دیر ڈاکہ، چار اہلکار ہلا

صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک حملے میں اے ایس آئی سمیت چار اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان نے حملہ آوروں کوگرفتار کرلیا ہے جبکہ حکومت نے انہیں ’شرعی عدالت‘ میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لوئر دیر کے وچ پولیس چوکی کے ایک اہلکار پرویز رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے نامعلوم مسلح افراد چکدرہ میں واقع ملاکنڈ یونیورسٹی سے سامان چرانے کی غرض سے داخل ہوئے تو اطلاع ملنے پر پولیس کی ایک موبائل ٹیم وہاں پہنچ گئی۔

ان کے بقول جونہی پولیس وہاں پہنچی تو مسلح افراد نے گاڑی پر راکٹوں سے حملہ کردیا جس میں اے ایس آئی عزیزاللہ اور حوالدار عنایت اللہ سمیت تین اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ ڈرائیور اور دوسپاہی زخمی ہوگئے۔ان کے مطابق مسلح افراد یونیوسٹی کی دو گاڑیاں لے گئے البتہ انہوں نے اپنی دو گاڑیاں چھوڑ دیں جن کو پولیس نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔

ملاکنڈ ڈویژن کے پبلک ریلیشنگ آفیسر دوست محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے گیٹ پر مامورسکیورٹی گارڈ کو رسیوں سے باندھ کر انہیں زدوکوب کرکے ان سے چابیاں چھین لیں لیکن جب پولیس موقع پر پہنچی تو مسلح افراد نے سکیورٹی گارڈ کو گولیاں مار دیں۔

حملے کے چند گھنٹے بعد ہی لوئر دیر کی سرحد پر واقع ضلع سوات کے شموزئی کے علاقے میں طالبان نے ان حملہ آوروں کو پکڑ لیا۔ ملاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ہاتھوں حملہ آوروں کے گرفتاری کی تصدیق کی۔

ان کے بقول طالبان نے چودہ کے قریب افراد کو پکڑ لیا ہے جن کے قبضے سے یونیورسٹی کی دونوں گاڑیاں برآمد کر لی گئیں ہیں۔ ان کے مطابق پکڑے جانے والے افراد جرائم پیشہ ہیں۔ ان کے بقول طالبان انہیں حکومت کے حوالے کریں گے جنہیں بہت جلد تحصیل بری کوٹ کی ’شرعی عدالت‘ میں پیش کردیا جائے گا۔

حکومت اور طالبان کے درمیان کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے توسط سے ہونے والے امن معاہدے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا واقعہ ہے کہ جب پولیس اہلکاروں کو قتل کیا جاتا ہے اور طالبان مبینہ حملہ آوروں کو گرفتار کرکے انہیں حکومت کے حوالے کرتے ہیں۔ اس سے طالبان کی مستعدی، منظم ہونے اور ان کے علاقے پر بدستور کنٹرول کا اندازہ بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

Attention Please

 

SMS

“aur barbad hogya woh sakhs jis nai kisi police wale ko dekha or rishwat na di?”
Moulana asif ali zardari

NOTE:
zara sochye is tarhan ke msg fwd kar k hum kis ka mazaq ura rahy hain zardari ka ya apnay DEEN ka , QURANIC ayat K tarjume ki tarz per or AHADEES ki tarz per SMS banane wala kia musalman hoga?

DENmark or non muslims ko bura kahne walon ye sochain k hum khud kiya kar rahe hain. khud apne DEEN ISLAM ki behurmati.

Agar hamay is kisam ka sms aye to hamaein chaye k jis ki taraf se sms aya ho us ko us ki ghalti ka ahsas dilwaien taka wo toba ker le, ya agar ye na ker sakein to kam az kam agay forward he na karay.

is dua k sath k Allah SubhanuTala hum sab ko sirate mustaqeem per amal kernay ki taufeeq ata faramaye .. Ameen

jazakALLAH Azzwajall

Australia is not an easy rival: Younis Khan

 Younis Khan, the Pakistan captain, expects Australia, the No. 2 team in the world, to hit back quickly, but also predicted his side would improve.

“Sometimes you miss that experience, especially in batting, because we are not playing one-day international games in the last couple of months,” he said. “So that’s why we struggled a little in the batting, but I think we will get better,” said Younis in a press conference after winning first ODI against Australia.

He praised the performance of Shahid Afridi and said he should continue this in next matches. Younis said we will try to win the series by wining next two matches.

Meanwhile, Australian captain Michael Clarke has defended Australia’s reputation against spin after Shahid Afridi’s career-best figures gave Pakistan a 1-0 lead in the five-game one-day series. Australia tumbled from 95 for 1 in the 19th over to 168 all out, a total Pakistan overhauled with four wickets in hand.

