‘مینوں کی پتہ۔۔’

ان دنوں پاکستان میں میڈیائی بلونگڑے کے آگے ایک نئی گیند اچھال دی گئی ہے یعنی ایم کیو ایم کے خلاف انیس سو بانوے کا آپریشن فوج نے اپنی مرضی سے شروع کیا تھا یا اس وقت کے سیاسی وزیرِ اعظم نواز شریف کو اعتماد میں لے کر کیا گیا تھا۔

جو زندہ ہیں کہہ رہے ہیں۔۔۔ ‘صدر غلام اسحاق خان مرحوم، جنرل آصف نواز مرحوم یا جام صادق علی مرحوم سے جا کر پوچھو۔۔ مینوں کی پتہ۔۔’

مینوں کی پتہ! یہ وہ جادوئی فقرہ ہے جو ہر سیاستدان، جرنیل اور ویلے انٹیلی جنس افسر اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ کی ڈھال ہے۔

جی کشمیر میں انیس سو اڑتالیس میں قبائلی کس نے بھیجے۔۔ ‘مینوں کی پتہ۔۔۔ جنرل اکبر خان یا قائدِ اعظم سے پوچھیں۔’

انیس سو پینسٹھ میں آپریشن جبرالٹر کس نے شروع کیا۔ ‘فلاں نے کیا، فلاں نے کیا، فلاں نے کیا۔’ اور آپ؟؟ ‘میں۔۔ میں تو اس وقت ملک میں تھا ہی نہیں، مینوں کی پتہ۔’

اور اکہتر میں مشرقی پاکستان؟ ‘یقیناً بھٹو تھا، مجیب تھا، نیازی تھا، ٹکا خان تھا، یحیی تھا، اندرا تھی، اروڑا تھا۔۔۔ میں، میں تو اس وقت بیت الخلا میں تھا۔۔۔ مینوں کی پتہ۔۔’

اور بھٹو کی پھانسی؟ ‘صاف ظاہر ہے ضیا تھا، چشتی تھا، تارا مسیح تھا، میرا کیا لینا دینا میں تو اس وقت سوات میں چھٹیاں گزار رہا تھا۔۔’

اور ضیا الحق کی موت ؟ ‘جنرل بیگ سے پوچھیں، اعجاز الحق سے پوچھیں، ریگن سے پوچھ لیں۔۔ میں تو بہاولپور گیا ہی نہیں۔ مینوں کی پتہ!!’

اور کرگل؟ نواز شریف کہہ رہے ہیں، مینوں کی پتہ، مشرف کہہ رہے ہیں، مینوں کی پتہ۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ ‘تو پھر یقیناً سردار عبدالقیوم نے فوج بھیجی ہوگی ان سے معلوم کریں۔۔۔’

اور بے نظیر کا قتل؟ ‘دیکھیں جی اس میں یا تو بیت اللہ ملوث تھا، یا پھر راولپنڈی میونسپلٹی والے ملوث ہیں، جنہوں نے واردات کے دو گھنٹے کے اندر جائے وقوعہ کو دھو ڈالا۔۔۔ میں تو ان دنوں بیمار شمار تھا، میرا ہاتھ کیسے ہوسکتا ہے۔ قسمے خدا دی!’

اور یہ رویہ صرف سیاستدان، جرنیل، ویلے انٹیلی جنس افسر یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہی کا نہیں۔ آپ سڑک پر نکل کر اس موٹر سائیکل سوار اور کار ڈرائیور کا مکالمہ سنیں جن کی ابھی ابھی ٹکر ہوئی ہو۔ ‘تم تھے’، ‘نہیں تم غلط سمت سے آرہے تھے’، ‘نہیں تمہیں گاڑی نہیں چلانی آتی’، ‘میرا کیا قصور!’ ‘اوئے تم تھے!’ آپ جمع ہونے والی بھیڑ میں کسی راہ گیر سے پوچھیں قصور کس کا تھا؟ وہ کندھے اچکا کر دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے گا ‘اس سے پوچھیں، اس نے مجھ سے پہلے یہ حادثہ دیکھا’۔ آپ دوسرے سے پوچھتے ہیں تو وہی جواب ملتا ہے۔۔ ‘مینوں کی پتہ۔ اس سے پوچھیں۔۔’

اس اجتماعی رویے کے تناظر میں کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ پاکستان میں جن جن عمارات اور پہاڑیوں پر جلی حروف میں ‘ایمان، اتحاد، تنظیم’ لکھا ہوا ہے، اسے کھرچ کر زیادہ بڑے حروف میں لکھوا دیا جائے:

‘مینوں کی پتہ!’

