بلوچ ہلاکتوں پر احتجاج

  بلوچستان کے علاقے تربت میں 3بلوچ رہنماؤں کے قتل کے بعد کوئٹہ، خضدار، آواران، قلات، نوشکی، مستونگ، گوادر، ڈیرہ مراد جمالی سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں پہیہ جام ہڑتال کی گئی، جلاؤ گھیراؤ ، تھوڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی چوتھے روز بھی جاری رہے، پرتشدد واقعات میں ایک شخص ہلاک جبکہ صحبت پور میں نامعلوم افراد کی چیک پوسٹ پر فائرنگ سے ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا، آواران وخاران سمیت کئی علاقوں میں سرکاری ونجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، پولیس اور مظاہرین میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ بلوچستان میں تمام تعلیمی اداروں کو مزید تین روز کیلئے بند کردیا گیا ، ادھر کراچی کے علاقے ملیر، جمشید کوارٹر، جہانگیر روڈ اور لیاری میں گذشتہ روز بلوچ رہنماؤں کے قتل کے خلاف مختلف بلوچ تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور رکاوٹیں کھڑی کردیں جس سے ٹریفک معطل ہوگیا تاہم پولیس اور رینجرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا، گوادر سے نامہ نگار کے مطابق گوادر شہر میں بھی پہیہ جام ہڑتال رہی اور پولیس اور مظاہرین میں آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا، مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ کرکے کئی دکانوں اور نجی بینکوں کو جلادیا جبکہ گوادر کا اندرون ملک سے زمینی راستہ منقطع ہوگیا، شدید ہنگاموں کے باعث اتوار کو کراچی سے گوادر آنے والی پروز کو بھی منسوخ کردیا گیا، حیدرآباد سے نمائندے کے مطابق حیدرآباد سینٹرل جیل میں مقتول بلوچ رہنماؤں کی غائبانہ نماز ے جنازہ ادا کی گئی ، دریں اثناء،بی این ایف ‘ بی آر پی ‘ بلوچستان نیشنل پارٹی ‘ بی ایس او آزاد ‘ بی ایس او (محی الدین ) ‘ مری اتحاد سمیت تمام قوم پرست اوروطن دوست قوتوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال اورشٹرڈاؤن کی کال دے رکھی تھی اور اتوار کو کوئٹہ کے تمام کاروباری مراکز سمیت تمام علاقوں میں مکمل شٹرڈاؤن رہا اوراسی طرح اندرون صوبہ تربت ‘ پنجگور ‘ مکران ڈویژن خاران ‘ آواران ‘ نوشکی ‘ قلات ‘ منگوچر ‘ مستونگ ‘ مند ‘ گوادر ‘ ڈیرہ مراد جمالی ‘ سبی ‘ مچھ سمیت صوبہ کے مختلف علاقوں میں پہیہ جام اورشٹرڈاؤن رہا۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اورانہیں نذرآتش کرنے کی اطلاعات ہیں۔ کوئٹہ میں مظاہرین اورپولیس کے درمیان فائرنگ ہوئی تاہم کسی قسم کاکوئی نقصان نہیں ہوا۔ ہڑتال کے دوران مظاہرین نے سریاب روڈ ‘ بائی پاس سمیت دیگرعلاقوں میں ٹائر جلاکر احتجاج کیا اوراندورن صوبہ ریلیاں نکالیں مظاہرے سے کو ئٹہ سبی کوئٹہ کراچی سمیت متعدد قومی شاہراہیں بھی بندرہیں۔ پولیس ‘ فرنٹیئرکور اورسیکورٹی فورسز کاعملہ امن وامان برقرار رکھنے اورکسی بھی ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کے لئے گشت کرتے رہے۔ پولیس نے جلاؤگھیراؤ ہنگامہ آرائی کے الزام میں11 افراد کوحراست میں لے لیا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s