ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا پرقبضے کاخواب

۱۸۹۸ء میں سوئٹزر لینڈ کے شہر بال میں ۳۰۰ یہودی دانشوروں، مفکروں،فلسفیوں نے ہر ٹزل کی قیادت میں جمع ہو کر پوری دنیا پر حکمرانی کا منصوبہ تیار کیا۔ یہ منصوبہ 19پروٹوکولز کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے عرصہ ہوا آچکا ہے ۔ اس منصوبے کو یہودی دانشوروں کی دستاویز بھی کہتے ہیں۔ اس پورے منصوبے میں۳۰ یہودی انجمنوں کے ذہین ترین لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ اس دستاویز میں ذرائع ابلاغ کو بنیادی اہمیت دی گئی ۔ بارہویں دستاویز میں صحافت کی غیر معمولی اہمیت ، اس کی تاثیر و افادیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے:”اگر ہم یہودی پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے سونے کے ذخائز پر قبضے کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقاصد کے حصول کے لئے دوسرا اہم درجہ رکھتے ہیں۔ ہم میڈیا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی باگ کو اپنے قبضے میں رکھیں گے، ہم اپنے دشمنوں کے قبضے میں کوئی ایسا موٴثر اور طاقتور اخبار نہیں رہنے دیں گے کہ وہ اپنی رائے کو موٴثر ڈھنگ سے ظاہر کرسکیں، اور نہ ہی ہم ان کو اس قابل رکھیں گے کہ ہماری نگاہوں سے گزرے بغیر کوئی خبر سماج تک پہنچ سکے۔ہم ایسا قانون بنائیں گے کہ کسی ناشر اور پریس والے کے لئے یہ ناممکن ہو گا کہ وہ پیشگی اجازت لئے بغیر کوئی چیز چھاپ سکے۔ اس طرح ہم اپنے خلاف کسی بھی سازش یا معاندانہ پروپیگنڈے سے باخبر ہو جائیں گے ،ہم ایسے اخبارات کی سرپرستی کریں گے جو انتشار و بے راہ روی اور جنسی و اخلاقی انار کی پھیلائیں گے، اور استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مدافعت اور حمایت کریں گے۔ ہم جب چاہیں گے قوموں کے جذبات کو مشتعل کریں گے اور جب مصلحت دیکھیں گے انہیں پر سکون کردیں گے۔ اس کے لئے سچی اور جھوٹی خبر وں کا سہارا لیں گے۔ ہم ایسے اسلوب میں خبروں کو پیش کریں گے کہ قومیں اور حکومتیں ان کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔ ہمارے اخبارات و رسائل بندوں کے معبود و شنو کی طرح ہو ں گے، جس کے سینکڑوں ہاتھ ہو تے ہیں، ہمارے پریس کا یہ بنیادی کام ہو گا کہ و ہ مختلف موضوعات اور کالموں کے ذریعے رائے عامہ کی نبض پر ہاتھ رکھیں گے۔ ہم یہودی ایسے مدیروں، مالکان اور نامہ نگاروں کی ہمت افزائی کریں گے جو بدکردار ہوں اور ان کا مجرمانہ ریکارڈ ہو ۔ہمارا یہی معاملہ بدعنوان سیاست دانوں، لیڈروں اور مطلق العنان حکمرانوں کے ساتھ ہو گا،جن کی ہم خوب تشہیر کریں گے، ان کو دنیا کے سامنے ہیرو بناکر پیش کریں گے ،لیکن ہم جیسے ہی محسوس کریں گے کہ وہ ہمارے ہاتھ سے نکلے جارہے ہیں تو فوراً ہم ان کا کام تمام کردیں گے، تاکہ دوسروں کے لئے عبرت ہو۔ ہم یہودی ذرائع ابلاغ کو خبر رساں ایجنسیوں کے زیر کنٹرول رکھ کر دنیا کو جو کچھ دکھا نا چاہتے ہیں ،وہی دنیا کو دیکھانا ہوگا۔ جرائم کی خبروں کو ہم غیر معمولی اہمیت دیں گے ،تاکہ پڑھنے والوں کا ذہن تیار ہو، اس انداز سے کہ دیکھنے والے کو مجرم سے ہمدردی ہو جائے۔“