اھلا و سھہل رمضان کریم

استقبال رمضان ::مبارک اور رحمتوں بھرے لمحات

RamadanMubarak

السلام علیکم ورحمۃ‌اللہ وبرکاتہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے

ان لِلَّهِ عُتَقَاءَ في كل يَومٍ وَلَيلَةٍ لِكلِّ عَبدٍ منهم دَعوَةٌ مُستَجَابَةٌ

بے شک اللہ تعالیٰ ہر رات میں اور ہر دِن میں (یعنی رمضان کی راتوں اور دِنوں میں) لوگوں کو (جہنم کی آگ سے ) آزاد فرماتے ہیں اور ان آزاد ہونے والوں میں سے ہر ایک کے ایک قبول شدہ دُعا ہوتی ہے   مسند أحمد ، صحیح الجامع الصغیر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رجب سے یہ دعا مانگنا شروع کردیتے

اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان
ائے اللہ رجب بھی ہمارے لیے مبارک کردے شعبان بھی اور ہمیں رمضان المبارک تک لے جا

محترم بھائیو اور بہنو
ہمارے گھر، خاندان، اور معاشرے میں‌کتنے افراد ایسے تھے جو پچھلے رمضان المبارک میں‌ہمارے ساتھ تھے لیکن آج وہ ہم میں‌نہیں‌ وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں‌یقینآ ہم سب نے وہیں‌جانا ہے۔
اس لیے جسے یہ ایام مبارک نصیب ہوں‌وہ بڑا ہی خوش بخت اور سعید ہے جس شخص کے لیے یہ ایام ویسے ہی ہیں‌جیسے زندگی کے دوسرے دن اور اس نے اس ماہ مبارک کی راتوں میں‌قیام نہ کیا، قرآن سے اپنے قلب و روح کو سرشار نہ کیا دن میں‌اللہ کے لیے ناجائز امور سے رک نہ گیا اور نوافل و تلاوت کے ذریعے اللہ رب العزت کی محبت اور ڈر کو حاصل نہ کر پایا تو وہ بڑا ہی بدبخت ہے (ائے اللہ ہمیں ایسا نہ بنا آمین)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ یہ دعا رمضان کے آخری ایام میں کیا کرتے تھے
اللهم لا تجعله اخر العهد من صيامنا ايام فأن جعلته فأجعلني مرحوما ولا تجعلني محروما
ائے ہمارے اللہ یہ یہ روزے ہمارے آخری روزے نہ ہوں (ہمیں اسکے بعد بھی رمضان عطا کیجیے گا (اور اگر آپکا فیصلہ ہے کہ یہ روزے میرے آخری روزے ہیں تو مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جن پر آپ نے رحم فرمادیا اور مجھے محروم ہوجانے والے (بدنصیب) لوگوں میں‌شامل نہ فرمائیے۔
ائے ہمارے رب ہمیں‌ایسا بنا کہ اس ماہ میں‌نیکیوں‌کو بڑھانے کی فکر کریں اور جہنم سے آزادی پانی کے لیے جو کچھ بھی کرسکتے ہیں کر گزریں اور یہ سب کرنے کے بعد تیرے سامنے عاجزی سے جھک جائیں‌اور جہنم سے آزادی کی دعا کریں۔ آمین

روزے کے مقاصد اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں‌یہ بیان کیے ہیں

رمضان کا قرآن سے تعلق
{ ماہ رمضان وہ ہےجس میں قرآن مجید اتارا گیا جولوگوں کو ھدایت کرنے والا ہے اورجس میں ھدایت کی اورحق و باطل کی تمیز کی نشانیان ہیں} البقرۃ ( 185 )

تقوی و پرہیز گاری

{ اے ایمان والو تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہيں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنے فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی وپرہیز گاربنو } البقرۃ ( 183 ) ۔

رمضان المبارک میں‌ قرآن حکیم کو تلاوت کرنے، سمجھنے عمل کرنے اور دوسرے لوگوں تک پنچانے کے لیے بے شمار مواقع ملتے ہیں اور قرآن، نوافل روزہ انسان کے اندر تقوی پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

آئیے ہم سب مل رمضان المبارک کا استقبال کریں‌اور اس کو بہترین انداز میں بسر کرنے کا عہد کریں

سائنس کو مسلمان بنانے کی خواہش

کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے کہ مسلم دانش گذشتہ آٹھ صدیوں سے مسلسل روبہ زوال ہے اور دنیا کے مسائل کا مدلل حل پیش کرنے اور عملی سطح پر کوئی مثبت قدر تخلیق کرنے سے عاری ہوچکی ہے۔

