کیا زنا بالرضا شریعت میں جرم نہیں ہے؟

zina bil raza

کیا زنا بالرضا شریعت میں جرم نہیں ہے؟

کیا یہ حدود اللہ کا صریحاً مزاق نہیں ہے؟

کیا یہ اللہ کے غضب کو دعوت نہیں ہے؟

شریعت کی رو سے، زنا، زنا ہے۔

آج کے قانون کے رو سے، زنا اس وقت قابل سزا ہے،
جب وہ بالجبر ہو

Advertisements

پاکستانی طالبعلم نے چوتھا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

barbar-iqbal

ڈیرہ اسماعیل خان ( نامہ نگار ) ڈیرہ کے جواں سالہ پاکستانی بابر اقبال نے کمپیوٹر کی فیلڈ میں دبئی میں ہونیوالے امتحان میں چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بارہ سالہ بابر اقبال جن کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے  پہلے ہی مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل’ سرٹیفائیڈ انٹرنیٹ ویب’ سرٹیفائیڈ وائرلیس نیٹ ورکنگ ایڈمن فیلڈ میں تین ورلڈ ریکارڈ بنا چکے ہیں نے اب حال ہی میں دبئی میں ہونیوالے مائیکرو سافٹ ٹیکنیکل اسپیشلسٹ ڈیولپرکے امتحان میں 91% نمبر حاصل کر کے چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بابر اقبال نو سال کی عمر سے ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی اعلیٰ کارکردگی کی بناء پر وزیراعلیٰ سرحد نے انہیں بیس ہزارروپے نقد انعام دیا تھا

مائیکرو سافٹ کا علاقائی کوآرڈینیٹر مقرر

کمپیوٹر کی فیلڈ میں 3ورلڈ ریکارڈ بنانے کے بعد مائیکرو سافٹ کمپنی نے اسے ایشیاء پیسفک اور میڈل ایسٹ کا ٹیکنیکل کوآرڈینٹر مقررکردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ کے 11سالہ ہونہار پاکستانی بابر اقبال جنہوں نے گزشتہ دو سال کی مدت میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ، سرٹیفائیڈ انٹر نیٹ اینڈ ویب ڈیزائینر اور سرٹیفائیڈ وائرس نیٹ ورک اینڈ منسٹریٹر کے امتحانات کو امتیازی حیثیت سے پاس کرکے 3ورلڈ ریکارد قائم کئے تھے۔ مائیکرو سافٹ نے بابر اقبال کو امیجن کپ کے لئے ٹیکنیکل کوآرڈینیٹر ایشیاء پیسیفک اینڈ مڈل ایسٹ مقررکیا ہے۔ امیجن کپ اس ماہ 17 سے 19 تک دبئی میں ہوگا ۔اس کیمپ میں یونیورسٹی کے ماسٹرز اور ڈگری ہولڈ شرکت کرتے ہیں۔ بابر اقبال نے یہ کامیابی صرف 11 سال کی عمر میں حاصل کی ہے ۔ وزیر اعلیٰ سرحد نے انہیں 20ہزار روپے انعام دیا ہے ۔ سرپرست اعلیٰ انجمن تاجران سہیل احمد اعظمی، مرکزی انجمن تاجران ڈیرہ کے صدر راجہ اختر علی ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہاب خان نے حکومت پاکستان سے اور سرحدحکومت سے اس ہونہار طالب علم کی سرپرستی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاکہ وہ پاکستان کا نام مزید روشن کر سکے ۔

’بینظیر کی پالیسیوں پر سکیورٹی اداروں کو خدشات تھے‘

انٹرویو کا دوسرا حصہ

پہلی قسط افغانستان، طالبان اور شدت پسندی سے متعلق تھی جبکہ اس دوسری اور آخری قسط میں بریگیڈئر امتیاز ’آپریشن مڈنائٹ جیکال‘ میں اپنے کردار پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