ذرائع ابلاغ اور خبر رساں ایجنسیوں کے درمیان وہی تعلق ہے جو بندوق اور کار توس کا ہو تا ہے۔ اگر کار توس فراہم نہ ہو ں تو بندوق کا وجود بے کار ہے۔ یہودیوں کا وجود بے کا ر ہے ۔یہودیوں نے اخبارات و رسائل کے ساتھ خبر رساں ایجنسیوں کے قیام کی طرف بھی خصوصی توجہ کی ،یہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے استعمال سے اپنی خواہش کے مطابق وہ کام کرتے ہیں، یہودیوں کے پروٹوکول کے بارہویں باب کی یہ تحریرغورسے پڑھیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ہماری اجازت کے بغیر کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ خبر کسی سماج تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہم خبر رساں ایجنسیاں قائم کریں گے۔ اس کی روشنی میں یہودیوں نے اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا اور خبر رساں ایجنسیاں قائم کیں ،جو درج ذیل ہیں:
رائٹر
عالمی خبر رساں ایجنسیوں میں رائٹر کو غیر معمولی شہرت حاصل ہے ۔دنیا کے تمام اخبارات اور ٹی وی اس ایجنسی کی خبروں پر بھروسا رکھتے ہیں،حتیٰ کہ بی بی سی ،وائس آف امریکہ، ریڈیو مونٹ کارلوبھی اس سے۹۰فیصد خبریں حاصل کرتے ہیں۔ اس خبر رساں ایجنسی کا بانی موسس جولیس ۱۸۱۶ء میں یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ ۱۸۵۱ء میں لندن میں اس ایجنسی نے اپنا کام شروع کیا ۔ ۱۸۵۷ء میں رائٹر ایجنسی کے مالک کو برطانوی شہریت دے دی گئی اور ایک بڑے خطاب سے ملکہ برطانیہ نے اس کو سرفراز کیا۔ رائٹر کے کارکنوں کی تعداد ۳ہزار کے قریب ہے، جس میں ایک ہزار ایڈیٹر اور صحافی و نامہ نگار ہیں۔ اس نیوز ایجنسی کے نصف سے زائد کارکن برطانیہ کے باہر غیر ملکوں میں کام کرتے ہیں۔۷۵سے مراکز کے ذریعے ایک سو پچاس ملکوں کے اخبارات و رسائل ، ریڈیو ، ٹی وی کمپنیوں کو اورروزانہ پندرہ لاکھ الفاظ پر مشتمل خبریں اور مضامین بھیجے جاتے ہیں جو ۴۸زبانوں میں شائع ہو تے ہیں۔
یونائیڈ پریس
۱۹۰۷ء میں امریکہ کے دو یہودی سرمایہ داروں اسکربٹس اور ہوارڈ نے یونائیٹڈ پریس کے نام سے ایک خبر رساں ایجنسی کی بنیاد ڈالی او ردو سال بعد انٹر نیشنل نیوز سروس کے نام سے کمپنی قائم کی جو بعد میں عالمگیر اشاعتی ادارے میں تبدیل ہو گئی اور اس کی شاخیں دنیا بھر میں پھیل گئیں۔ ولیم ہیرسٹ اگر چہ عیسائی تھالیکن اس کی شادی ایک بڑے سرمایہ کار کی لڑکی سے ہوئی۔ولیم ہیرسٹ کا پورا خاندان یہودی خاندان میں تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد یونائیٹڈ پریس اور انٹر نیشنل پریس آپس میں ضم ہو کر نیویارک ٹائمز کی ملکیت میں آگئے جو کہ ایک یہودی کے ماتحت ہے۔