میڈیا اور اس کی آزادی کا قصہ ! اسے بریکنگ نیوز نے مار ڈالا

بریکنگ نیوز کے نام پر خبر کی تصدیق کو ضروری کیو ں نہیں سمجھا جاتا ؟

 میڈیا 12 مئی اور 9 اپریل جیسے واقعات کو ہائی لائٹ کیوں نہیں کر پاتا ؟

پاکستانی صحافیوں پر حملہ 

بدھ کو سی این این/ آئی بی این/ این ڈی ٹی وی جیسے ذمہ دار چینلوں سمیت بہت سے بھارتی چینلز پر یہ خبر چلتی رہی۔ ’نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں پاکستانی صحافیوں پر رام سینا کے نوجوانوں کا حملہ۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس طلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ میں بھی اس سیمینار میں شریک ڈھائی سو لوگوں میں موجود تھا جو بھارت اور پاکستان میں جنگجویانہ سوچ بڑھانے میں میڈیا کے کردار کے موضوع پر معروف مصنفہ ارون دھتی رائے، ہندوستان ٹائمز کے امیت بروا، میل ٹوڈے کے بھارت بھوشن، اور پاکستان کے رحیم اللہ یوسف زئی اور بینا سرور سمیت کئی مقررین کو سننے آئے تھے۔ جو واقعہ رائی کے دانے سے پہاڑ بنا وہ بس اتنا تھا کہ جب رحیم اللہ یوسف زئی پاکستانی اور ہندوستانی میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا تقابلی جائزہ پیش کر رہے تھے تو تین نوجوانوں نے پاکستان کے بارے میں نعرہ لگایا۔ منتظمین نے ان کو ہال سے باہر نکال دیا۔ بس پھر کیا تھا جو کیمرے سیمینار کی کارروائی فلما رہے تھے وہ سب کے سب باہر آگئے اور ان نوجوانوں کی منتظمین سے ہلکی پھلکی ہاتھا پائی کو فلمایا اور ساؤنڈ بائٹ کے طور پر ان نوجوانوں کے انٹرویو لیے۔ منتظمین نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پولیس کے پانچ چھ سپاہیوں کو ہال کے باہر کھڑا کردیا۔ سیمینار کی کارروائی اسکے بعد ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ سوال و جواب کا طویل سیشن ہوا۔ ڈھائی سو لوگوں کا لنچ ہوا۔ لیکن چینلوں کو مرچ مصالحہ مل چکا تھا۔ اس لیے ان کے نزدیک سیمینار تو گیا بھاڑ میں۔ خبر یہ بنی کہ پاکستانی صحافیوں پر نوجوانوں کا حملہ۔ پھر یہ خبر سرحد پار پاکستانی چینلوں نے بھی اٹھا لی اور پشاور میں میری بیوی تک بھی پہنچ گئی۔ بیوی نے فون کر کے کہا آپ خیریت سے تو ہیں۔ کوئی چوٹ تو نہیں لگی۔ جب میں نے کہا کہ اس واقعہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے تو کہنے لگی کہ آپ میرا دل رکھنے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں۔ اب میں یہ بات کس سے کہوں کہ جسے کل تک صحافت کہا جاتا تھا آج وہ بندر کے ہاتھ میں استرا بن چکی ہے۔ اور ایسے ماحول میں بھارت اور پاکستان میں جنگجویانہ سوچ کے بڑھاوے میں میڈیا کے کردار کی بات کرنا ایسا ہی ہے کہ اندھے کے آگے روئے اپنے نین کھوئے۔