انیس سو نواسی میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے خاتمے کی ایک مبینہ سازش کے کلیدی کردار سمجھے جانے والے بریگیڈئر (ریٹائرڈ) امتیاز احمد کہتے ہیں کہ وہ ’مڈنائٹ جیکل‘ نہیں بلکہ ’ڈے لائٹ ٹائیگر‘ ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں میں پندرہ اہم برسوں کے دوران فرائض انجام دینے والے بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ سیاسی حکومت کے خلاف سازش پاکستانی خفیہ اداروں کی نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور دو پاکستانیوں نے تیار کی تھی۔

’اس سازش کے کلیدی کردار ملٹری انجینرنگ سروس کے ایک سابق افسر اور وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری ایک سابق فوجی تھے۔ ان کا مقصد پاکستانی سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا تھا۔‘

حکمراں جماعت کے نمائندوں کی حمایت خریدنے کی اس مبینہ سازش کو ایک واقعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا صرف اتنا قصور تھا کہ انہوں نے اپنی فوج کی اعلی قیادت پر اندھا اعتماد کیا۔ ’میں اگر قصور وار تھا تو مجھ پر چار سال بعد بغاوت کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا؟ میرے خلاف کورٹ مارشل کیوں نہیں ہوا؟

ان کے مبینہ ملوث ہونے کے بارے میں سامنے آنے والی آڈیو ٹیپ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ جعلی تھی۔ ’وہ کسی اور کی آواز تھی۔ اس کا ٹرانسکرپٹ تیار کرنے والے بھی سازش میں شامل تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ سازش سامنے آئی تو اس وقت جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل حمید گل کو واضح موقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے تھا۔ ’انہیں فوج کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جونیئرز کے ساتھ وفاداری کا بھی ثبوت دیتے۔ لیکن انہوں نے سیاسی مصلحت یا دباؤ میں آکر ایسا نہیں کیا جس کی قیمت میں اور میرے بیوی بچوں نے ادا کی۔‘

بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ ملٹری انجینرنگ سروس کے سابق افسر بعد میں واپس ملک آئے۔ انہیں سرسری سزا دی گئی اور ایک ہفتے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ ’یہ سیاسی و فوجی قیادت کی باہمی رضا سے ہوا۔ پھر اس شخص کو ایف آئی اے میں تعینات کیا جاتا ہے اور میرا کیس اسی کو دیا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ دونوں شخصیات گمنام زندگی گزار رہے ہیں۔‘

سابق سپائے ماسٹر کا کہنا تھا کہ کسی کو محب وطن یا غدار خفیہ ایجنسیاں قرار نہیں دیتیں۔ ’میرے وقت میں ایسے غلط فیصلے ہوئے ملک کے مفاد کے خلاف ہوئے۔ یہ فیصلہ طاقت کی تکون نے سیاسی مصلحتوں اور اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے کیے۔ میں نے تاہم ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ بےنظیر بھٹو کی افغانستان پالیسی، جوہری پروگراماور فوج کو اپنی گرفت میں رکھنے کی خواہش پر سکیورٹی اداروں کو خدشات تھے۔ ’اس بابت ہمارے پاس انٹیلیجنس بھی موجود تھی۔ ان کے اندرون اور بیرون ملک بیانات میں تضاد تھا۔

انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ وہ پیپلز پارٹی مخالف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ سندھ میں تعینات تھے تو یہی وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کے بعض عناصر نے بغاوت شروع کی۔ ’اس میں را، خاد اور دیگر ممالک کی ایجنسیاں شامل ہوگئیں۔ میری ڈیوٹی تھی کہ اس دہشت گردی کو روکوں۔ اسی لیے شاید یہ تاثر قائم ہوا۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ عام لوگوں اور انٹیلجنس ایجنسیوں کی رائے میں فرق ہوتا ہے۔ ’خفیہ اداروں کے پاس جو معلومات ہوتی ہیں وہ ان کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں لیکن عوام کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہوتیں۔‘

ان کا دعوی تھا کہ سابق صدر مشرف نے انہیں بےنظیر بھٹو اور نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار پر آٹھ ماہ تک اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں رکھا۔

