سوات میں لڑکی کی سزا اور امن معاہدہ

آ ج کل ملک بھر میں سوات میں کچھ عرصہ قبل ہونے والے اُس واقعے کا چرچا ہے جس میں ایک سترہ سالہ لڑکی کو سرعام “کوڑے” مارے گئے تھے تمام دنیا کا میڈیا اس واقعے کو بار بار نشر کر رہا ہے اور دنیا بھر میں اسلام دشمن جذبات کو اس واقعے کی بنیاد پر ہوا دی جارہی ہے، ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے “کچھ” لوگ اس پر شرمناک قسم کے تبصروں میں مصروف ہیں اور ہمارے نام نہاد “سیاسی جوکر” تو اسلام کو بدنام کرنے کے اس سنہری موقع ہو کسی بھی قیمت پر ضایع کرنے کے لئے تیار نہیں، عوام الناس کی جذباتیت کامعیار تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ ایسے مواقع پر انکے جذبات کو برانگختہ کر کے اپنے مطلب کو پورا اور مقاصد کو حاصل کیا جاتا ہےاور پھر کچھ عرصہ بعد ہمارے “سادہ لوح ” عوام ہمیشہ کی طرح ہر بات بھول جاتے ہیں اور مفاد پرست اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے پھر کوئی نیا جال بننے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور عوام بے چارے ہر بار اُن ہی جانے پہچانے شکاریوں کے جال میں با آسانی پھنس کر انکے مقاصد اور مفادات کے حصول کا “ذریعہ” بن جاتے ہیں ۔
اس واقعے پر جہاں “باشعور” کہلانے والوں نے اپنے “شعور’ کا دل کھول کر مظاہرہ کیا ہے وہیں ایسے ایسے لوگ بھی اس معاملے پر بڑھ چڑھ کر رائے دیتے نظر آئے جنہیں شاید یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ کے نازل کردہ دین میں “صاحب الرائے” کون کہلاتا ہے، بلکہ بہت سے بے چارے تو ایسے بھی تھے جو شاید دین کے موٹے موٹے احکامات سے بھی واقف نہ ہوں گے مگر اس معاملے پر ایسے بڑھ چڑھ کر تبصرے کر رہے تھے کہ گویا اگلے روز انہوں نے “وفاقی شرعی عدالت” کے جج کا حلف اُٹھانا ہے اگر میں صرف اس ایک حوالے سے ہی لکھنا شروع کردوں تو شاید کئی صفحے بھردوں مگر اتفاق سے میں آج اس واقعے کے کسی اور پہلو پر بات کرنے جا رہا ہوں اس لئے اتنی ہی بات پر اکتفاء کروں گا۔
میں آپ احباب کے سامنے تصویر کا دوسرا رُخ پیش کرنے جا رہا ہوں، جس کی جانب اس “جذباتیت”کے سیلاب میں نہ تو عوام توجہ دے رہے ہیں اور نہ ہی عوام کی قسمت سے کھیلنے والے انہیں اُس جانب جانے دینا چاہ رہے ہیں۔ اس معاملے کا ایک شرمناک اور افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس بارے میں جو بھی تبصرے اور تجزیئے کئے جارہے ہیں وہ زیادہ تر سیاسی اور مذہبی وابستگیوں کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، جس سے تصویر کا اصل رُخ ہماری نگاہوں سے بالکل اوجھل ہے، اور کیونکہ اس واقعے کو ایک “مذہبی جذباتی” رنگ دے کر اچھالا گیا ہے اس لئے عوام کی جانب سے اس پر “حسب توقع” ردِ عمل دیکھنے کو ملا اور جہاں جہاں بھی کسی لحاظ سے کمی نظر آئی تو اسے ہمارے سیاسی موقع پرستوں نے پورا کر دیا۔
سب سے پہلے تو میں یہ بات صاف صاف بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی قوانین کی رو سے جس جس نے اس واقعے میں مجرمانہ کردار اداء کیا ہے اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہئے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات پر بھی نظر رکھنی ہے کہ اس “واقعے” سے کس کس نے کیا کیا فائدہ حاصل کیا ہے یا کرنے جا رہا ہے، کیونکہ شاید یہی اس سارے معاملے کا اصل پہلو ہے جسے فی الوقت سب کی نظروں سے اوجھل رکھا جارہا ہے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک طویل خوں ریزی کے بعد بالاخر سوات سمیت تمام مالاکنڈ میں فریقین ایک امن معاہدے پر راضی ہوچکے تھےجس پر امریکہ اور اسکی حواریوں نے کھلے عام تنقید کی اور اس پر برہمی کا اظہار کیا،اس امن معاہدے کے نتیجے میں تمام دنیا نے دیکھا کہ سوات سمیت تمام مالاکنڈ میں تیزی سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتی چلی جارہی تھی اور وہ علاقے جو چند ہفتوں پیشتر تباہ حالی کا شکار تھے اب وہاں زندگی کی چل پہل پھر سے بیدار ہوچلی تھی، دوسری جانب امن معاہدے کا ایک اہم حصہ اسلامی قانون کا نفاذ تھا جس پر فریقین راضی تھے اور اس کا عملی سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا مگر صدر پاکستان کی منظوری اور دستخط کے بغیر اس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہ تھی اور یہ معاملہ کئی روز سے ایوان صدر میں التواء کا شکار تھا اور اس التواء کی وجہ سے اس معاہدے کے ذمہ دار افراد نے ڈیڈ لائن بھی دے رکھی تھی کہ اگر مقررہ وقت تک اس معاہدے کو آئینی اور قانونی حیثیت نہ ملی تو وہ اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائیں گے اور اس کے بعد امن و امان کی خرابی کی ذمہ دار ی حکومت پر عائد ہوگی، دوسری جانب اس التواء کی سب سے بڑی وجہ اس امن معاہدے پر امریکہ کی برہمی