… فریاد کیا ہوتا رہا

عامرہ احسان  ………………. سابق ایم این اے
کملائے ہوئے ستے چہرے پر بہتے آنسوئوں کیساتھ وہ اپنی کہانی سنا رہی تھی۔ باجی ہم آپریشن کے باوجود اپنے علاقے میں دیر تک بیٹھے رہے۔ در بدردی کا خوف بھی تھا اور یہ آسرا بھی کہ ہم طالبان تو نہیں کہ ہمارا پیچھا کیا جاتا۔ لیکن پھر وہ دن بھی آیا جب بلا سبب ہمارے علاقے پر بھی جیٹ طیارے آنے لگے۔ پہاڑوں میں جہازوں کی گڑگڑاہٹ باجی بہت خوفناک ہوتی ہے۔ بچے‘ عورتیں خوف سے چیختے چلاتے کبھی کدھر بھاگتے کبھی کدھر‘ ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جن جہازوں کیلئے ہم دعائیں کرتے اور بھارت کیخلاف شاہین سمجھ کر انہیں دیکھ کر خوش ہوتے انکی تصویریں لگاتے تھے۔ وہ آج ہمیں ڈرانے دھمکانے آ جائینگے۔
پہلے تو خوفزدہ کیا۔ پھر انہوں نے بمباری بھی کر دی۔ کان کے پردے پھٹ رہے تھے۔ بچے چلا رہے تھے۔ ہم کلمہ پڑھ کر آنکھیں بند کئے شہادت کے تصور سے خوف کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اللہ ہی نے کوئی خاص کرم کیا کہ قیامت کے وہ لمحے گزر گئے میرے بوڑھے سسر اپنی کمزور ہڈیوں بھرے وجود کو سمیٹے ہمیں شفقت بھری تسلیاں اوردعائیں دیتے رہے۔
جب وہ کسمپرسی کے عالم میں آنکھ اٹھا کر غم سے چھلکتی بے بس نگاہوں سے جہاز کو بددعا دیتے تو میں حیران ہوتی کہ ہم پر یہ دن بھی آناتھا‘ ہم نے پیسہ زیور سمیٹا جلدی جلدی گھروں کو ضرورت کی چند چیزیں لے کر تالے لگائے اور وہاں سے نکلنے کی فکر کی کہ نجانے دوبارہ کب ہم پر پھر یہ حملہ ہو جائے کیمپ‘ جھلستی گرمی اور دربدری اس جان لیوا خوف سے تو بہتر ہی تھی جس سے ہم گزرے‘ پہاڑی راستوں کی خطرناک ڈھلوانوں سے جابجا بچے عورتیں بوڑھے بمباری کے خوف سے پناہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے لیکن ہماری مصیبت ابھی ٹلی نہ تھی۔ ٹرانسپورٹر منہ مانگے دام وصول کر رہے تھے۔ لوٹ رہے تھے۔
گاڑی میں سوار ہو کر جب ہم بڑی سڑک پر آئے اندھیرا پھیل چکا تھا۔ اچانک ہم نے دیکھا آگے سڑک پر گاڑیاں رکی ہوئی ہیں اور پھر ہمارے ڈرائیور کی آہستہ ہوئی گاڑی پر ایک پستول تانے شخص نے گاڑی رکوا دی اور کہا خاموش کھڑے ہو جائو ہلنا مت۔ ہم طالبان ہیں۔ ٹریفک رکی ہوئی تھی منہ پر ڈھاٹے باندھے درشت نوجوان کلاشنکوفیں لئے گاڑیاں روک رہے تھے۔ بہت جلد سمجھ آ گئی کہ یہ طالبان نہیں ڈاکو ہیں۔ یعنی ہم آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک گئے تھے۔ ہم نے بیگ چھپانے کی فکر کی یہ جمع پونجی بھی لٹ گئی تو کہاں جائیں گے۔ خوف کی ایک نئی قسم کا ذائقہ چکھ رہے تھے۔ رکی ٹریفک میں ہمارے پاس سے ایک گاڑی نکل کر آگے بڑھی‘ حیران ہو کر دیکھا۔ ہمارے پاس سے گزری تو ہمارے ڈرائیور نے چلا کر کہا تم اصلی طالبان ہو دیکھو تمہارے ہوتے ہوئے ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ پتہ یہ چلا کہ چھ سات حقیقی طالبان کھلے منہ‘ داڑھیوں‘ عماموں‘ کلاشنکوفوں کیساتھ اس گاڑی میں سوار تھے۔ جنہیں شاید ڈاکوئوں نے گزر جانے کی اجازت دیدی تھی‘ امید کی ایک کرن ابھری اور بجھ گئی لیکن کچھ ہی آگے جا کر اصلی طالبان نے گاڑی روکی ہوائی فائرنگ کی ڈاکوئوں کو للکارا‘ انکے پیچھے لپکے اور حیرت انگیز طور پر یہ ہمارے لئے فرشتے ثابت ہوئے۔ ڈاکوئوں نے بھاگ جانے میں عافیت سمجھی‘ گاڑیوں کی لمبی لائن پر یہ چند فرشتے محافظ بن کر اتر آئے ٹریفک کھلی اور ہم نے سکھ کا سانس لیا نقلی طالبان کو اصلی طالبان نے بھگا دیا۔ میں حیرت زدہ یہ داستان سن رہی تھی۔ مگر حکومت‘ سکیورٹی اہلکار‘ سرکاری محافظ سب کہاں تھے۔ وہ سوات پر حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے گولہ باری کر رہے تھے۔ وہ تلخ ہوتے ہوئے بولی۔’’ بے شمار دکھ بھری داستانوں میں ایک اور نے میرے اندر تک دکھ کے کانٹے بھر دئیے۔‘‘
راقمہ کے ہاتھ میں قلم دیکھ کر بسااوقات لوگ آ کر‘ خطوط کے ذریعے اپنے غم میری جھولی میں ڈال جاتے ہیں۔ چہار جانب پکڑ دھکڑ کے اس موسم میں جاو بیجا ہم امریکہ کے دشمن تلاش کرتے ہر باریش کے درپے ہیں۔ قوم لوط پر انسانی شکل میں اترنے والے فرشتوں کی مانند‘ اگر آج ہم پر فرشتے باریش انسانی صورت میں اترے تو ہمارے اہلکار انہیں پکڑنے باندھنے کے بھی اس طرح درپے ہونگے ایک خاتون نے بتایا کہ انکے دو بھائی حکومت مختلف مواقع پر شہبے میں پکڑ کر لے جا چکی ہے۔ ساری زندگی حب الوطنی اور اسلام کے بیچ گزری اس کا تاوان آج وہ دے رہے ہیں۔ بھائیوں کے آٹھ چھوٹے بڑے کمسن بچے‘ بیویاں اور ان پر مامور بوڑھے دادا کے پیچھے ایجنسیاں اب یہ دبائو ڈال رہی ہیں کہ یہ پتہ چل جائے کہ اس گھر کی دال روٹی کون چلا رہا ہے۔ انہیں مدد کون فراہم کر رہا ہے۔ باجی۔ کیا ہمیں جینے کا حق بھی نہیں ہے؟
یہ داستانیں لامنتہا ہو چکی ہیں۔ اخبار کا دامن تنگ ہے۔ جواب کسی ایک سوال کا بھی نہیں۔ بڑی بڑی منظم جماعتیں جن کی طرف یہ سادہ لوگ امید اور حیرت سے دیکھتے ہیں‘ یہ نہیں جانتے کہ وہ صرف اپنا دامن بچا کر‘ طالبان سے بلند آہنگ اظہار برآت کر کے اپنا آرام راحت گھر بار ادارے بچانے سنبھالنے کی فکر میں ہیں۔ یہ اب وہ جماعتیں نہیں ہیں جن کے اکابرین نے برسہا برس جیلیں کاٹیں‘ فاقے جھیلے‘ حکومتوں سے ٹکرلی اب صرف قراردادیں‘ محتاط سیمینار باقی ہیں۔ کفر و نفاق کی یلغار کے بالمقابل قرآن بھی اب شاید صرف ناظرہ ہی پڑھا جا رہا ہوگا۔ ترجمہ ‘ تفسیر سے تو آنکھ ملا کر جینا مشکل ہے۔
سوات راہِ راست پر آ گیا‘ اب وزیرستان سے نجات کی باری ہے۔ کیا حیران کن مناظر ہیں۔ بھارت نواز اے این پی‘ ایم کیو ایم‘ پیپلز پارٹی کے جلو امیں مریکہ‘ بھارت کے ازلی ابدی دشمن قبائلیوں کو مار مار کر پاکستان دشمن بنا کر دم لینے کا ہر سامان کر رہے ہیں۔
امریکہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ آپریشنوں کی وجہ سے اب افغانستان میں ہم پر حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نیز یہ کہ ہم سوات آپریشن پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔ امریکہ کی نجات کیلئے پاکستان داؤ پر لگایا جا رہا ہے‘ امریکہ نے خود ہی پول کھول دیا۔
