اضافہ کیا کہ دنیا کی کوئی دوسری قوم رہنمائی کیلئے ہم سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئی ہو۔ ہاں البتہ الٹا معاملہ یہ ہے کہ ہم من حیث الامّہ ایک طویل عرصہ سے مغرب کے دریوزہ گر ضرور بنے ہوئے ہیں۔ مگر پھر بھی دعویٰ یہ ہے کہ ایک دن آئیگا جب انکی سائنس کو مذہب کی غلامی میں آنا ہی پڑے گا۔ یوروپ نے تو عرصہ ہوا اس بیکار شغل سے نجات حاصل کرلی ہے ۔ علم کو مذہب کی گرفت سے آزاد کردیا اور سیاسی اخلاقیات اور قانون باہمی مشاورت سے اخذ کرنے کا اصول اپنالیا۔ لہٰذا وہاں تقدس کا بھاری اور جامد پتھر انکی راہ کی رکاوٹ نہیں رہا۔ لیکن اسکا کیا کیا جائے کہ مسلم دنیا کا غالب حصہ ابھی تک آمریت کے چنگل میں ہے جہاں فیوڈلزم پورے طمطراق سے جمہوریت کا مذاق اڑا رہا ہے۔ آمریت کو اپنا بھیانک چہرہ چھپانے کیلئے ہمیشہ مذہب کا نقاب درکار ہوتا ہے تاکہ لوگ خدا کے خوف سے اس مقدس نقاب کو نوچنے کی ہمت نہ کریں۔ ہماری مملکت خداداد میں فوجی آمریت کی ٹوپی میں جمہوریت کا نمائشی پر اُڑس کر دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مذہب کے جدید ایڈیشنوں کے خالقوں کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری سبھی ٹی وی چینلوں کے در وا ء کئے جارہے ہیں۔ ایم ایم اے جیسے آرتھوڈاکس ملاّؤںکی پسِ پردہ حمایت کیساتھ ساتھ جدید مولویوں کو بھی پیش پردہ حکومتی پالیسیوں کی حمایت کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ مذہب کے نام پر دہشت گردی کے حمائتی اور مذہب کے نام پر ہی دہشت گردی کے مخالف دونوں اپنے اپنے گروہی مفاد کی وجہ سے حکومت کے ہاتھ میںہیں۔ اسلام کی جدید تشریح کے پرچارک تاویلات کے فن میں حسبِ سابق بہت تاک ہیں۔ انکا فرمانا ہے کہ حکومتِ وقت کی اجازت کے بغیر جہاد دہشت گردی ہے۔ لیکن اگر کوئی سرپھرا یہ پوچھ لے کہ حضور ! جہاد کے جواز یا عدم جواز کے بارے میں آپکا فرمایا ہوا سر آنکھوں پر لیکن اس حکومت کے اخلاقی، مذہبی یا آئینی وجود کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟؟ ظاہر ہے اس مقام پر انکے پر بھی جلتے ہیں کہ حکومتِ وقت کی ناراضگی بھی مول لیں اور مفت کی شہرت کا موقع بھی ہاتھ سے گنوائیں۔ جدید مذہب کے یہ پرچارک جمہوریت کو بھی عین اسلامی ثابت کرنے پر کم بستہ ہیں اور پڑھے لکھے مڈل کلاسیوں سے ڈھیروں داد سمیٹ رہے ہیں۔ مگر یہ نہیں بتاتے کہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر آئین اور قانون کو اپنی ذات کے طواف پر مجبور کرنے والا فردِ واحد کس طرح سے جمہوریت کو رائج کرسکتا ہے؟؟؟ ڈکٹیٹر کا تو مسئلہ ہی یہ ہے کہ عوام اسکے نزدیک ڈھورڈنگروں کے مصداق ہوتے ہیں۔ ان کی رائے اس قابل نہیں ہوتی کہ اسکی روشنی میں ملک کی تقدیرکے فیصلے کئے جائیں۔ آمریت اپنے تئیں عقلِ کل ہوتی ہے اور خوشامدیوں کے کئی گروہ اس خیالِ خام کو پختہ بنانے کیلئے ہمہ وقت خدمت میں حاضر رہتے ہیں۔ ہمارے ملک کا کونسا ایسا ڈکٹیٹر ہے جسے اپنی اپنی مرضی کے مذہبی نابغے دستیاب نہیں رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جومذہبی تاویلات کے زور پر عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے میں مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔ نہ انہیںسماجی سائنسز کا علم ہوتا ہے نہ نیچرل سائنس کا اور نہ ہی یہ حضرات ان علوم کے باہمی ربط کے بارے میں کسی گہرے ادراک کے حامل ہوتے ہیں مگر نظریہ ارتقاء پر اس اندازمیںتنقید کرتے ہیں جیسے یہ ڈارون سے بھی کہیں زیادہ اس علم کو جانتے ہوں۔ حالانکہ کون نہیں جانتا کہ انہیں ڈارون کیخلاف اپنی بے مغز مذہبی تاویلات کیلئے دلائل کی غذا بھی مغرب سے ہی درآمد کرنی پڑتی ہے۔ علم اور آزادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ علم کو کسی مذہب یا نظریے کی بیڑیاںپہنا کر پروان چڑھانا ممکن نہیں ہے کہ علم اپنی ذات میں سب سے زیادہ ان بیڑیوں کا ہی دشمن ہے۔ہمیں علم کو دریافت اور ایجاد کے مرحلے میں مکمل آزادی دینا ہوگی۔ ہاں البتہ جب ایجاد یا دریافت کا مرحلہ تکمیل پذیر ہوچکے تو پھر اسے مذہب کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے ہمیں اجتماعی انسانی عقل کی روشنی میں یہ طے کرنا ہوگا کہ یہ علم ہمارے لئے اجتماعی طور پر افادہ بخش ہے یا ضرر رساں۔کوئی بھی سائنسی ایجاد یا دریافت محض ایک مجرد طاقت ہے جو اپنی ذات میں نہ اچھی ہے نہ بری، نہ نیک نہ بد، بلکہ اس کا حسن وقبح اسکے استعمال کے پیچھے موجود مفادات سے طے ہوگا۔یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ وہ مفاد کسی اقلیتی گروہ کے حق میں ہے یا اجتماعی انسانیت کے حق میں۔ معذرت کیساتھ گذارش ہے کہ افادے کا اصول طے کرنے کا حق کسی بھی مذہب کے علماء یا پیروکاروں کو نہیں دیا جاسکتا۔ کون نہیں جانتا کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی حقانیت کے بارے میں احساسِ برتری کا شکار ہیں سو ان سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ علم اور تحقیق کے معاملے میں معروضی رویہ اپناسکیں۔ یہ بات طے ہے کہ ہمارے سماج میں علم کے پنپنے کی یہی صورت ہے کہ مکالمہ عام ہواو ر فتویٰ بازی کے شوق پر قانونی بندش عائد ہو۔ مکالمہ تبھی ممکن ہوگا جب حقیقی جمہوریت رائج ہوگی اور کسی طالع آزما کی موجودگی میں جمہوریت کی تمنا سراب کو دریا سمجھنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

One thought on “سائنس کو مسلمان بنانے کی خواہش

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s