’طالبان کا جن امریکہ نے بوتل سے نکالا‘

imtiaz_haroon
بریگیڈئر (ر) امتیاز احمد پاکستان کی تاریخ کے پندرہ اہم برسوں تک خفیہ اداروں آئی بی اور آئی ایس آئی میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ انیس سو نوے میں ریٹائر ہوئے تھے تاہم انہیں وقتا فوقتاً سیاست میں مداخلت یا بدعنوانی کے الزامات کے تحت بےنظیر بھٹو اور صدر مشرف کے ادوار میں آٹھ برس تک قید بھی جھیلنا پڑی۔ ان پر بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے لیے ’آپریشن مڈنائٹ جیکل’ میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انیس برس کی طویل خاموشی توڑتے ہوئے انہوں نے بی بی سی اردو سروس کو ایک خصوصی انٹرویو دیا جسے دو اقساط میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی قسط افغانستان، طالبان اور شدت پسندی سے متعلق ہے جبکہ دوسری قسط میں بریگیڈئر امتیاز ’آپریشن مڈنائٹ جیکال‘ میں اپنے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز احمد کے مطابق طالبان امریکہ کی پیداوار ہیں اور ’طالبان کا جن بوتل سے امریکہ نے نکالا تھا تاکہ اس خطے پر اپنی گرفت مضبوط کر سکے‘۔

بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیرِداخلہ رحمان ملک اور سابق وزیرِداخلہ جنرل نصیر اللہ بابر امریکی ایماء پر افغانستان میں اس اسلامی تحریک کی داغ بیل ڈالنے گئے تھے۔ اس سوال کے جواب میں کہ طالبان کے خالق تو پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر کو سمجھا جاتا ہے ستر سالہ بریگیڈئر امتیاز نے واضح کیا کہ وہ اور رحمان ملک اس وقت کی سیاسی حکومت کے دور میں اکثر افغانستان جاتے رہے تھے۔’ لیکن وہ( رحمان ملک اور نصیر اللہ بابر) امریکی ایماء پر، اس کے علم میں ہوتے ہوئے اور ان کی رضامندی سے جاتے رہے۔ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ شاید ہدایات لے کر وہاں جاتے ہوں تاکہ وہاں کیا کیا اہداف یا ہدایات دینی ہیں۔ وہ امریکی ایماء پر ہی ایسا کر رہے تھے‘۔

جب بریگیڈئر امتیاز سے دریافت کیا گیا کہ آیا یہ سب کچھ ان کی ذاتی رائے تھی یا خفیہ اداروں کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت خفیہ ادارے میں تھے ان کے پاس معلومات بھی تھیں اور ’کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو خود بولتی ہیں۔ لیکن جو کچھ میں کہہ رہا ہوں میں مطمئن ہوں کہ وثوق سے بول رہا ہوں‘۔

بریگیڈئر امتیاز کے مطابق امریکہ طالبان کو حکومت کا موقع دے کر انہیں نااہل ثابت کروانا چاہتا تھا۔ ’ان کو معلوم تھا کہ طالبان کا سخت گیر رویہ کسی کو قابل قبول نہیں ہوگا۔ وہ بہت زیادہ انتہا پسند اور غیرفطری سوچ کے حامل تھے۔ وہ حکومت زیادہ دن نہیں چلاسکیں گے‘۔

لیکن ایک سوال کے جواب میں کہ وہ اس وقت بھی تو حامد کرزئی جیسی کسی شخصیت کو افغانستان لا سکتے تھے، بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ امریکہ نے جنیوا معاہدے کے بعد اس خطے پر مسلط ہونے کا منصوبہ تیار کر لیا تھا جس میں حامد کرزئی ان کے ’ٹروجن ہارس‘ تھے۔ ’ اگر انہیں ابتداء میں لایا جاتا تو شاید وہ زیادہ دیر نہ چل پاتے‘۔

