تہذیبوں کا تصادم…..کس سے منصفی چاہیں

فرانسیسی صدر سرکوزی کی طرف سے مسلمان عورتوں کیلئے فرانس میں برقع پہننے پر پابندی لگانے کے ارادے کا اعلان مغرب کی اسلام دشمنی کی وہ کھلی مثال ہے جس کاواضح اشارہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ نے دیا ہے۔ اگر پاکستان جیسا ملک کسی بھی اقلیت کے مذہبی لباس کے بارے میں کوئی ایسا اعلان کرتا تو پوری دنیا میں اس وقت تک ایک طوفان برپا ہو چکا ہوتا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پاکستان کے خلاف کوئی قرارداد آ چکی ہوتی۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دوسرے مغربی ممالک کے علاوہ جاپان وغیرہ ہمارے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہوتے ۔اور تو اور پاکستان میں پایا جانے والا مغرب زدہ طبقہ اور بیرونی امداد سے چلنے والا Mafia NGO اب تک اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں مظاہروں کے علاوہ کئی پریس کانفرنسیں کر چکے ہوتے۔ کچھ سیاسی پارٹیاں اور ان کی بیرون ملک قیام پذیر قیادت بھی انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کے نام پر گرما گرم مغرب زدہ بیان داغ چکے ہوتے۔ مگر افسوس کہ سرکوزی کے اعلان پر سب خاموش ہیں۔ امریکہ،برطانیہ،جاپان اور دوسرے غیر مسلم ممالک سے مجھے کوئی توقع نہیں مگر یہاں تو مسلمان ممالک کے حکمران اور سیاسی پارٹیاں اور لیڈر سب نے چپ سادھ رکھی ہے۔ کوئی اسے برقع کا نام دے یا عبایا کہے،اس کو حجاب کہا جائے یا چادر یا اوڑھنی سے تشبیہ دی جائے اللہ کی کتاب قرآن کریم مومن عورتوں کو پردہ کا واضح حکم دیتی ہے۔ نبی کریم کی احادیث مبارکہ بھی اللہ کی طرف سے مقرر کی گئی ان حدوں کی وضاحت کرتی ہیں۔ اسلامی فقہ اور مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے علماء عورتوں کے پردے کے حوالے سے تقریباً متفق ہیں اور پایا جانے والا اختلاف صرف اس حد تک ہے کہ آیا ایک مسلمان عورت کو باہر نکلتے وقت یا نامحرم کا سامنا کرتے ہوئے چہرہ بھی باقی جسم کی طرح ڈھانپنا چاہیے یا نہیں۔ سرکوزی کی طرف سے حملہ محض ایک مخصوص لباس پر نہیں بلکہ Islamic dress code پر کیا گیا اور یہ ایک واضح مثال ہے تہذیبوں کے درمیان اس جنگ (Clash of civilisation ) کی جس کوحال ہی میں امریکی صدر اوبامہ نے اپنے جامعہ الازہر کے منافقانہ خطاب میں رد کیا تھا۔ گلہ غیروں سے نہیں بلکہ اپنوں سے ہے اور ان مسلمانوں سے ہے جو اللہ کی اس واضح Warning کے باوجود کہ یہودی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں جبکہ نصاریٰ اور کافر بھی مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے امریکہ اور برطانیہ و غیرہ کو اپنا ہمدرد سمجھ بیٹھے ہیں اورا ن کی خوشنودی کی خاطر اپنے ہی لوگوں کو مارے جا رہے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کے کہنے اور ان کے ڈر ہی کی وجہ سے ہم نے جہاد اور دہشت گردی کو بھی گڈمڈ کر دیا ہے اور امریکہ کی جنگ کو اپنی جنگ میں بدل دیا ہے اور وہی کچھ کر رہے ہیں جو مسلمانوں کے دشمن چاہتے ہیں۔ اب تو ہماری یہ حالت ہو چکی ہے کہ اسلامی شعائرکا کھلے عام مذاق اڑایا جاتا ہے اور ہم اس طرح چپ بیٹھے ہیں جیسے کہ شاید خدانخواستہ ہم میں بھی اپنے دین کے بارے میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان کے رستے پر نہ چلا جن پر تو نے اپنا غضب کیا(یعنی یہودی)اور نہ ہی ان کے رستے پر جو بھٹکے ہوئے ہیں(یعنی نصاریٰ) لیکن عملی طور پر ہم اس کے بالکل برعکس چل رہے ہیں۔ اپنی حالت تو اب یہ ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت خداداد پاکستان میں بھی برقع کا کھلے عام اسٹیج ڈراموں کے ذریعے مذاق اڑایا جا رہا ہے اور حکومت محض تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ مغربی لباس، فحاشی کے فروغ کیلئے منعقد کئے جانے والے فیشن شوز، بے ہودہ ٹی وی اشتہارات اور boldness کے نام پر فلموں اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں فحاشی اور ناچ گانے تیزی سے پاکستانی معاشرہ اورا س کی اسلامی اور سماجی اقدار کو تباہ کر رہے ہیں۔