ادھر ہم قبائل کا بھرکس نکال رہے ہیں‘ ادھر امریکہ ڈٹ کر ڈرون سے آبادیوں اور جنازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں اخلاقیات کا کوئی ایشو نہیں۔ لینے کے باٹ اور ہیں دینے کے اور۔ ایسے میں نفرت انگیز منافقت کے ساتھ ڈرون حملوں کی مذمت کیا معنی رکھتی ہے۔ بار بار امریکہ واضح کر چکا کہ حکومت پاکستان کے مکمل تعاون اور رضا مندی ہی سے یہ حملے کئے جاتے ہیں۔ پھر اس تکلف کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ بندے مار کر‘ پیسے وصول کر کے‘ رال سمیٹتے ہوئے غم کا اظہار اور احتجاج کر دیا جائے۔
پاکستان بیچارہ ان حکمرانوں کے آگے کیا کریگا۔ وہ تو آپریشن ٹیبل پر پڑا ہے۔ ایک پاؤں کاٹا جا چکا ہے‘ اُٹھ کے کھڑا نہ ہو سکے (ایٹم بم والا پاؤں باقی ہے) ہاتھ اس لئے چھوڑ دیے کہ دنیا کے آگے پھیلائے جا سکیں۔ زبان لُکنت کیساتھ کبھی کبھار فریاد کر لیتی ہے۔ دل گردے نکل چکے ہیں‘ پتہ‘ کلیجہ نکال دیا گیا‘ دو آنکھیں ٹک ٹک دیدم کی تصویر بنی سکتے کی ماری تماش بین ہیں۔ آلاتِ جراحی حکومت اور فوج لئے کھڑی پاکستان کی شفا کا سامان کر رہی ہے۔ ہدایت کار امریکہ ہے۔
آج اخبار کی شہ سرخی میں وزیر داخلہ کی مبارک زبان سے فتح یاب ہونے کی بہت بڑی خبر ملی ’مولوی فضل اللہ کا خاندان گرفتار ہو گیا‘ بڑا معرکہ سر ہوا۔ شاتمِ رسول‘ توہین قرآن کے لامنتہا واقعات کا تو ایک مجرم بھی نہ پکڑا جا سکا۔ پوری دنیا نے آفتاب پر تھوک تھوک کر حشر بپا کر دیا لیکن شاتمِ جمہوریت صوفی محمد کی بیٹی اور نواسے نواسیاں ’گرفتار‘ ہو گئے۔ محمد بن قاسمؒ نجانے کہاں دفن ہے۔
اب ہماری بہادری کے جھنڈے مسلمان عورتوں بچوں کو حوالۂ زندان کر کے گاڑے جائیں گے ‘اسکے عوض کتنے ڈالر ملیں گے یہ جاننا باقی ہے۔ ویسے تو فرمایا ہے کہ احترام سے رکھا گیا ہے۔ احترام ہی سے ہم نے ڈاکٹر عافیہ کو بھی پکڑا تھا۔
ہری پور سے بھی ایک مصری خاندان کی عورتیں پکڑی گئی ہیں جنہیں مصری سفارتخانہ مانگ رہا ہے۔ سوات کی مساجد بند پڑی ہیں یا لال مسجد کی طرح مسمار کی جا چکی ہیں۔ جب ایک افسر سے مسجد نماز کیلئے کھولنے کی اجازت مانگی گئی تو ڈپٹ دیا گیا کہ یہ دہشت گردی کے اڈے ہیں۔ اب تو صرف یہی کہا جا سکتا ہے …ع
اے خدائے منتقم فریاد! کیا ہوتا رہا!
دجالی ورلڈ آرڈر اپنی تکمیل کو ہے۔ قائداعظمؒ کا پاکستان اب امریکہ کا پاکستان بن چکا‘ جہاں عورتیں بچے بوڑھے بھی محفوظ نہیں‘ مساجد‘ مدارس‘ علمائ‘ پرہیز گاران‘ متشرع مرد و زن نشانے پر ہیں۔ باقی ٹیلی ویژن سے دل بہلا‘ سر دھلوا (برین واشنگ) رہے ہیں۔ آپ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی فتح اور مائیکل جیکسن کی وفات دیکھئے۔ حکومت آپریشنوں سے بہبود آبادی کا وسیع تر پروگرام چلا رہی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s