اس مبینہ امریکی منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ سات مجاہدین جماعتوں کے اتحاد کو ناکام بھی پہلے امریکہ نے کروایا اور پھر طالبان کی شکل میں پیادہ جگجوؤں کو بھی انہوں نے فیل کروایا تاکہ اپنے منصوبوں کو کامیاب کرسکیں۔ ’ان دونوں کی موجودگی میں حامد کرزئی تو کچھ نہیں کرسکتے تھے‘۔

’حامد کرزئی کے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ویلیم کیسی کے ساتھ تعلقات تھے اور اب بھی ہیں۔ حامد کرزئی کے بھائی کے بھی جارج بش سے قریبی تعلقات ہیں۔ یہ ٹروجن ہارس موجود تھا صرف اسے لانے کا مناسب وقت چاہیے تھا۔ حامد کرزئی نے شملہ میں چار سال تعلیم حاصل کی۔ آج افغانستان میں جتنے بڑے تعمیر نو کے منصوبے ہیں وہ بھارت کے پاس ہیں۔ ان منصوبوں پر تقریبا چار سو انجینئر کام کر رہے ہیں جن کی حفاظت کے لیے ساڑھے چار ہزار بھارتی تعینات ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ان میں سے آدھی فورس را آپریٹ کر رہی ہے‘۔
بریگیڈئر امتیاز نے انکشاف کیا کہ جب وہ آئی ایس آئی میں تعینات تھے اور جنرل مشرف جی ایچ کیو کی ایم ایس برانچ میں تھے تو انہوں (امتیاز) نے ہرے پال پوائنٹ پین کے ساتھ صدر مشرف کے بارے میں ایک مشاہدہ ریکارڈ کیا تھا کہ وہ ’ہائیلی انٹرو ورٹ اینڈ ڈینجرسلی ایمبیشئس شخص ہیں جو اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے لیے شاید مناسب نہیں ہیں‘۔

آخر امریکہ کا مقصد کیا ہے اس خطے میں؟ اس بارے میں بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان پر مکمل قبضہ اور بھارت کو علاقائی طاقت بنا کر پاکستان کی اہمیت ختم کرنا چاہتا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے اس ملک کو ایک اعلی صلاحیت کی حامل قیادت کی ضرورت ہے۔

کیا موجودہ خفیہ اداروں کے پاس اس مبینہ امریکی منصوبے کو ناکام بنانے کی صلاحیت موجود ہے؟ جواب میں ان کا الزام تھا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے تمام اداروں کو نقصان پہنچایا جن میں وہ بھی شامل تھے جو ملکی سلامتی کے ذمہ دار تھے۔ ’انہوں نے بڑے ننگے انداز سے خفیہ اداروں کی پیش ورانہ تربیت اور جذبہ تھا اسے دوسری جانب موڑ دیا۔ انہوں نے ان کا فیلڈ کمپیٹنس معیار تھا اس کو بری طرح نقصان پہنچایا‘۔

یاد رہے کہ بریگیڈئر امتیاز کو بھی سابق صدر مشرف نے گرفتار کر کے بدعنوانی کے الزام میں کئی برس تک قید رکھا تھا جبکہ بعد میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔

بریگیڈئر امتیاز نے کہا کہ ’اس وقت پاکستانی خفیہ ایجنسیاں ’ہینڈی کیپڈ‘ (معذور) ہیں‘۔ ان کے مطابق اندرونی اور بیرونی چیلنج کئی گنا بڑھ گئے ہیں اور موجودہ ایجنسیاں ان سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

موجودہ لاٹ کو تو اسامہ اور بیت اللہ کی خصوصیات کا بھی علم نہیں ہوگا۔ یہ بھی را اور امریکی گیم پلان ہے۔ امریکہ کو نائن الیون کے چار طیاروں کے ہائی جیک ہونے کا تو علم نہیں ہوا تاہم آج امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ معلوم ہوگیا کہ اس حملے میں ملوث لوگ پاکستان میں ہیں۔

ان سے کشمیر میں جہادی تنظیموں پر صدر مشرف کی جانب سے پابندی کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا جواب تھا کہ ’صدر صاحب کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ‘۔