میڈیا کا بندر

  سنا تو یہ تھا کہ مقابلے اور مسابقت کا رجھان مصنوعات کے معیار کو بہتر سے بہتر بناتا ہے ۔اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اس سے پاکستانی میڈیا کی صحت کیوں بہتر نہیں ہورہی۔ مثلاً پرنٹ میڈیا کو ہی لے لیں۔ایک زمانہ تھا کہ اخباری دفاتر میں اشتہار، خبر، تبصرے اور خواہش کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں رکھا جاتا تھا۔آج خبر اسے کہتے ہیں جو نامہ نگاری، کالم نویسی اور ذاتی تمناؤں کا ملیدہ ہو اور اشتہاروں سے بچ جانے والی جگہ پر شائع ہونے میں کامیاب ہوجائے۔ پہلے قاری صرف اخبار خریدتا تھا۔آج اسے اخبار کے ساتھ ایک چھلنی بھی خریدنی پڑتی ہے تاکہ وہ خبری کالم میں موجود ملیدے میں سے حقیقت ، فسانہ اور تمنا الگ الگ کرسکے۔پہلے قاری اس امید پر بھی اخبار پڑھتا تھا کہ اسے نئے الفاظ اور زبان برتنے کا شعور ملے گا۔آج قاری کو اخبار پڑھتے ہوئے یہ خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ اسے جو تھوڑی بہت زبان آتی ہے کہیں اس پر صحافتی لفظیات کے چھینٹے نہ پڑ جائیں۔ یہ مسائل اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ عرصہ ہوا زبان و بیان، ادارتی پالیسی، غیر جانبداری اور خبر نگاری کی بنیادی تربیت کو اخباری دفاتر سے کان پکڑ کر نکال دیا گیا۔صلاحیت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل مالک اور شعبہ اشتہارات کی دو پاٹی چکی میں سرمہ ہوچکے۔ چہار طرفہ دباؤ ، معاشی جبر اور سیاسی ، سماجی اور ذاتی مصلحتوں نے صحافت کو پیشہ نہیں رہنے دیا بلکہ صحافی کو پیشہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اب اس اخباری معیار کو آپ دس سے ضرب دے کر الیکٹرونک میڈیا پر لاگو کیجیے۔اب سے پانچ ، سات برس پہلے جب نجی چینلوں کو لہلہانے کی اجازت ملی تو عام ناظر کو گمان ہوا کہ کیمرے کی موجودگی میں رائی کا پہاڑ بنانا اور دو اور دو پانچ کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے گا۔کیمرہ جب دودھ اور پانی الگ کرے گا تو سب اسے سنجیدگی سے لیں گے اور یوں سماج کی مجموعی سودے بازی کی قوت میں بھی نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ تحقیقاتی رپورٹنگ کو نئی زندگی ملے گی اور ناظر کی معلومات کے ساتھ اسکے علم میں بھی صوتی و بصری اضافہ ہوگا۔ لیکن مقابلے اور مسابقت کے اژدھے نے یہ سب امیدیں نگل لیں۔کوئی بھی ڈرامہ ، ٹاک شو ، خبرنامہ یا دستاویزی پروگرام ایک گھنٹے میں مکمل طور پر دیکھنے کے لیے ناظر کو پینتیس منٹ کے اشتہارات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ٹھوس مواد کی قلت کے سبب مباحثوں اور ٹاک شوز کی اس قدر بھرمار ہوگئی ہے کہ گفتگو باز اسی طرح کم پڑ گئے ہے جیسے بقرعید پر قصائی قلیل ہو جاتے ہیں۔ پٹی جرنلزم اور فی البدیہہ بیپر جرنلزم کے کوڑوں نے معیاری رپورٹنگ کو نیلا کردیا ہے۔اب یہ خبر معمول کی نشریات روک کر بریکنگ نیوز کے نام پر سنائی جاتی ہے کہ نیو کراچی کے ایک مکان میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی۔اور یہ خبر ایکسکلوسیو نیوز ہوگئی ہے کہ معزول چیف جسٹس پنڈال میں گیٹ نمبر دو سے داخل ہوں گے۔ وہ آدمی جس کے بیان کواخبار میں صفحہ چھ پر سنگل کالم میں لگانے سے پہلے ڈیسک ایڈیٹر بھی سات بار سوچتا تھا ۔اب اسے صرف ایک چینل کو اطلاع دینی ہوتی ہے جس کے بعد باقی چینل اسکی پریس کانفرنس کو لائیو دکھانے کے لیے اسی طرح لپکتے ہیں جیسے سبز مکھی آم کے چھلکے پر۔حالت یہ ہوگئی ہے کہ اگر ایک چینل کی گاڑی ڈیزل بھروانے بھی جارہی ہو تو دیگر چینلوں کی گاڑیاں احتیاطاً اسکے پیچھے لگ لیتی ہیں۔ اپنا دماغ استعمال کئے بغیر ہر مینگنی کو پیڑہ سمجھ کر لپکنے کی اس بھیڑ چال نے اتنی گنجائش بھی نہیں چھوڑی کہ صحافت کے پیشہ ورانہ بنیادی اصولوں کو خاطر میں لانے کے بارے میں کوئی سوچ بھی سکے۔چنانچہ اب ہر اسلم ، حمیدے، بھورل اور ظہورے کو یہ راز معلوم ہوگیا ہے کہ ڈگڈگی سنتے ہی میڈیا کا بندر ناچنا شروع کردیتا ہے۔جنٹلمین بن کر دکھاتا ہے۔ڈنڈ بیٹھکیں نکالتا ہے اور تماشائیوں کے سامنے پاپی پیٹ نکال کر چکر لگاتا ہے تاکہ حسب ِ توفیق کوئی بھی خبر یا تبصرہ یا ساؤنڈ بائٹ یا افواہ کشکول میں ڈال دی جائے۔ تو یہ ہے میڈیا اور اس کی آزادی کا قصہ !