۱۸۸۲ء میں ان سب کو میڈیا نیوز کارپوریشن میں ضم کردیا گیا ۔یونائیٹڈ پریس انٹر نیشنل سے امریکہ میں ۱۱۵۰ اخبارات، پبلشنگ ادارے اور ۳۱۹۹ ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن وابستہ ہیں ۔ پوری دنیا میں اس ایجنسی کے ۱۷۰دفاتر ہیں۔ صرف امریکہ کے اندر ۹۶دفاتر ہیں۔ یو پی آئی میں۲ ہزار افراد کام کرتے ہیں، جس میں ۱۲۰۰ ایڈیٹر اور کیمرہ مین ہیں۔۷۰۰ نامہ نگار امریکہ سے باہر مختلف ملکوں میں متعین ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی (اے ایف پی):
۱۸۳۵ء میں فرانس کے ایک یہودی خاندان ہاواس نے ہاواس نیوز ایجنسی کے نام سے ایک خبر رساں ادارے کی بنیاد ڈالی جو آگے چل کر ایجنسی فرانس پریس کے نام سے مشہور ہوا۔ اگر چہ فرانس میں صرف ۷ لاکھ یہودی ہیں، لیکن وہاں پر شائع ہو نے والے پچاس فیصد اخبارات و رسائل پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی کی نئی تنظیم مارچ۱۹۵۷ء میں کی گئی، جس کے مطابق اس کا دائرہٴ کار فرانس سے باہر تک بڑھا دیا گیا۔ اس ایجنسی میں ۱۰۰۰ کے قریب صحافی کا م کرتے ہیں ،جس میں ۳۰۰ کے قریب صحافی فرانس کے باہر متعین ہیں۔ اس نیوز ایجنسی کے ماتحت ۱۲ نیوز ایجنسیاں کام کرتی ہیں۔ ۱۵۰ ریڈیو،ٹی وی اداروں کو یہ ایجنسی خبریں مہیا کرتی ہے۔
ایسوسی ایڈ پریس
۱۹۸۴ء میں امریکہ کے پانچ بڑے روزناموں نے مل کر ایسوسی ایٹس پریس خبر رساں ایجنسی کی بنیاد ڈالی ۔۱۹۰۰ء میں یہ ایجنسی عالمگیر کمپنی کی صورت میں تبدیل ہو گئی ۔اس کمپنی میں نوے فیصد سرمایہ یہودی سرمایہ کاروں کا ہے، اس ایجنسی سے ۱۶۰۰ روزنامے اور۴۱۸۸ ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن وابستہ ہیں۔ اس نیوز ایجنسی کے امریکہ میں ۱۱۷ دفاتر اور بیرونی ممالک میں ۸۱ اخباری مراکز ہیں،جہاں۷۰۰ نامہ نگار متعین ہیں۔ ا ن میں سے ۱۳۰ نامہ نگار امریکی ہیں۔
پانچ بڑی میڈیا کمپنیاں
دنیا میں پانچ بڑی میڈیا فرم ہیں۔ پہلے نمبر پر والٹ ڈزنی آتی ہے۔ اس کا چیف ایگزیکٹو مائیکل ایزر،پروڈیوسرز ، منیجرز اور جنرل منیجرز یہودی ہیں۔ اس کمپنی کے پاس تین بڑے ٹیلی ویژن چینلز ہیں۔ اے بی سی دنیا میں سب سے زیادہ دیکھاجانے والا کیبل نیٹ ورک ہے۔صرف امریکہ کے اندر اس کیبل نیٹ ورک کے ایک کروڑ چالیس لاکھ کنکشن ہو لڈرز ہیں۔ یہ کمپنی دو ریڈیو پروڈکشن کمپنیوں، فلمیں بنانے والی دنیا کی تین بڑی کمپنیوں، آرٹ کے دو ٹیلی ویژن چینلز ،گیارہ اے ایم ریڈیو اور ایف ایم ریڈیو چینلز کی مالک ہے ۔ اور دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا اسپورٹس چینل ” ای ایس پی این“ بھی اس کمپنی کی ملکیت ہے۔دنیا کے ۲۲۵ٹیلی ویژن چینلزوالٹ ڈزنی کمپنی سے وابستہ ہیں۔ دنیا کے ۳۴۰۰ریڈیو اس سے وابستہ ہیں۔دوسری بڑی میڈیا کمپنی” ٹائم وارنر“ہے، جس میں کام کرنے والے تمام چھوٹے بڑے عہدیدار یہودی ہیں۔ ٹائم وارنر پر دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانیوالا فلموں کا چینل ایچ بی او، میوزک کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا چینل وارنر میوزیک، اور ریڈیو پروڈکشن کمپنی اور دنیا کے پانچ کثیر الاشاعت میگزین ٹائم، اسپورٹس ، السٹریٹڈ، پیپل اور فارچون ہیں۔ ”وایا کام پیراماوٴنٹ “دنیا کی تیسری بڑی میڈیا فرم ہے۔ یہ سرریڈ اسٹون نامی یہودی کی ملکیت ہے۔ اس میں بھی تمام ملازمین یہودی ہیں۔ دنیا بھر کے نوجوان سب سے زیادہ ایم ٹی وی اور بچےnic kelotenنامی چینل دیکھتے ہیں۔ امریکہ میں کالے اور گورے ، امریکی ایشیائی کی تفریق کی بنیاد انہوں نے رکھی جنہوں نے ” تہذیبوں کا تصادم “ کی تھیوری دی، جنہوں نے دنیا کو مغرب اور مشرق میں تقسیم کیا ، ہر فرم ہر سال دس ارب ڈالر کماتی ہے۔اس کے پاس ریڈیو کے ۱۲ ، ٹیلی ویژن کے۱۳ چینلز ہیں ،یہی کتابیں شائع کرنیوالے تین بڑے اداروں اور ایک فلم ساز ادارے کی بھی مالک ہے۔چوتھی بڑی کمپنی” نیوز کا رپوریشن“ ہے، جس کا مالک بھی یہودی ہے۔ یہ بھی بے شمار ٹی وی چینلز اور رسائل کی مالک ہے۔ اس کمپنی میں یہودیوں کے علاوہ اور کسی کو کام نہیں ملتا۔پانچویں نمبرپر جاپان کی کمپنی ”سونی“ ہے۔ یہ کمپنی بھی فلمیں بناتی ہے۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو چینلز چلاتی ہے۔ گو اس وقت اس میں زیادہ تر عملہ جاپانیوں پر مشتمل ہے، لیکن یہودی لابی اسے خرید نے کیلئے پورا زور لگا رہی ہے۔ اسوقت جاپان میں صرف ۲۰۰۰ یہودی آباد ہیں۔ ان میں سے۱۰۰۰ یہودی کسی نہ کسی شکل میں میڈیا سے وابستہ ہیں۔یہودی پرنٹ میڈیا کو کس قدر عزیز سمجھتے ہیں ،اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک ایک یہودی فرم ۵۰،۵۰ اخبارات اور میگزین شائع کررہی ہے۔ نیوہاوٴس یہودیوں کی ایک اشاعتی کمپنی ہے جو۲۶ روزنامے اور ۲۴ میگزین شائع کرتی ہے۔
امریکہ میں یہودیوں کے مشہور روزنامے اورمیگزین جنہوں نے پرنٹ میڈیا پر قبضہ کر رکھا ہے:
روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل، نیویارک ڈیلی نیوز، نیویارک ٹائمز ، واشنگٹن پوسٹ دنیا کے بڑے اخبارات ہیں جن کی روزانہ اشاعت ۹۰ لاکھ سے زائد ہے ۔ ان اخبارات کو صحافت کی دنیا میں اسٹوری میکر ز کہا جاتا ہے۔ ان اخبارات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کو اسٹوری دیتے ہیں۔ مشہور میگزین جو امریکہ کے علاوہ پوری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں: ریڈرز ڈائجسٹ ،ٹائمزمیگزین، پلے بوائے، بزنس ویک جن کی اشاعت ۲ کروڑ سے زیادہ ہے۔ یہ میگزین وہ ایشوز چھیڑتے ہیں جو آگے چل کر دنیا بھر کے اخبارات کے لئے خبر بنتے ہیں،ان میگزین اور اخبارات کو پوری دنیا میں تقسیم کرنے کی۱۷۷۰ایجنسیاں اور پبلیشنگ ادارے ہیں۔ ان سب پر یہودی قابض ہیں۔ مجموعی طور پر پورے امریکہ میں۱۴۰ ٹی وی چینلز یہودی ملکیت میں ہیں، دوسری طرف روزانہ۶۵ ملین سے زائد جو امریکی روزنامے تقسیم ہو تے ہیں ،ان میں ۶۲ ملین کے مالک یہی یہودی ہیں۔ جب کہ امریکہ میں یہودیوں کی آبادی کا تناسب صرف 2.9فیصد ہے۔
