وزیر خارجہ کی خصوصی ذاتی توجہ کیلئے ! !

جناب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا دفتر خارجہ کے ماہرین نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل خارجہ تعلقات کمیٹی کی پاکستان کے بارے میں حال میں جاری کردہ رپورٹ کا بغور جائزہ لیا ہے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان‘ امریکہ برطانیہ اور دیگر مغربی طاقتوں کا ایک نہایت اہم اتحادی ہے جسے واشنگٹن نے فرنٹ لائن ریاست کا لقب دیا ہے۔ بغیر کوئی ٹھوس ثبوت مہیا کئے برطانوی خارجہ تعلقات کمیٹی کی اس شرانگیز اور متعصبانہ رپورٹ میں زہر اگلا گیا ہے کہ ’’اگر کسی مغربی ملک میں 911 جیسا حادثہ دوبارہ ظہور پذیر ہوا تو یہ پاکستان کے ان علاقوں میں سے ہو گا جو القاعدہ اور طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں‘‘۔ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ان علاقوں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے برطانوی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کی اس رپورٹ میں برطانیہ اپنے فرنٹ لائن اتحادی کے بارے میں اس بے معنی اور حقارت آمیز بیان سے بھی گریز نہیں کرتا جو عام سفارتی آداب کے منافی ہے کہا گیا ہے ’’اور جہاں پاکستان کی اتھارٹی بہت کم ہے‘‘۔ برطانوی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کو میں وہ دن یاد دلانا چاہتا ہوں جب آئرلینڈ میں وہاں کے گورے لوگوں کا اپنی گوری آبادی کی اکثریت کا اپنے گورے بھائیوں کے ہاتھوں سے جوتے کھانے کے بعد عزت سے زندگی بسر کرنا دشوار ہو گیا تھا لیکن پاکستان کے عوام، ذرائع ابلاغ دفتر خارجہ اسلام آباد نے کبھی ایسی الزام تراشی نہیں کی تھی جس کا مظاہرہ برطانوی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کے بارے میں کیا ہے ، اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی ہے جیسے پاکستان افریقہ یورپ یا ایشیا کا کوئی نامعلوم یا چھوٹا سا ملک ہے برطانیہ اپنے آپ کو ’’جمہوریت کی ماں‘‘ کہتا ہے لیکن اپنی وسیع و عریض ایمپائر کھو کر بھی رسی کے جل جانے کے باوجود اس کا بل قائم ہے اور مرزا غالب کے بقول سب کچھ کھو کر بھی پگڑی کا طرہ طرار قائم ہے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ میں کہتی ہے جمہوری حکومت کے قیام اور عسکریت پسندی سے نمٹنے کے دعوئوں کے باوجود پاکستان آرمی ملک کے دفاع خارجہ امور اور داخلی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے جس سے سویلین حکومت کی ملک کے اندر رٹ قائم کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور سیاستدانوں کی بجائے پاک آرمی اور انٹر سروسز ایجنسی آئی ایس آئی پاکستان کی قومی سلامتی کے علاوہ خارجہ پالیسی کا بھی تعین کرتی ہے‘‘۔ کیا احتجاج کیا ہے وزیر خارجہ مخدوم صاحب نے یا ان کی سفارش پر وزیراعظم پاکستان نے اس جسارت اور نامعقول ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی پر حکومت برطانیہ سے اور اگر اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں یہ دم خم باقی نہیں رہا تو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہی برطانیہ کے وزیراعظم کو اپنی خارجہ تعلقات کمیٹی کی ہرزہ سرائی پر دوچار کھری کھری سنا دیتے۔
میرے خیال میں اگر کوئی بیرونی ملک ایتھوپیا، سوڈان یا بوسنیا کے اندرونی معاملات میں کوئی ناجائز بلااشتعال دخل اندازی کا مرتکب ہو تو کم از کم اور کچھ نہیں تو عالمی برادری اور اقوام متحدہ میں سخت احتجاج تو ضرور داغا جاتا۔ مخدوم صاحب سے میرا دوسرا سوال یہ ہے ہم جو ٹھہرے ایک ایٹمی نیوکلیئر طاقت۔ کیا یہ محض ایک پھوکا کاغذی ڈراوا ہے یا کیا ہم ایک ایسا اژدھا ہیں جس کے کسی نے سارے دانت نکال کر اسے محض دکھاوے کے خطرناک سانپ کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔
نوائے وقت نے برطانوی خارجہ تعلقات کمیٹی کی رپورٹ پر 4 اگست کو ایک حقیقت پسندانہ بامعنی اداریہ تحریر کیا ہے جس میں حکومت پاکستان کو ایک باعزت انداز اور خودمختار ملک کے طور پر ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اگر وفاقی حکومت نے اعلی ترین سطح پر ایسے اقدامات نہ کئے جو ایک نیوکلیئر پاور کے عالمی سٹیٹس کا تقاضا ہے تو پاکستان کا نیوکلیئر سٹیٹس عالمی برادری میں ایک مذاق بن جائے گا۔

Link Page

http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Opinions/Columns/05-Aug-2009/3512

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s