۔ جب سے مسلم دنیا کا واسطہ دوسری سوسائٹیوں میں پنپنے والے علوم سے پڑا ہے اسکے دانشور بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ ایک وہ جو مذہب کو اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ویسا ہی رکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ چودہ صدیوں پہلے تھا جبکہ دوسرا گروہ وقفوں وقفوں سے اسے وقت کے تقاضوں کیساتھ ہم آہنگ بنانے کی کوشش میں لگا ہواہے۔ جب یونانی فلسفہ مسلم دنیا میں متعارف ہوا تو مسلم دانش میں حیران کن انقلابی تبدیلیوں کا آغاز ہواجسکے نتیجے میں ابنِ رشد جیسے فلسفی اور ابنِ سینا جیسے حکیم اور سائنسدان پیدا ہوئے کہ جن کے نقشِ قدم آج کی جدید یوروپی دنیا کی بنیاد بنے۔ یہ مسلم فلاسفہ اور سائنسدان ہی تھے جنہوں نے ماضی میں سسکتے اور دم توڑتے ہوئے یونانی فلسفے کو اپنے غوروفکر اور تدبر سے دوبارہ زندگی عطا کی۔ لیکن بدقسمتی سے سوادِ اعظم نے کبھی بھی اس روش کو پذیرائی نہیں بخشی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی کم علمی اور معاشی مسائل کی وجہ سے مذہب کیساتھ اپنی نسلی، جذباتی اور نفسیاتی گرفت سے کبھی بھی نجات پانے کے قابل نہیں ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ خرد دشمن اور روائتی مذہب کے پرچارک مُلاّؤں نے ہمیشہ ہی انہیں نہایت کامیابی کیساتھ استعمال کرتے ہوئے استحصالی حکمران طبقوںکیلئے آسان شکار بنائے رکھا۔ سائنس ہماری زندگی کا سب سے زیادہ جیتا جاگتا، توانا اور ثابت شدہ مظہر ہے جس سے کوئی عقل کا اندھا ہی انکار کرسکتا ہے۔ روائتی مذہب کے کھونٹے سے بندھے ہوئے مُلاّ نما علماء کو اس سے زیادہ بھڑکانے والا مظہر اور کوئی نہیں ہے، جسکے نتیجے میں نہ صرف وہ خود منفی ردِعمل کی نفسیات کا شکار بنتے ہیں بلکہ اپنی متعصبانہ جذباتی تقریروںاور تحریروں سے عوام کو بھی سائنسی علوم کی اہمیت کے ادراک سے دور رکھتے ہیں۔ یہی وہ منفی ردِعمل کی نفسیات ہے جو معصوم اور بے علم نوجوانوں کو مذہب کے نام پر تشدد اور خودکش حملوں کی طرف آسانی کیساتھ مائل کردیتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ نائن الیون کے واقعہ نے یوروپی دنیا میں مسلمانوں کا تشخص پہلے سے بھی زیادہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ ہمارے بے سوچے سمجھے اعمال کا شاخسانہ ہے کہ اب ہر مسلمان کو ایک اچھے انسان کی بجائے محض دہشت گرد کے روپ میں دیکھا جارہا ہے۔ حالات کی سنگینی کا احساس مفقود ہے ۔ ردعمل کی نفسیات میں الجھے ہوئے یہ لوگ ایک ان دیکھی دنیا کو آباد کرنے کے شوق میں جیتی جاگتی انسانی دنیا کو برباد کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہ دعویٰ کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے، کوئی بھلا کیونکر مانے گا؟؟؟ عرصہ ہوا دنیا کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکی مگر ہماری جہالت کا حوصلہ دیکھو کہ ہم ابھی تک ماضی کے شاندار قصوں کی ریت میں شتر مرغ کی طرح گردن دبائے کھڑے ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو مسلمان دانشوروں کا وہ عقلیت پسند گروہ جو یوروپ کی نشاة ثانیہ کے بعد کی پیداوار ہے ، وہ بھی ایک خاص معنوں میں شکست خورہ ذہنیت کیساتھ ساتھ نفسیاتی باندھ کا شکار بھی ہے۔ شکست خوردہ ذہنیت ان معنوں میں کہ انہیں اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اب سائنسی ترقی کا راستہ روکنا انکے بس کی بات نہیں رہی اور نفسیاتی باندھ یہ کہ مذہب ہی انسان کو بہترین رہنمائی فراہم کرسکتا ہے۔ لہٰذا وہ جدید سائنسی انکشافات کو مذہب سے ہم آہنگ کرنے کی مشکل سے ہمہ وقت دوچار رہتے ہیں اور سائنس ہے کہ اسکی برق رفتاری انہیں دم لینے کی مہلت نہیں دے رہی۔ اقبال بلاشبہ عظیم امکانات سے بھرپور ذہن کے مالک تھے اور ہم انہیں گذشتہ صدی سے لیکر آج تک کے جدید سوچ رکھنے والے مسلمانوں کا گرو کہہ سکتے ہیں، لیکن وہ بھی اپنی نفسیاتی ساخت کی بنا پرسائنس کو مسلمان کرنے کی ایسی کوشش کرتے رہے جسکاکہ کچھ عرصہ کے بعد متروک ہوجانے کا امکان بدرجہء اتم موجود تھا۔ اقبال خواجہ غلام السیّدین کے نام ایک خط میں یوں رقم طراز ہیں: ”علم سے میری مراد وہ علم ہے جس کا دارومدار حواس پر ہے۔ عام طور پر میں نے علم کا لفظ انہی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس علم میں ایک طبعی قوت ہاتھ آتی ہے جس کو دین کے ماتحت رکھنا چاہئے۔ اگر دین کے ماتحت نہ رہے تو محض شیطنت ہے۔۔۔۔ مسلمانوں کیلئے لازم ہے کہ علم یعنی اس علم کو جس کا مدار حواس پر ہے اور جس سے بے پناہ قوت پیدا ہوتی ہے، مسلمان کریں۔