لیکن کسی حکومت، کسی سیاسی پارٹی اور کسی رہنماء کی اس طرف کوئی توجہ نہیں۔ شاید ہمارے انہی حالات کو دیکھ کر سرکوزی جیسے کو ہمت ہوئی کہ وہ اپنے ملک میں اسلامی لباس پر مکمل پابندی لگا دیں۔ کل ہمارے دنیاوی آقا پاکستان میں بھی برقع پر پابندی لگا سکتے ہیں جس کیلئے مغرب کی کچھ پالتو NGOs یہاں پہلے ہی زوروشور سے کام کر رہی ہیں۔ مشرف کے زمانہ سے کوششیں جاری ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی نصاب میں بنیادی تبدیلی لائی جائے جس کا مقصد ہماری آئندہ نسلوں کو اللہ اور اس کے رسول کے دین سے دور کرنا اورایک ایسے اسلام کی ترویج ہے جو ناچ گانے، شراب و شباب اور مغربی ثقافت کی یہاں فروغ میں رکاوٹ نہ ہو۔اس سلسلے میں کچھ نام نہاد ”اسلامی اسکالرز“ بھی سامنے آ چکے ہیں اور اس مذہب کو بیچنے میں لگے ہوئے ہیں جس کا کم از کم دین اسلام سے دور دور کا بھی ناطہ نہیں ہے۔ہمارا تو اس دین سے تعلق ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کیلئے شرم و حیا کا وہ اعلیٰ معیار مقرر ہے جس کا مغرب کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ سرکوزی کی بیوی کا برہنہ ہو کر ماڈلنگ کرنا اور برطانوی شہزادی ڈیانا کا دوسرے مردوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور انہی حالات میں مر جانامغربی معاشرے کیلئے کوئی معیوب بات نہیں۔ بلکہ ان دونوں خواتین کو وہاں بہت عزت سے دیکھا اور یاد کیاجاتاہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں ایسی عورتوں کو فاحشہ سمجھا جاتا ہے اور اس طرح کی زندگی گزارنے والوں کو جانوروں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ہمارا تعلق تو اس دین سے ہے جس کے پیروکاروں کیلئے شراب مخرب الاخلاق مشروب ہے جبکہ سوٴر کا گوشت مکمل حرام ہے۔ مغربی ثقافت میں شراب بہترین مشروب اور سوٴر مقبول ترین غذا ہے۔ ہمیں ہمارے نبی نے تعلیم دی ہے کہ ہم بسم اللہ کر کے سیدھے ہاتھ سے کھانا کھائیں۔ مغرب اور مغرب زدہ، کھانے کا آغاز جام ٹکرا کر کرتے ہیں اور کھانے کیلئے کانٹا الٹے ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ قیام پاکستان کے62 سال گزرنے کے باوجود ہمارے فوجی و سول افسران کو آج بھی الٹے ہاتھ سے کانٹا پکڑ کر کھانا کھانے کا ”سلیقہ“ سکھایا جاتا ہے۔ اپنے حکمران بھی رسمی کھانوں میں انگریز کے آداب کو سنت رسول پر ترجیح دیتے ہیں۔ فوجی میسوں میں چلے جائیں یا سول افسروں اور اشرافیہ کے لئے بنائے گئے جیمخانہ ،اسلام آباد کلب اور بڑے بڑے ہوٹلز، وہاں آج بھی اس مذہب کے پیروکاروں کی تہذیب کے مطابق کھانا کھانے کے اصول نافذ عمل ہیں جن کے بارے میں ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں
دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں ان کے رستے پر نہ چلا۔ چھری کانٹے کے بغیر ہاتھ سے کھانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ سول سروس، پولیس اور فوج کی اکیڈمیوں میں تو سنت رسول کے مطابق کھانا کھانے کا کوئی تصور نہیں۔ معلوم نہیں ہمیں کانٹا سیدھے ہاتھ میں لینے کیلئے ابھی مزید کتنا عرصہ درکار ہو گا یا آیا اس مسئلہ میں بھی ہمیں امریکہ کی اجازت درکار ہو گی۔ کہیں ہمارے حکمرانوں کے دل و دماغ میں یہ ڈر تو نہیں کہ ایسی تبدیلی سے ان کو بنیادپرست، طالبان اور شدت پسند قرار دیدیا جائے گا۔ ان حالات میں پلنے بڑھنے والوں سے یہ توقع کہاں رکھی جا سکتی ہے کہ وہ سرکوزی کے بیان کی مذمت کریں گے۔ کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ ایسوں کیلئے دنیا و آخرت دونوں جگہ رسوائی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s