بریگیڈئر امتیاز نے انکشاف کیا کہ جب وہ آئی ایس آئی میں تعینات تھے اور جنرل مشرف جی ایچ کیو کی ایم ایس برانچ میں تھے تو انہوں (امتیاز) نے ہرے پال پوائنٹ پین کے ساتھ صدر مشرف کے بارے میں ایک مشاہدہ ریکارڈ کیا تھا کہ وہ ’ہائیلی انٹرو ورٹ اینڈ ڈینجرسلی ایمبیشئس شخص ہیں جو اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے لیے شاید مناسب نہیں ہیں‘۔

انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ ملکی کے سکیورٹی ادارے یا خفیہ ادارے شدت پسندوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان جہاد کے خاتمے کے ساتھ اس وقت خفیہ اداروں کے اہلکار ریٹائر ہوچکے ہیں اور اب سب نئی قیادت ہے۔’موجودہ لاٹ کو تو اسامہ اور بیت اللہ کی خصوصیات کا بھی علم نہیں ہوگا۔ یہ بھی را اور امریکی گیم پلان ہے۔ امریکہ کو نائن الیون کے چار طیاروں کے ہائی جیک ہونے کا تو علم نہیں ہوا تاہم آج امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ معلوم ہوگیا کہ اس حملے میں ملوث لوگ پاکستان میں ہیں‘۔

روسیوں کے خلاف افغانستان میں جنگ کے فیصلے کے بارے میں بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت سکیورٹی اداروں کا جنرل ضیاء کی قیادت میں مشترکہ فیصلہ تھا۔’روس میں کہوں گا پاکستان کا دشمن تھا۔ وہ بھارت کو علاقائی طاقت کے طور پر استوار کرنا چاہتا تھا‘۔

دریافت کیا کہ اب یہ کام تو امریکہ یہاں کر رہا ہے تو فائدہ کیا ہوا؟ بریگیڈئر امتیاز کا ماننا تھا کہ یہ درست ہے۔ ’اس وقت کے حالات میں وہ پالیسی درست تھی تاہم موجودہ حالات کو دیکھ نہیں سکی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی گیم پلان کو وہ اس وقت نہیں سمجھ سکے‘۔

سیکس ورکرز کے لیے کراچی میں ورکشاپ

ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خواتین سیکس ورکرز میں محفوظ جنسی طریقے اپنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے تعاون سے کراچی میں اپنی نوعیت کے پہلے تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جو سنیچر کو اپنے اختتام کو پہنچی اور اس میں ایک سو سے زیادہ خواتین سیکس ورکرز نے شرکت کی۔

پاکستان میں جسم فروشی پر پابندی ہے تاہم یہ کاروبار غیرقانونی طور پر جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے منعقد کردہ اس ورکشاپ میں خواتین سیکس ورکرز کو محفوظ جنسی طریقوں سے آگاہی دی گئی۔ ورکشاپ میں شرکت کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اس ورکشاپ میں شرکت کرنے سے پہلے ان طریقوں سے اتنی زیادہ آگاہی نہیں تھی اور یہ ورکشاپ ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوا ہے۔

یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ یعنی یو این ایف پی اے کے پراجیکٹ افسر ڈاکٹر صفدر کمال پاشا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پورے پاکستان کے اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن اس وقت ایک سروے کے مطابق کراچی میں ایک لاکھ سے زیادہ اور لاہور میں پچھتر ہزار خواتین سیکس ورکرز کام کررہی ہیں اور ان میں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی سے ایڈز کے پھیلاؤ میں بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

جن خواتین سیکس ورکرز نے یہاں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہے امید ہے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دیں گی۔ اس ورکشاپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جائے گی۔ڈاکٹر صفدر کمال پاشا

انہوں نے کہا کہ ایک مسلم ملک یعنی بنگلہ دیش میں اس کاروبار کو قانونی تحفظ حاصل ہے لیکن پاکستان میں اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس ورکشاپ کو منعقد کرنے سے پہلے یہ خدشات تھے کہ یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خوف سے سیکس ورکرز اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے شرکت نہیں کریں گی۔

