’بینظیر کی پالیسیوں پر سکیورٹی اداروں کو خدشات تھے‘

انٹرویو کا دوسرا حصہ

پہلی قسط افغانستان، طالبان اور شدت پسندی سے متعلق تھی جبکہ اس دوسری اور آخری قسط میں بریگیڈئر امتیاز ’آپریشن مڈنائٹ جیکال‘ میں اپنے کردار پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

انیس سو نواسی میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے خاتمے کی ایک مبینہ سازش کے کلیدی کردار سمجھے جانے والے بریگیڈئر (ریٹائرڈ) امتیاز احمد کہتے ہیں کہ وہ ’مڈنائٹ جیکل‘ نہیں بلکہ ’ڈے لائٹ ٹائیگر‘ ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں میں پندرہ اہم برسوں کے دوران فرائض انجام دینے والے بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ سیاسی حکومت کے خلاف سازش پاکستانی خفیہ اداروں کی نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور دو پاکستانیوں نے تیار کی تھی۔

’اس سازش کے کلیدی کردار ملٹری انجینرنگ سروس کے ایک سابق افسر اور وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری ایک سابق فوجی تھے۔ ان کا مقصد پاکستانی سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا تھا۔‘

حکمراں جماعت کے نمائندوں کی حمایت خریدنے کی اس مبینہ سازش کو ایک واقعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا صرف اتنا قصور تھا کہ انہوں نے اپنی فوج کی اعلی قیادت پر اندھا اعتماد کیا۔ ’میں اگر قصور وار تھا تو مجھ پر چار سال بعد بغاوت کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا؟ میرے خلاف کورٹ مارشل کیوں نہیں ہوا؟

ان کے مبینہ ملوث ہونے کے بارے میں سامنے آنے والی آڈیو ٹیپ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ جعلی تھی۔ ’وہ کسی اور کی آواز تھی۔ اس کا ٹرانسکرپٹ تیار کرنے والے بھی سازش میں شامل تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ سازش سامنے آئی تو اس وقت جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل حمید گل کو واضح موقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے تھا۔ ’انہیں فوج کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جونیئرز کے ساتھ وفاداری کا بھی ثبوت دیتے۔ لیکن انہوں نے سیاسی مصلحت یا دباؤ میں آکر ایسا نہیں کیا جس کی قیمت میں اور میرے بیوی بچوں نے ادا کی۔‘

بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ ملٹری انجینرنگ سروس کے سابق افسر بعد میں واپس ملک آئے۔ انہیں سرسری سزا دی گئی اور ایک ہفتے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ ’یہ سیاسی و فوجی قیادت کی باہمی رضا سے ہوا۔ پھر اس شخص کو ایف آئی اے میں تعینات کیا جاتا ہے اور میرا کیس اسی کو دیا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ دونوں شخصیات گمنام زندگی گزار رہے ہیں۔‘

سابق سپائے ماسٹر کا کہنا تھا کہ کسی کو محب وطن یا غدار خفیہ ایجنسیاں قرار نہیں دیتیں۔ ’میرے وقت میں ایسے غلط فیصلے ہوئے ملک کے مفاد کے خلاف ہوئے۔ یہ فیصلہ طاقت کی تکون نے سیاسی مصلحتوں اور اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے کیے۔ میں نے تاہم ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ بےنظیر بھٹو کی افغانستان پالیسی، جوہری پروگراماور فوج کو اپنی گرفت میں رکھنے کی خواہش پر سکیورٹی اداروں کو خدشات تھے۔ ’اس بابت ہمارے پاس انٹیلیجنس بھی موجود تھی۔ ان کے اندرون اور بیرون ملک بیانات میں تضاد تھا۔

انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ وہ پیپلز پارٹی مخالف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ سندھ میں تعینات تھے تو یہی وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کے بعض عناصر نے بغاوت شروع کی۔ ’اس میں را، خاد اور دیگر ممالک کی ایجنسیاں شامل ہوگئیں۔ میری ڈیوٹی تھی کہ اس دہشت گردی کو روکوں۔ اسی لیے شاید یہ تاثر قائم ہوا۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ عام لوگوں اور انٹیلجنس ایجنسیوں کی رائے میں فرق ہوتا ہے۔ ’خفیہ اداروں کے پاس جو معلومات ہوتی ہیں وہ ان کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں لیکن عوام کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہوتیں۔‘

ان کا دعوی تھا کہ سابق صدر مشرف نے انہیں بےنظیر بھٹو اور نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار پر آٹھ ماہ تک اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں رکھا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s