اقبال ہی کیا ان کے ایک ہم عصر سیّد سلیمان ندوی کی خواہش بھی یہی تھی جسکا اظہار انہوں نے ”حیاتِ شبلی” میں یوں کیا اور اقبال سے زیادہ برملا انداز میں کیا۔ وہ لکھتے ہیں: ”

امام غزالی کا اصلی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے یونانی تراجم کو براہِ راست درس میں داخل نہیں کیا بلکہ ان علوم کو پڑھ کر انہوں نے خود یا دوسرے مسلمانوں نے ان علوم پر اپنی اسلامی طرز کی کتابیں لکھیں انکو علماء کے درس میں رکھا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے ان علوم کو مسلمان بنایا پھر انکو مسلمانوں میں رواج دیا۔۔۔ تاہم جو اصل نکتہ ہے وہ یہی ہے کہ کہ پہلے ان جدید علوم کو مسلمان بنانا چاہئے پھر انکو مسلمانوں میںرواج دینا چاہئے۔” مطلب یہ ہوا کہ علم کی دریافت کیلئے اپنی جان جوکھوں میں دوسرے ڈالیں اور مسلمانوں کا کام اتنا ہے کہ وہ علم کی ہر نئی دریافت کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کرلیں اور پھر دعویٰ کرتے پھریں کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے ۔۔۔