Afridi picked up 6 for 38 while the offspinner Saeed Ajmal captured 2 for 19 from his 10 overs. Clarke, who fell to Saeed for 4, called on his batsmen to be more disciplined in Friday’s second game in Dubai.

“I certainly don’t think we have a weakness against spin but we haven’t been performing as well as we would have liked against them,” Clarke said. “Whether we like it or not we are going to be facing a lot of it so we have to practice hard against it and probably have to be a little more disciplined, especially on a wicket that is spinning.”

میڈیا اور اس کی آزادی کا قصہ ! اسے بریکنگ نیوز نے مار ڈالا

بریکنگ نیوز کے نام پر خبر کی تصدیق کو ضروری کیو ں نہیں سمجھا جاتا ؟

 میڈیا 12 مئی اور 9 اپریل جیسے واقعات کو ہائی لائٹ کیوں نہیں کر پاتا ؟

پاکستانی صحافیوں پر حملہ 

بدھ کو سی این این/ آئی بی این/ این ڈی ٹی وی جیسے ذمہ دار چینلوں سمیت بہت سے بھارتی چینلز پر یہ خبر چلتی رہی۔ ’نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں پاکستانی صحافیوں پر رام سینا کے نوجوانوں کا حملہ۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس طلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ میں بھی اس سیمینار میں شریک ڈھائی سو لوگوں میں موجود تھا جو بھارت اور پاکستان میں جنگجویانہ سوچ بڑھانے میں میڈیا کے کردار کے موضوع پر معروف مصنفہ ارون دھتی رائے، ہندوستان ٹائمز کے امیت بروا، میل ٹوڈے کے بھارت بھوشن، اور پاکستان کے رحیم اللہ یوسف زئی اور بینا سرور سمیت کئی مقررین کو سننے آئے تھے۔ جو واقعہ رائی کے دانے سے پہاڑ بنا وہ بس اتنا تھا کہ جب رحیم اللہ یوسف زئی پاکستانی اور ہندوستانی میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا تقابلی جائزہ پیش کر رہے تھے تو تین نوجوانوں نے پاکستان کے بارے میں نعرہ لگایا۔ منتظمین نے ان کو ہال سے باہر نکال دیا۔ بس پھر کیا تھا جو کیمرے سیمینار کی کارروائی فلما رہے تھے وہ سب کے سب باہر آگئے اور ان نوجوانوں کی منتظمین سے ہلکی پھلکی ہاتھا پائی کو فلمایا اور ساؤنڈ بائٹ کے طور پر ان نوجوانوں کے انٹرویو لیے۔ منتظمین نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پولیس کے پانچ چھ سپاہیوں کو ہال کے باہر کھڑا کردیا۔ سیمینار کی کارروائی اسکے بعد ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ سوال و جواب کا طویل سیشن ہوا۔ ڈھائی سو لوگوں کا لنچ ہوا۔ لیکن چینلوں کو مرچ مصالحہ مل چکا تھا۔ اس لیے ان کے نزدیک سیمینار تو گیا بھاڑ میں۔ خبر یہ بنی کہ پاکستانی صحافیوں پر نوجوانوں کا حملہ۔ پھر یہ خبر سرحد پار پاکستانی چینلوں نے بھی اٹھا لی اور پشاور میں میری بیوی تک بھی پہنچ گئی۔ بیوی نے فون کر کے کہا آپ خیریت سے تو ہیں۔ کوئی چوٹ تو نہیں لگی۔ جب میں نے کہا کہ اس واقعہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے تو کہنے لگی کہ آپ میرا دل رکھنے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں۔ اب میں یہ بات کس سے کہوں کہ جسے کل تک صحافت کہا جاتا تھا آج وہ بندر کے ہاتھ میں استرا بن چکی ہے۔ اور ایسے ماحول میں بھارت اور پاکستان میں جنگجویانہ سوچ کے بڑھاوے میں میڈیا کے کردار کی بات کرنا ایسا ہی ہے کہ اندھے کے آگے روئے اپنے نین کھوئے۔