امریکی میڈیا کے متعلق امریکیوں کی رائے:
امریکی عوام کی اکثریت اس یہودی میڈیاکے بارہ میں کیا خیالات رکھتی ہے؟ یہ روزنامہ لاس اینجلس ٹائمز کے ایک سروے سے معلوم ہو تا ہے جو جولائی۱۹۹۹میں کرایا گیا۔ ۵۰ فیصد امریکی اپنے میڈیا پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے مالکوں کے نقطہ نظر کی حمایت مطابقت نہیں ہو تی۔۷۰ فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ امریکی میڈیا دولت مندوں اور اصحاب ثروت کے اثر و نفوذ کی حمایت کرتا ہے اس میں خود امریکی حکومت بھی شامل ہے۔۷۰ فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ امریکی میڈیا کی خبروں میں عدم توازن اور جانب داری پائی جاتی ہے۔۶۰ فیصد امریکی فحاشی اور عریانی سے متعلق خبروں اور تصویروں اور کہانیوں کو ناپسند کرتے ہیں۔۴۵ فیصد امریکیوں کا کہنا کہ ہے ذرائع ابلاغ کی خبریں فرضی اور من گھڑت ہو تی ہیں۔۶۰ فیصد امریکی خبریں سی بی ایس، بی سی اور اے بی سے سے حاصل کرتے ہیں۔۵۲ فیصد امریکی روزناموں سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔۸۰ فیصد خبریں سی این این سے حاصل کرتے ہیں۔
ہالی ووڈ
ہا لی ووڈ ، جو فلم سازی کا سب سے بڑا مرکز ہے اور پوری دنیا کو وہیں سے فلمیں برآمد کی جاتی ہیں ۔تمام سینما کمپنیوں کے مالک یہودی ہیں۔ان کمپنیوں میں ادا کار، مکالمہ نگا، کیمرہ مین ، ڈائریکٹر سب یہودی ہیں۔انڈیپنڈنٹ نیوز کے ایڈیٹر نے ۱۹۸۳ء میں لکھا تھاکہ: امریکی سینما کی صنعت کے یہودی بلا شرکت غیر ے مالک ہیں۔ اس صنعت میں کام کرنے والے سب یہودی ہیں۔ ان یہودی فلم ساز کمپنیوں کی فلمیں نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں سپلائی کی جاتی ہیں۔ فورڈ نے یہودیوں کی زیر نگرانی بنائی جانے والی فلموں کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فن کاری، جذبات کی عکاسی اور سماجی مشکلات و مسائل کی تصویر کشی سے ان فلموں کا کوئی واسطہ نہیں ہو تا، بلکہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ سولہ سال سے اٹھارہ سال کی عمر کے نوجوانوں کے دل و دماغ کو کس طرح برباد کیا جائے، اس لئے سارا زور شہوانی جزبات کو بھڑکانے اور معاشرے کی اخلاقی قدروں کے خلاف بغاوت پر ہو تا ہے۔ اس کے علاوہ فیشن کی وہ چیزیں تیارکرتے ہیں جن کو معاشرے میں فروغ دینے کا ان کا منصوبہ ہوتاہے ،تاکہ فلم دیکھنے والے ادا کاروں کے فیشن اور طرزِ زندگی کے مطابق مارکیٹ سے مطلوبہ اشیاء خریدیں۔ اس طرح پورا انسانی معاشرہ یہودیوں کی چشم ابرو پر چلنے کے لئے اپنے کو مجبور پاتا ہے، اور ان یہودی اداکاروں کے فیشن اور طرز زندگی کو اختیار کرنے ہی کو وقت کا سب سے بڑا تقاضا سمجھتا ہے۔امریکی اخبار انڈیپنڈنٹ کرسچن نیوز نے امریکی فلموں پر یہودی اجارہ داری اور غلبے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہالی ووڈ نہ صرف ہر طرح کی برائیوں کا مرکز ہے، بلکہ اس نے مردوں سے ان کی مردانگی اور عورتوں سے ان کی نسوانیت چھین لی ہے۔ مجرم اور بد کار لوگوں کو ڈھالنے کے اس کارخانے کو بند کر دینا چاہئے۔