‘فکرِاقبال’ میں خلیفہ عبدالحکیم لکھتے ہیں: ”اقبال آخری عمر میں فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اپنا نظریۂ حیات فلسفیانہ جستجو سے حاصل نہیں کیا۔ زندگی کے متعلق ایک خاص زاویۂ نگاہ ورثے میں مل گیا تھا، بعد میں مَیں نے عقلی استدلال کو اسکے اثبات میں صرف کیا۔” یعنی اقبال کا مسئلہ بھی عقیدے کی بنیاد پر پہلے سے بنی ہوئی اپنی نفسیاتی ساخت کو جدید فلسفے اور سائنس کی مدد سے درست ثابت کرنا تھا نہ کہ سائنس اور فلسفے کی روشنی میں اس ساخت کو بدلنا۔ اقبال کا معاملہ اس عیسائی متکلم جیسا ہے جس نے صدیوں پہلے کہا تھا: ”میں پہلے عقیدہ رکھتا ہوں، پھر غوروفکر کرتا ہوں۔ غوروفکر کے بعد عقیدہ اختیار نہیں کرتا۔” اقبال کو اپنی اس نفسیاتی ساخت کی بنا پر اس بات کا یقین تھا کہ عنقریب ایک وقت آئیگا جب سائنس اور مذہب میں مشترک اقدار دریافت کرلی جائیں گی۔ یعنی انکا یہ پختہ خیال تھا کہ سائنس عنقریب مذہب کی حقانیت ثابت کردے گی۔ وہ غالباََ یہ نہیں جانتے تھے کہ سائنس کا کبھی یہ مسئلہ نہیں رہا کہ وہ خود کو مذہب کیساتھ ہم آہنگ کرنے کی خواہش میں دریافت کرے بلکہ یہ مسئلہ اہلِ مذہب کا ہے کہ انہیں کچھ عرصہ بعدہی دوبارہ سے مذہب کی ایسی تشریحات پر مجبور ہونا پڑتا ہے جو سائنس سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ اقبال نے بلاشبہ جدید فلسفے اور سائنسی علوم کا بڑی عرق ریزی کیساتھ مطالعہ کیا لیکن بدقسمتی سے انہوں نے اپنے مطالعے کا حاصل مابعدالطبیعات کی بھول بھلیوں میں گما دیا۔ ان حالات میں بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ یہ بھول بھلیاںانکی شاعری اور نثر میں منعکس نہ ہوتیں۔ علی عباس جلالپوری نے یہ کہہ کر دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ ”چونکہ رومانی ہونے کے باعث اقبال نے بھی صرف شاندار اور پُرکشش تعمیمات (Generalities) کی طرف توجہ دلانے پر کفائت کی ہے جن کے مطالعہ سے فرد کے تخیلات اور جذبات کو ہنگامی طور پر تو ضرور اکسایا جا سکتا ہے لیکن انکی مدد سے کوئی موثر اور نتیجہ خیز اجتماعی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔” مولانا مودودی تو اس فکر میں تھے کہ کسی طرح مسلمانوں میں ایسے مفکر پیدا ہوں جو نہ صرف مغربی تہذیب کی بنیادوں کو ڈھادیں بلکہ قرآن کی بنیاد پر ایک نئی اسلامی سائنس کی عمارت بھی اٹھائیں۔ ع اے بسا آرزو کہ خاک شود۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ نا اہلی کے باوصف احساسِ برتری میں مبتلا اور علم کو اپنے عقائد کا غلام سمجھنے والے لوگ کبھی خواہشات کی سطح سے اوپر نہیںاُٹھ سکتے۔ مولانا مرحوم بھی اپنی فکر میں تضادات کا عجیب وغریب مرقع تھے۔ جس مغربی تہذیب کو وہ ڈھانے کی خواہش میں مبتلا ہیں اب اسی تہذیب کی تعریف میں یوں رطب اللسان ہیں: ”مسلمانوں کی افسردہ، جامد اور پسماندہ تہذیب کا مقابلہ ایک ایسی تہذیب سے ہے جس میں زندگی ہے، حرکت ہے، روشنیٔ عمل ہے، گرمیٔ عمل ہے۔ ایسے نامساوی مقابلے کا جو نتیجہ ہوسکتا ہے وہی ظاہر ہورہا ہے۔ مسلمان پسپا ہورہا ہے، ان کی تہذیب شکست کھا چکی ہے۔” یہ سائنس کی مجبوری نہیں ہے کہ وہ اپنے سچ کی سند کیلئے مذہب کی محتاج ہو بلکہ یہ مذہب کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے سچ کی سند کیلئے سائنس کا محتاج ہوتا جا رہا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ سائنس کے چیلنج کی سنجیدگی کو محسوس کرنے والے علماء غیر شعوری طور پر یہ بات تسلیم کر چکے ہیںکہ انکے اکثر اعتقادات عقلی سطح پر قائل کرنے والے دلائل سے محروم ہیں، سو وہ لاشعوری طور پراس خواہش اور کوشش کا شکار نظر آتے ہیں کہ کسی طرح انہیں سائنس کی طرف سے کوئی جواز میسر آجائے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، علم اور ترقی کے منہ زور گھوڑے پر سواری کی معصوم خواہش اپنی جگہ پر، مگر موجودہ روش کی بنا پر ہم زیادہ سے زیادہ اسکی دم پکڑ کر گھسٹ ہی سکتے ہیں کیونکہ ہمارے قومی جسد میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم زقند بھر کر اسکی پیٹھ پر سوار ہو سکیں۔ سوال یہ ہے کہ امام غزالی سے لیکرموجودہ دور تک جن نابغوں نے سائنس اور فلسفے کی ترقی سے خوفزدہ ہوکر عقل کو عقل کے خلاف استعمال کیا اور یا پھر سائنس اور فلسفے کو عقائد کی حقانیت ثابت کرنے والا ٹُول سمجھا، آخر انہوں نے مسلم سماج کی مبلغ عقل میںآج تک کونسا ایسا اضافہ کیا کہ دنیا کی کوئی دوسری قوم رہنمائی کیلئے ہم سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئی ہو۔ ہاں البتہ الٹا معاملہ یہ ہے کہ ہم من حیث الامّہ ایک طویل عرصہ سے مغرب کے دریوزہ گر ضرور بنے ہوئے ہیں۔ مگر پھر بھی دعویٰ یہ ہے کہ ایک دن آئیگا جب انکی سائنس کو مذہب کی غلامی میں آنا ہی پڑے گا۔ یوروپ نے تو عرصہ ہوا اس بیکار شغل سے نجات حاصل کرلی ہے ۔ علم کو مذہب کی گرفت سے آزاد کردیا اور سیاسی اخلاقیات اور قانون باہمی مشاورت سے اخذ کرنے کا اصول اپنالیا۔ لہٰذا وہاں تقدس کا بھاری اور جامد پتھر انکی راہ کی رکاوٹ نہیں رہا۔ لیکن اسکا کیا کیا جائے کہ مسلم دنیا کا غالب حصہ ابھی تک آمریت کے چنگل میں ہے جہاں فیوڈلزم پورے طمطراق سے جمہوریت کا مذاق اڑا رہا ہے۔ آمریت کو اپنا بھیانک چہرہ چھپانے کیلئے ہمیشہ مذہب کا نقاب درکار ہوتا ہے تاکہ لوگ خدا کے خوف سے اس مقدس نقاب کو نوچنے کی ہمت نہ کریں۔ ہماری مملکت خداداد میں فوجی آمریت کی ٹوپی میں جمہوریت کا نمائشی پر اُڑس کر دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مذہب کے جدید ایڈیشنوں کے خالقوں کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری سبھی ٹی وی چینلوں کے در وا ء کئے جارہے ہیں۔ ایم ایم اے جیسے آرتھوڈاکس ملاّؤںکی پسِ پردہ حمایت کیساتھ ساتھ جدید مولویوں کو بھی پیش پردہ حکومتی پالیسیوں کی حمایت کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ مذہب کے نام پر دہشت گردی کے حمائتی اور مذہب کے نام پر ہی دہشت گردی کے مخالف دونوں اپنے اپنے گروہی مفاد کی وجہ سے حکومت کے ہاتھ میںہیں۔ اسلام کی جدید تشریح کے پرچارک تاویلات کے فن میں حسبِ سابق بہت تاک ہیں۔ انکا فرمانا ہے کہ حکومتِ وقت کی اجازت کے بغیر جہاد دہشت گردی ہے۔ لیکن اگر کوئی سرپھرا یہ پوچھ لے کہ حضور ! جہاد کے جواز یا عدم جواز کے بارے میں آپکا فرمایا ہوا سر آنکھوں پر لیکن اس حکومت کے اخلاقی، مذہبی یا آئینی وجود کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟؟ ظاہر ہے اس مقام پر انکے پر بھی جلتے ہیں کہ حکومتِ وقت کی ناراضگی بھی مول لیں اور مفت کی شہرت کا موقع بھی ہاتھ سے گنوائیں۔ جدید مذہب کے یہ پرچارک جمہوریت کو بھی عین اسلامی ثابت کرنے پر کم بستہ ہیں اور پڑھے لکھے مڈل کلاسیوں سے ڈھیروں داد سمیٹ رہے ہیں۔ مگر یہ نہیں بتاتے کہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر آئین اور قانون کو اپنی ذات کے طواف پر مجبور کرنے والا فردِ واحد کس طرح سے جمہوریت کو رائج کرسکتا ہے؟؟؟ ڈکٹیٹر کا تو مسئلہ ہی یہ ہے کہ عوام اسکے نزدیک ڈھورڈنگروں کے مصداق ہوتے ہیں۔ ان کی رائے اس قابل نہیں ہوتی کہ اسکی روشنی میں ملک کی تقدیرکے فیصلے کئے جائیں۔ آمریت اپنے تئیں عقلِ کل ہوتی ہے اور خوشامدیوں کے کئی گروہ اس خیالِ خام کو پختہ بنانے کیلئے ہمہ وقت خدمت میں حاضر رہتے ہیں۔ ہمارے ملک کا کونسا ایسا ڈکٹیٹر ہے جسے اپنی اپنی مرضی کے مذہبی نابغے دستیاب نہیں رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جومذہبی تاویلات کے زور پر عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے میں مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔ نہ انہیںسماجی سائنسز کا علم ہوتا ہے نہ نیچرل سائنس کا اور نہ ہی یہ حضرات ان علوم کے باہمی ربط کے بارے میں کسی گہرے ادراک کے حامل ہوتے ہیں مگر نظریہ ارتقاء پر اس اندازمیںتنقید کرتے ہیں جیسے یہ ڈارون سے بھی کہیں زیادہ اس علم کو جانتے ہوں۔ حالانکہ کون نہیں جانتا کہ انہیں ڈارون کیخلاف اپنی بے مغز مذہبی تاویلات کیلئے دلائل کی غذا بھی مغرب سے ہی درآمد کرنی پڑتی ہے۔ علم اور آزادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ علم کو کسی مذہب یا نظریے کی بیڑیاںپہنا کر پروان چڑھانا ممکن نہیں ہے کہ علم اپنی ذات میں سب سے زیادہ ان بیڑیوں کا ہی دشمن ہے۔ہمیں علم کو دریافت اور ایجاد کے مرحلے میں مکمل آزادی دینا ہوگی۔ ہاں البتہ جب ایجاد یا دریافت کا مرحلہ تکمیل پذیر ہوچکے تو پھر اسے مذہب کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے ہمیں اجتماعی انسانی عقل کی روشنی میں یہ طے کرنا ہوگا کہ یہ علم ہمارے لئے اجتماعی طور پر افادہ بخش ہے یا ضرر رساں۔کوئی بھی سائنسی ایجاد یا دریافت محض ایک مجرد طاقت ہے جو اپنی ذات میں نہ اچھی ہے نہ بری، نہ نیک نہ بد، بلکہ اس کا حسن وقبح اسکے استعمال کے پیچھے موجود مفادات سے طے ہوگا۔یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ وہ مفاد کسی اقلیتی گروہ کے حق میں ہے یا اجتماعی انسانیت کے حق میں۔ معذرت کیساتھ گذارش ہے کہ افادے کا اصول طے کرنے کا حق کسی بھی مذہب کے علماء یا پیروکاروں کو نہیں دیا جاسکتا۔ کون نہیں جانتا کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی حقانیت کے بارے میں احساسِ برتری کا شکار ہیں سو ان سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ علم اور تحقیق کے معاملے میں معروضی رویہ اپناسکیں۔ یہ بات طے ہے کہ ہمارے سماج میں علم کے پنپنے کی یہی صورت ہے کہ مکالمہ عام ہواو ر فتویٰ بازی کے شوق پر قانونی بندش عائد ہو۔ مکالمہ تبھی ممکن ہوگا جب حقیقی جمہوریت رائج ہوگی اور کسی طالع آزما کی موجودگی میں جمہوریت کی تمنا سراب کو دریا سمجھنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