یہ ورکشاپ کراچی میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی

ان کے بقول اس ورکشاپ کے اختتام پر ایک سو سے زیادہ تعداد میں سیکس ورکرز کی شرکت سے ہماری امیدوں سے بڑھ کر حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن خواتین سیکس ورکرز نے یہاں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہے امید ہے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جائے گی اور پھر اسی موضوع پر اگلے برس قومی کنونشن بھی منعقد کرنے کا ارادہ ہے جس میں ملک بھر سے سیکس ورکرز کو مدعو کیا جائے گا۔

یو این ایف پی اے نے یہ ورکشاپ کراچی میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی تھی جس میں سرفہرست جینڈر اینڈ ریپروڈکٹو ہیلتھ فورم یعنی جی آر ایچ ایف ہے، جس کے سربراہ مرزا علیم بیگ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم سولہ برس سے سیکس ورکرز میں آگاہی اجاگر کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔

سیکس ورکر
زیبا رمضان نے آنکھ ہی ریڈلائٹ ایریا میں کھولی

ان کے بقول محفوظ جنسی طریقوں میں میل اور فیمیل کنڈوم کے استعمال اور دیگر مختلف مسائل پر نہ صرف آگاہی دی گئی بلکہ سیکس ورکرز ہی میں سے چند کو ٹرینر کے طور پر تیار کیا گیا ہے جو اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی دیں گی تاکہ ایڈز اور دیگر جنسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو مسدود کیا جاسکے۔

اس ورکشاپ کے آرگنائزر اور جی آر ایچ ایف کے رکن ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے بتایا کہ تین روزہ اس ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لیے خواتین سیکس ورکرز کے لیے ایک ہزار روپے یومیہ معاوضے کی ترغیب بھی دی گئی تاکہ وہ زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔ ان کے بقول ایڈز کا پھیلاؤ کی بڑی وجوہات انتقالِ خون یا پھر جنسی روابط ہیں اور ان کی تنظیم، اقوامِ متحدہ کے ادارے کے تعاون سے جنسی طریقوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔

نادیہ پانچ سال سے بطور سیکس ورکر کام کررہی ہیں اور ان کے بقول ’اس ورکشاپ میں شرکت کرنے سے انہیں بہت معلومات حاصل ہوئیں ہیں۔ ان کے بقول مجھے پہلی بار پتہ چلا ہے کہ ایسی اشیاء موجود ہیں جو جنسی رابطے کو محفوظ بناتی ہیں جبکہ یہاں ان کا استعمال بھی بتایا گیا ہے۔ میں نے ایڈز کا نام سنا تھا لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ پھیلتا کس طرح ہے لیکن اس ورکشاپ میں مجھے اس بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں ہیں اور مجھے یہ ورکشاپ بہت اچھی لگی ہے۔‘

زیبا رمضان نے آنکھ ہی ریڈلائٹ ایریا میں کھولی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک منفرد ورکشاپ ہے جس میں پہلی بار ہمیں ایک فورم پر اکٹھا کیا گیا ہے، ایسے ورکشاپ ہر سال ہونے چاہیے، اس ورکشاپ سے پہلے ہم چھپے ہوئے تھے لیکن اب ہم بھی معاشرے کے سامنے آگئے ہیں اور ہم اپنے بارے میں آواز اٹھانے کے قابل ہوگئے ہیں، اب میں جی آر ایچ ایف تنظیم کی ممبر کی حیثیت سے اعتماد کے ساتھ اپنی اور اپنی برادری کے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہوں‘۔

workshop3

ورکشاپ کے آرگنائزر اور جی آر ایچ ایف کے رکن ڈاکٹر غلام مرتضٰی

Source Link :

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07 090711 _sex_workers _na .shtml?s

“please write on this issue and try to stop it.”

They are going to arrange in Lahore next.