تھی، اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ معاہدہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے لئے ایک طویل عرصے سے جاری خوں ریزی کا ایک بہت مناسب انجام تھا، مگر ہم سب اس بات کو بھی بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں یہ آگ امریکی مفادات کے حصول کے لئے لگائی گئی تھی اور اس ساری خوں ریزی سے نہ تو پاکستان کا کوئی مطلب تھا اور نہ کوئی مفاد، محض امریکی مفادات کو پورا کرنے کے لئے چند “ضمیر فروشوں “نے ایک “آئین شکن” کی سرکردگی میں اپنے ذاتی بنک بیلنس بڑھانے اور اپنی شیطانی اور نفسانی خواہشات کی تسکین کے لئے اس ملک کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیاکہ جسکا نہ تو کوئی مقصد تھا اور نہ ہی کوئی انجام، اسی لئے مالاکنڈ اور سوات کا یہ امن معاہدہ امریکہ اور اسکے ایجنٹوں کو روزِ اول سے پسند نہ تھا جبکہ اس ملک کے عوام کی اکثریت اور اس ملک سے مخلص افراد ایک طویل مدت سے جاری اس لاحاصل خون ریزی سے نجات چاہتے تھے، چناچہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس موقع پر امریکہ اور اسکے کاسۂ لیسوں کو خاموشی اختیار کرنا پڑی لیکن بالا ہی بالا اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا منصوبہ تیار تھااور اس گھناؤنے مقصد کے حصول کے لئے جو گھٹیا اقدامات طے ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ تھا کہ مالاکنڈ اور سوات کے علاقوں میں شریعت کے نفاذ کے حوالے سےجو معاہدہ طے پایا ہے کسی طرح اسے ختم کیا جاسکے تاکہ امن و امان کی بحالی کا یہ سلسلہ نہ صرف رک جائے بلکہ حالات دوبارہ اسی بد ترین صورت پر لوٹ جائیں جس میں امریکہ کو اپنے مفادات کے حصول میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔
بظاہر تو اس کا طریقہ بہت آسان تھا کہ ایوان صدر سے اس نفاذ شریعت کے قانون کو منظور ہی نہ کیا جاتا اور اس طرح سارا قصہ ہی اپنی موت آپ مرجاتا مگر گذشتہ کچھ عرصے سے سیاسی محاذ پر ذلت آمیز مار کھانے کے بعد حکومت کسی ایسے اقدام کی ہمت نہیں کر پارہی تھی جو کہ سیاسی طور پر اسکے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوجائے ، اس لئے کئی روز سے “نہ چھپتے ہیں اور نہ ہی سامنے آتے ہیں ” کی کہانی جاری تھی، امریکہ کو انکار بھی ممکن نہ تھا اور کئی محاذوں پر ذلت اُٹھانے کے بعد اب حکومت مذید کسی سیاسی “جھٹکے” کو سہنے کی تاب بھی نہیں رکھتی، چناچہ ملکی سیاست کی بساط کے بدنام مہروں نے ایک عجیب اور شرمناک منصوبہ تیار کیا کہ جس سے “سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے” کے مصداق عوام کے غیض و غضب سے بھی بچ جائیں اور اپنے امریکی آقاؤں کو بھی خوش کیاجاسکے، چناچہ پہلی کوشش کے طور پرحال ہی میں ایک سترہ سالہ لڑکی کو سرِ عام کوڑے مارنے کے واقعے پر مبنی ایک ایسی ویڈیو فلم دنیا کے سامنے پیش کی گئی ہے جسکے تمام کردار”انجانے” اور اس ویڈیو کی تخلیق کا وقت نامعلوم ہے لیکن اسے انتہائی وثوق سے “طالبان کا کارنامہ’ قرار دیا جارہا ہے اور “نام نہاد اور نقلی طالبان “کی جانب سے نہ صرف اسے تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اس کا دفاع کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے جو کہ سیدھا سیدھا عوام کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے اور اس شرمناک ڈرامے میں ہمیشہ کی طرح اس ملک کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اور ٹی وہی پر آکر اس سارے عمل کا دفاع کرکےعوام کے جذبات کو آگ لگانے کی کوش کرنے والے والے بھی بلا شبہ ان ہی ایجنسیوں کے تنخواہ دار کارندے ہیں ، جبکہ ایک عرصے سے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا جارہا ہے کہ ان علاقوں میں جہاں اسلام پسندوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے وہیں اسلام پسندوں کے بھیس میں خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ بھی موجود ہیں جو کہ بوقتِ ضرورت ہرقسم کی غیر انسانی ، غیر قانونی ور غیر اخلاقی سرگرمیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور انکی ایسی ہی کئی شرمناک اور گھناؤنی حرکتوں کی باعث اس وقت تمام ملک میں طالبان اور اسلامی قوانین سے نفرت کا ایک طوفان برپا ہے، اورخاص طور پر اس موجودہ صورتحال میں اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایوان صدر کی جانب سے مالاکنڈ اور سوات کے لئے نفاذ شریعت کے قانون کی منظوری ہوسکے، چناچہ ملک اور ملک کے عوام کا درد رکھنے والوں نے ایک لمبے عرصےکی بھاگ دوڑ اور محنت کے بعد جو امن و امان کی بحالی کے جو حسین خواب دیکھے تھے ان کے چکنا چور ہونے کا وقت قریب آن پہنچا ہےاور قوم ایک بار پھر ایک نہ ختم ہونے والے خونی دور کی منتظر رہے جو کہ اب آیا ہی چاتا ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s