یہ وقت بھی گزر جائے گا

کسی بادشاہ نے اپنے ملک سے تمام پڑھے لکھے، عقلمند اور عالم قسم کے لوگوں‌کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا مشورہ، منتر یا مقولہ ہے کہ کو ہر قسم کے حالات میں کام کرے، ہر صورتحال اور ہر وقت میں اس ایک سے کام چل جائے۔ کوئی ایسا مشورہ جو کہ میں اگر اکیلے میں ہوں‌اور میرے ساتھ کوئی مشورہ کرنے والا نہ ہو تب بھی مجھے اس کا فائدہ ہو؟

تمام لوگ بادشاہ کی اس خواہش کو سن کر پریشان ہوگئے کہ کون سی ایسی بات ہے جو کہ ہروقت، ہر جگہ کام آئے؟ جو کہ ہر صورتحال، خوشی، غم، الم، آسائش، جنگ و جدل، ہار، جیت غرض‌کہ ہر جگہ فٹ ہو سکے؟ِ

کافی دیر آپس میں‌بحث و مباحثہ کے بعد ایک بوڑھے آدمی نے ایک تجویز پیش کی جسے تمام نے پسند کیا اور وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔انہوں نے بادشاہ کی خدمت میں ایک کاغذ پیش کیا اور کہا کہ اس میں‌ وہ منتر موجود ہے جس کی خواہش آپ نے کی تھی۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ اس کو صرف اس وقت کھول کر دیکھیں گے جب آپ اکیلے ہوں اور آپ کو کسی کی مدد یا مشورہ درکار ہو۔ بادشاہ نے اس تجویز کومان کر کاغذ کو نہایت حفاظت سے اپنے پاس رکھ لیا.

کچھ عرصے کے بعد پڑوسی دشمن ملک نے اچانک بادشاہ کے ملک پر حملہ کردیا۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بادشاہ اور اس کی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ فوج نے اپنے بادشاہ کے ساتھ ملکر اپنے ملک کے دفاع کی بہت کوشش کی لیکن بالآخر انہیں محاذ سے پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ دشمن ملک کے سپاہی بادشاہ کے پکڑنے اس کے پیچھے لگ گئے اور بادشاہ اپنی جان بچانے کے لیئے گھوڑے پر بھاگ نکلا۔ بھاگتے بھاگتے وہ پہاڑ کے اس مقام پر پہنچ گیا کہ جہاں دوسری طرف گہری کھائی تھی اور ایک طرف دشمن کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے قریب سے قریب تر ہوتے جارہے تھے۔اس صورتحال میں اسے اچانک اس منتر کا خیال آیا جو کہ اسے بوڑھے شخص نے دیا تھا۔ اس نے فورا اپنی جیب سے وہ کاغذ نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔ اس کاغذ پر لکھا تھا کہ “یہ وقت بھی گذر جائے گا”بادشاہ نے حیران ہوکر تین چار دفعہ اس تحریر کو پڑھا — اسے خیال آیا کہ یہ بات تو بالکل صحیح ہے۔ ابھی کل ہی وہ اپنی حکومت میں سکون کی زندگی گزار رہا تھا اور تمام عیش و آرام اسے میسر تھا اور آج وہ دشمن سے بچنے کیلیئے بھاگتا پھر رہا ہے؟ جب آرام اور عیش کے دن گذر گئے تو یقینا یہ وقت بھی گذر جائے گا۔ یہ سوچ کر اسے سکون آگیا اور وہ پہاڑ کے آس پاس کے قدرتی مناظر کو دیکھنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اسے گھوڑوں‌کے سموں کی آوازیں معدوم ہوتی سنائی دیں، شاید دشمن کے سپاہی کسی اور طرف نکل گئے تھے۔بادشاہ ایک بہادر آدمی تھا۔ جنگ کے بعد اس نے اپنے لوگوں کا کھوج لگایا جو آس پاس کے علاقوں میں چھپے ہوئے تھے۔ اپنی بچی کھچی قوت کو مجتمع کرنے کے بعد اس نے دشمن پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی۔ جب وہ جنگ جیت کے اپنی مملکت میں واپس جارہا تھا تو اس کے ملک کے تمام لوگ استقبال کے لیئے جمع تھے۔ اپنے بہادر بادشاہ کے استقبال کے لیئے لوگ شہر کی فصیل، گھروں کی چھتوں غرض کہ ہر جگہ پھول لیئے کھڑے تھے اور تمام راستے اس پر پھول نچھاور کرتے رہے۔ہر گلی کونے میں لوگ خوشی سے رقص کررہے تھے اور بادشاہ کے شان میں قصیدے گا رہے تھے۔ بادشاہ بھی اپنے فوجی قافلے کے ہمراہ بڑی شان سے کھڑا لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ دیکھو لوگ ایک بہادر کا استقبال کیسے کرتے ہیں، میری عزت میں اب اور اضافہ ہوگیا ہے، اور کیوں‌نہ ہوتا، دشمنوں کو ماربھگانا کوئی اتنا آسان نہیں تھا اور خصوصا ایک مکمل شکست کے بعد۔
یہ سوچتے سوچتے اچانک اسے اس کاغذ کے مضمون کا خیال آگیا “یہ وقت بھی گذر جائے گا”۔ اس خیال کے ساتھ ہی اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ اپنے آپ پر غرور ایک ہی لمحہ میں ختم ہوگیا اور اس نے سوچا کہ اگر یہ وقت بھی گذر جائے گا تو یہ وقت میرا نہیں۔ یہ لمحے یہ حالات میرے نہیں، یہ ہار اور یہ جیت بھی میری نہیں۔ہم صرف دیکھنے والے ہیں، ہر چیز کو گذر جانا ہے اور ہم صرف ایک گواہ ہیں۔