 اسے بریکنگ نیوز نے مار ڈالا

   ایک اور صحافی  موسیٰ خان خیل بھی دنیا میں نہیں رہے۔ امن معاہدے کے بعد کسی غیر جانبدار پیشے سے وابستہ شخص کی موت خود ہی اس بات کی گواہی ہے کہ سوات میں امن صرف ابھی معاہدے کے مسودے پر ہی ہے۔ میرے ایک دوست نے فون کر کے بتایا کہ موسیٰ خان خیل کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے تو میں نے جواب میں کہا کہ’ نہیں میرے دوست کو نامعلوم افراد نے نہیں بلکہ بریکنگ نیوز نے مارا ہے۔‘ اخبارات اور چینل مالکان کی اشتہاری دوڑ نے مجھے موسیٰ خان خیل جیسے پانچ اور عزیز دوستوں سے محروم کر دیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے حیات اللہ، ابراہیم، نور حکیم، امیر نواب اور اللہ نور وزیر بھی اسی دوڑ کا شکار ہوئے اور نجانے ہم صحافیوں کو اور کتنے دوستوں کی یادوں کو سینے میں دفن کرنے کی صعوبت اٹھانی پڑے گی۔ جنگ زدہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کو دفاع یا جارحیت کے نام پر قتل کرنے کا مینڈیٹ تو ملا ہی ہے اور جب کبھی صحافی مرتا ہے تو گلہ، شکوہ و شکایت، تنقید اور احتجاج بھی ان دونوں کے خلاف ہوتا ہے۔ لیکن آزادی صحافت کی تنظیمیں یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ بجا سہی کہ صحافی کی موت کا براہ راست الزام جنگ میں مصروف سپاہیوں یا شدت پسندوں پر لگایا جاتا ہے مگر اسکی جزوی ذمہ داری خود ان پر اور ان اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کے لیے انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہوئےایک صحافی موت کو گلے لگا لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ سرحد، فاٹا اور بلوچستان کے جنگ زدہ علاقوں میں اخبارات بالخصوص چینلز کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو کبھی جنگی حالات میں رپورٹنگ کرنے کی کوئی تربیت دی جاتی ہے۔وہ جس ذہنی کرب سے گزر رہے ہوتے ہیں کیا کبھی اس کا مداوا کیا ہے۔ کیا جنگ میں برسرِ پیکار گروپوں کی دھمکیوں کے سایے میں زندگی گزارنے والے ان صحافیوں کو کبھی ان کے اداروں کے مالکان یا صحافتی تنظیموں نے جان بچانے کی کوئی ترکیب بتائی ہے۔ پاکستان کے دیگر شہروں کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں محض آٹھ گھنٹوں تک کام کرنے والوں کو کیا معلوم کہ ان کا جنگ زدہ علاقے کا رپورٹر ساتھی ان کے پروگرام کا پیٹ بھرتے بھرتے کس کس طرح کے خطرات کا سامنا کرتا ہے۔ پر امن اور دلفریب فضاء میں بیٹھنے والا پروڈیوسر یا میزبان یا اخبار کا کوئی ایڈیٹر کیا جانے کہ ان کا رپورٹر خودکش حملے، بم دھماکے، لاشیں، بربادی اور تباہی کے مناظر رپورٹ کرتے کرتے خود کس طرح کے کربناک ذہنی انتشار کا شکار رہتا ہے۔ اور اس پر یہ کہ دور بیٹھے لوگ شورش زدہ علاقوں میں ان نزاکتوں کو بھی نہیں سمجھتے کہ اپنے رپورٹر سے ایسا کونساسوال کیا جائے کہ جواب دیتے وقت وہ ایسی بات کرنے پر مجبور نہ ہوجائے جو شدت پسند گروہوں یا سکیورٹی فورسز کو برا لگے اور وہ اس کے نام پر سرخ لکیر لگا کر اسے اپنا اگلا ٹارگٹ بنا ڈالیں۔ مجھے سوات میں کام کرنے والے کئی صحافی دوستوں نے بتایا ہے کہ انہیں اپنے اداروں نے تاکید کی ہے کہ وہ اپنے حریف چینل سے سبقت لیجانے کے لیے اپنی جان کو داؤ پر لگائیں۔ان کو لائیو رپورٹنگ کے لیے ڈی ایس این جی دیئے گئے ہیں کہ وہ بروقت موقع پر پہنچ جایا کریں۔ ایسے صحافیوں کی اپنے اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے ان احکامات کی بجا آوری میں درپیش مشکلات کی کہانی سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ موت کو ہتھیلی پر لیے ان صحافیوں کو ان خطرات کو مول لینے کا کیا ملتا ہے؟ صرف دس سے بیس ہزار روپے کی تنخوا۔ نہ لائف انشورنس، نہ طبی سہولیات کا وعدہ، نہ اپوانٹمنٹ لیٹر۔ بس کام ہی کام اور جب کبھی اس کام میں ذرا سی بھی کوتاہی ہو تو نوکری سے نکالنے کی دھمکی۔ رپورٹر کی موت تو اس وقت بھی ہو جاتی ہے جب اسے کہا جائے کہ تم کام نہیں کر سکتے۔ موسیٰ خان اور دیگر دوستوں نے کام کرتے کرتے موت کو گلے لگایا ہے۔ میری اور مجھ جیسے سینکڑوں دوسرے پاکستانی صحافیوں کی نظر میں ان کا رتبہ اور بھی بلند ہو گیا ہے۔ لیکن کیا وہ ایک اچھی، لمبی اور پرسکون زندگی گزارنے کے مستحق نہیں تھے؟                     

 خدا انہیں غریقِ رحمت کرے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s