سیکس ورکرز کے لیے کراچی میں ورکشاپ

ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خواتین سیکس ورکرز میں محفوظ جنسی طریقے اپنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے تعاون سے کراچی میں اپنی نوعیت کے پہلے تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جو سنیچر کو اپنے اختتام کو پہنچی اور اس میں ایک سو سے زیادہ خواتین سیکس ورکرز نے شرکت کی۔

پاکستان میں جسم فروشی پر پابندی ہے تاہم یہ کاروبار غیرقانونی طور پر جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے منعقد کردہ اس ورکشاپ میں خواتین سیکس ورکرز کو محفوظ جنسی طریقوں سے آگاہی دی گئی۔ ورکشاپ میں شرکت کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اس ورکشاپ میں شرکت کرنے سے پہلے ان طریقوں سے اتنی زیادہ آگاہی نہیں تھی اور یہ ورکشاپ ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوا ہے۔

یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ یعنی یو این ایف پی اے کے پراجیکٹ افسر ڈاکٹر صفدر کمال پاشا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پورے پاکستان کے اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن اس وقت ایک سروے کے مطابق کراچی میں ایک لاکھ سے زیادہ اور لاہور میں پچھتر ہزار خواتین سیکس ورکرز کام کررہی ہیں اور ان میں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی سے ایڈز کے پھیلاؤ میں بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

جن خواتین سیکس ورکرز نے یہاں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہے امید ہے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دیں گی۔ اس ورکشاپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جائے گی۔ڈاکٹر صفدر کمال پاشا

انہوں نے کہا کہ ایک مسلم ملک یعنی بنگلہ دیش میں اس کاروبار کو قانونی تحفظ حاصل ہے لیکن پاکستان میں اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس ورکشاپ کو منعقد کرنے سے پہلے یہ خدشات تھے کہ یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خوف سے سیکس ورکرز اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے شرکت نہیں کریں گی۔

یہ ورکشاپ کراچی میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی

ان کے بقول اس ورکشاپ کے اختتام پر ایک سو سے زیادہ تعداد میں سیکس ورکرز کی شرکت سے ہماری امیدوں سے بڑھ کر حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن خواتین سیکس ورکرز نے یہاں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہے امید ہے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جائے گی اور پھر اسی موضوع پر اگلے برس قومی کنونشن بھی منعقد کرنے کا ارادہ ہے جس میں ملک بھر سے سیکس ورکرز کو مدعو کیا جائے گا۔

یو این ایف پی اے نے یہ ورکشاپ کراچی میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی تھی جس میں سرفہرست جینڈر اینڈ ریپروڈکٹو ہیلتھ فورم یعنی جی آر ایچ ایف ہے، جس کے سربراہ مرزا علیم بیگ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم سولہ برس سے سیکس ورکرز میں آگاہی اجاگر کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔

سیکس ورکر
زیبا رمضان نے آنکھ ہی ریڈلائٹ ایریا میں کھولی

ان کے بقول محفوظ جنسی طریقوں میں میل اور فیمیل کنڈوم کے استعمال اور دیگر مختلف مسائل پر نہ صرف آگاہی دی گئی بلکہ سیکس ورکرز ہی میں سے چند کو ٹرینر کے طور پر تیار کیا گیا ہے جو اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی دیں گی تاکہ ایڈز اور دیگر جنسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو مسدود کیا جاسکے۔

اس ورکشاپ کے آرگنائزر اور جی آر ایچ ایف کے رکن ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے بتایا کہ تین روزہ اس ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لیے خواتین سیکس ورکرز کے لیے ایک ہزار روپے یومیہ معاوضے کی ترغیب بھی دی گئی تاکہ وہ زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔ ان کے بقول ایڈز کا پھیلاؤ کی بڑی وجوہات انتقالِ خون یا پھر جنسی روابط ہیں اور ان کی تنظیم، اقوامِ متحدہ کے ادارے کے تعاون سے جنسی طریقوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔

نادیہ پانچ سال سے بطور سیکس ورکر کام کررہی ہیں اور ان کے بقول ’اس ورکشاپ میں شرکت کرنے سے انہیں بہت معلومات حاصل ہوئیں ہیں۔ ان کے بقول مجھے پہلی بار پتہ چلا ہے کہ ایسی اشیاء موجود ہیں جو جنسی رابطے کو محفوظ بناتی ہیں جبکہ یہاں ان کا استعمال بھی بتایا گیا ہے۔ میں نے ایڈز کا نام سنا تھا لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ پھیلتا کس طرح ہے لیکن اس ورکشاپ میں مجھے اس بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں ہیں اور مجھے یہ ورکشاپ بہت اچھی لگی ہے۔‘

زیبا رمضان نے آنکھ ہی ریڈلائٹ ایریا میں کھولی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک منفرد ورکشاپ ہے جس میں پہلی بار ہمیں ایک فورم پر اکٹھا کیا گیا ہے، ایسے ورکشاپ ہر سال ہونے چاہیے، اس ورکشاپ سے پہلے ہم چھپے ہوئے تھے لیکن اب ہم بھی معاشرے کے سامنے آگئے ہیں اور ہم اپنے بارے میں آواز اٹھانے کے قابل ہوگئے ہیں، اب میں جی آر ایچ ایف تنظیم کی ممبر کی حیثیت سے اعتماد کے ساتھ اپنی اور اپنی برادری کے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہوں‘۔

workshop3

ورکشاپ کے آرگنائزر اور جی آر ایچ ایف کے رکن ڈاکٹر غلام مرتضٰی

Source Link :

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07 090711 _sex_workers _na .shtml?s

“please write on this issue and try to stop it.”

They are going to arrange in Lahore next.

2 thoughts on “سیکس ورکرز کے لیے کراچی میں ورکشاپ

  1. Dears All

    it is the sex provoke activity by which the sex worker may infuriate about their rights and after ward they become eligible to endorse legal rights. this type of organizations are determined/ foreign financed to make our society against the islamic regime.

  2. Its proved that the policies of our Govt. “Wht they want to do in futhur”. Now its totaly depend upon us. Wht we do for our country & our religion??

    Now the time we must must do our part.

    Try ur best to stop such type of activities.

    Regards
    Waqas

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s