ہم صرف محسوس کرتے ہیں۔ زندگی آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ خوشی اور غم کا بھی یہی حال ہے۔ اپنی زندگی کی حقیقت کو جانچیں۔ اپنی زندگی میں خوشی، مسرتوں، جیت، ہار اور غم کے لمحات کو یاد کریں۔ کیا وہ وقت مستقل تھا؟ وقت چاہے کیسا بھی ہو، آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔

زندگی گذر جاتی ہے۔ ماضی کے دوست بھی بچھڑ جاتے ہیں۔ جو آج دوست ہیں وہ کل نہیں رہیں‌گے۔ ماضی کے دشمن بھی نہیں ہیں اور آج کے بھی ختم ہوجائیں گے۔ اس دنیا میں کچھ بھی کوئی بھی مستقل اور لازوال نہیں۔

ہر چیز تبدیل ہو جاتی ہے لیکن تبدیلی کا قانون نہیں بدلتا۔ اس بات کو اپنی زندگی کے تناظر میں سوچیں۔آپ نے کئی تبدیلیوں کو زندگی میں‌دیکھا ہو گا، کئی چیزوں کو تبدیل ہوتے ہوئے مشاہدہ کیا ہو گا۔ آپ کی زندگی میں‌کئی بار غم اور شکست کے حالات آئے ہوں‌گے اور اسی طرح آپ نے کئی پرمسرت لمحات بھی گذارے ہوں‌گے۔ دونوں قسم کے وقت کو گذر جانا ہے، کچھ بھی مستقل نہیں ۔ ہم اصل میں‌کیا ہیں پھر؟ اپنے اصل چہرے کو پہچانیئے ۔ ہمارا چہرہ اصل نہیں ہے۔ اس نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جانا ہے۔ تاہم آپ کے اندر کچھ ایسا ہے کہ جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا اور ہمیشہ ایسا ہی رہتا ہے۔

کیا چیز ہے جو کہ غَیر مُتغَیَّر ہے؟ شاید آپ کے اندر کا صحیح انسان۔ آپ صرف تبدیلی کے گواہ ہیں، محسوس کریں اور اسے سمجھیں ۔
اپنی زندگی کی منفی تبدیلیوں کو محسوس کریں اور اپنی ذات سے اس پر قابو پانے کی کوشش کریں –
رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے اور رہنے والے ہمارے اعمال ——- سوچیں —- اور عمل کریں………… ……… …

Thar coal Reserves

Thar coal reservescoal is gold for pakistan

I have heard many people claiming about very huge reservoirs of coal in thar and the rumors that foreign elements are involved in to keep Pakistan away from utilizing these reserves. Keeping in view the very mean and cruel policies of big energy players all over the world it may be expected that just for their own thriving they may play with future of Pakistan through its ruler class. I got following email from one of my friends. If some part of following email is true even then it is a great issue and needs attention.

 

If All the Oil Reserves of Saudia Arab & Iran Put Together These Are Approximately 375 Billion Barrels, But A Single Thar Coal Reserve of Sindh is about 850 Trillion Cubic Feet, Which is More Than Oil Reserves of Saudia & Iran.

 

These reserves estimated at 850 trillion cubic feet (TCF) of gas, about 30 times higher than Pakistan’s proven gas reserves of 28 TCF.

 

Dr Murtaza Mughal president of Pakistan Economy Watch in a statement said that these reserves of coal worth USD 25 trillion can not only cater the electricity requirements of the country for next 100 years but also save almost four billion dollars in staggering oil import bill.

 

Just 2% usage of Thar Coal Can Produce 20,000 Mega Watts of Electricity for next 40Years, without any single Second of Load Shedding. and if the whole reserves are utilized, then it could easily be imagined how much energy could be generated.

 

The coal power generation would cost Pakistan PKR 5.67 per unit while power generated by Independent Power Projects cost PKR 9.27.

 

It Requires Just Initial 420 Billion Rupees Initial Investment, Whereas Pakistan Receives annually 1220 Billion from Tax Only.

 

Chinese and other companies had not only carried out surveys and feasibilities of this project but also offered 100 percent investment in last 7 to 8 years but the “Petroleum Gang” always discouraged them in a very systematic way.

 

But Petroleum lobby is very strong in Pakistan and they are against any other means of power generation except for the imported oil. This lobby is major beneficiary of the increasing oil bill that is estimated above 15 billion dollar this year. Even Pakistan Government is planning to Sell all these reserve to a private company on a very low price.

 

When Pervez Musharraf was president he gave green signal to embark upon the initiation of work on exploiting energy potential of these coal reserves of Thar under a modern strategy.

 

 

Think About This, How We Can Help Our Home Land?