برطانیہ کی سیاسی اور سماجی زندگی میں یہودیوں کا عمل دخل بہت قدیم ہے۔ برطانیہ کا وزیر اعظم ڈزرائیلی اور برطانوی افواج کا چیف آف اسٹاف دونوں بیک وقت یہودی تھے۔ برطانیہ کے معروف ادارے بی بی سی کے سربراہ مسلسل تین دہائیوں سے یہودی چلے آرہے ہیں۔ اسٹار ٹی وی بھی یہودیوں کی ملکیت ہے۔برطانیہ سے شائع ہونے والے درجہ ذیل اخبار ات یہودیوں کی ملکیت ہیں:ڈیلی ایکسپریس ،نیوز کرانیکل ، ڈیلی میل، ڈیلی ہیرالڈ ، مانچسٹر ، گارجین، ایوننگ اسٹینڈرڈ ، ایو ننگ نیوز ،آبزرور،سنڈے ریویو،سنڈے ایکسپریس ،سنڈے کردانیکل ، دی سنڈے پیپل ،سنڈے ڈسپیچ، دی اسکاچ، دی ایمبیسیڈر، دی جیوگرافک ، ان کی یومیہ اشاعت 33ملین ہے۔ برطانوی صحافت امریکی صحافت کی طرح یہودیوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے جو ملکوں کی پالیسی پر بھر پور طریقے سے اثرر اندازہو تے ہیں۔
امریکی دانشوروں کا یہودیوں پر تبصرہ:
”عالمی خبر رساں نیوز ایجنسیوں کے ذریعے یہودی تمہارے دل و دماغ کو دھو رہے ہیں۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق دنیا کے حالات وحوادث کو دیکھنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ واقعی حقائق اور حوادث کیا ہیں۔ او ردوسری طرف فلموں کے ذریعے ہمارے نوجوانوں اور فرزندانِ قوم کے دل و دماغ کو اپنے افکار و خیالات کی مسلسل غذا پہنچارہے ہیں تاکہ ہمارے بچے جو ا ن یہودیوں کے دم چھلے اور غلام بن جائیں اورصرف دو گھنٹے کے قلیل وقفے میں ۔ اس وقفے میں یہودی شاطر، فلموں کے ذریعے ہماری نوجوان اور ابھرتی ہوئی نسل کی عقل اور کردار کو مٹا کر رکھ دیتے ہیں،۔ وہی عقل اور کردار جس کی تیاری میں مہینوں اور سالوں اساتذہ اور مربیوں نے صرف کیے تھے۔“ (امریکی دانشور ارڈیان آرکنڈ دی نیویار کر 31/11/1937)
میڈیا پر مسلمانوں کی منفی شکل:

ہالی ووڈ فلمی صنعت جو مکمل یہودیوں کے قبضے میں ہے، یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فلمیں بنا کر اسلامی معاشرت ،ثقافت، روایات اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کو نشانہ بنایا ہے۔ مسلمانوں کو ڈاکو ،چور ،دہشت گرد، شہوت پرست اور دولت کا پجاری بنا کر پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخی واقعات کے تناظر میں لکھی جانے والی کہانیوں پر بننے والی وہ فلمیں جن میں انبیائے کرام اور دیگر مشاہیرِ اسلام کے کرداروں کو دانستہ طور پر مسخ کرنا اور ان کی توہین کی ناقابلِ معافی جسارت کا شرمناک ارتکاب ، ایسی قابلِ مذمت اور دل آزار فلموں کی اگر تفصیلی فہرست یا رپورٹ مرتب کی جائے تو اس کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s