میڈیا کا بندر

  سنا تو یہ تھا کہ مقابلے اور مسابقت کا رجھان مصنوعات کے معیار کو بہتر سے بہتر بناتا ہے ۔اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اس سے پاکستانی میڈیا کی صحت کیوں بہتر نہیں ہورہی۔ مثلاً پرنٹ میڈیا کو ہی لے لیں۔ایک زمانہ تھا کہ اخباری دفاتر میں اشتہار، خبر، تبصرے اور خواہش کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں رکھا جاتا تھا۔آج خبر اسے کہتے ہیں جو نامہ نگاری، کالم نویسی اور ذاتی تمناؤں کا ملیدہ ہو اور اشتہاروں سے بچ جانے والی جگہ پر شائع ہونے میں کامیاب ہوجائے۔ پہلے قاری صرف اخبار خریدتا تھا۔آج اسے اخبار کے ساتھ ایک چھلنی بھی خریدنی پڑتی ہے تاکہ وہ خبری کالم میں موجود ملیدے میں سے حقیقت ، فسانہ اور تمنا الگ الگ کرسکے۔پہلے قاری اس امید پر بھی اخبار پڑھتا تھا کہ اسے نئے الفاظ اور زبان برتنے کا شعور ملے گا۔آج قاری کو اخبار پڑھتے ہوئے یہ خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ اسے جو تھوڑی بہت زبان آتی ہے کہیں اس پر صحافتی لفظیات کے چھینٹے نہ پڑ جائیں۔ یہ مسائل اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ عرصہ ہوا زبان و بیان، ادارتی پالیسی، غیر جانبداری اور خبر نگاری کی بنیادی تربیت کو اخباری دفاتر سے کان پکڑ کر نکال دیا گیا۔صلاحیت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل مالک اور شعبہ اشتہارات کی دو پاٹی چکی میں سرمہ ہوچکے۔ چہار طرفہ دباؤ ، معاشی جبر اور سیاسی ، سماجی اور ذاتی مصلحتوں نے صحافت کو پیشہ نہیں رہنے دیا بلکہ صحافی کو پیشہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اب اس اخباری معیار کو آپ دس سے ضرب دے کر الیکٹرونک میڈیا پر لاگو کیجیے۔اب سے پانچ ، سات برس پہلے جب نجی چینلوں کو لہلہانے کی اجازت ملی تو عام ناظر کو گمان ہوا کہ کیمرے کی موجودگی میں رائی کا پہاڑ بنانا اور دو اور دو پانچ کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے گا۔کیمرہ جب دودھ اور پانی الگ کرے گا تو سب اسے سنجیدگی سے لیں گے اور یوں سماج کی مجموعی سودے بازی کی قوت میں بھی نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ تحقیقاتی رپورٹنگ کو نئی زندگی ملے گی اور ناظر کی معلومات کے ساتھ اسکے علم میں بھی صوتی و بصری اضافہ ہوگا۔ لیکن مقابلے اور مسابقت کے اژدھے نے یہ سب امیدیں نگل لیں۔کوئی بھی ڈرامہ ، ٹاک شو ، خبرنامہ یا دستاویزی پروگرام ایک گھنٹے میں مکمل طور پر دیکھنے کے لیے ناظر کو پینتیس منٹ کے اشتہارات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ٹھوس مواد کی قلت کے سبب مباحثوں اور ٹاک شوز کی اس قدر بھرمار ہوگئی ہے کہ گفتگو باز اسی طرح کم پڑ گئے ہے جیسے بقرعید پر قصائی قلیل ہو جاتے ہیں۔ پٹی جرنلزم اور فی البدیہہ بیپر جرنلزم کے کوڑوں نے معیاری رپورٹنگ کو نیلا کردیا ہے۔اب یہ خبر معمول کی نشریات روک کر بریکنگ نیوز کے نام پر سنائی جاتی ہے کہ نیو کراچی کے ایک مکان میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی۔اور یہ خبر ایکسکلوسیو نیوز ہوگئی ہے کہ معزول چیف جسٹس پنڈال میں گیٹ نمبر دو سے داخل ہوں گے۔ وہ آدمی جس کے بیان کواخبار میں صفحہ چھ پر سنگل کالم میں لگانے سے پہلے ڈیسک ایڈیٹر بھی سات بار سوچتا تھا ۔اب اسے صرف ایک چینل کو اطلاع دینی ہوتی ہے جس کے بعد باقی چینل اسکی پریس کانفرنس کو لائیو دکھانے کے لیے اسی طرح لپکتے ہیں جیسے سبز مکھی آم کے چھلکے پر۔حالت یہ ہوگئی ہے کہ اگر ایک چینل کی گاڑی ڈیزل بھروانے بھی جارہی ہو تو دیگر چینلوں کی گاڑیاں احتیاطاً اسکے پیچھے لگ لیتی ہیں۔ اپنا دماغ استعمال کئے بغیر ہر مینگنی کو پیڑہ سمجھ کر لپکنے کی اس بھیڑ چال نے اتنی گنجائش بھی نہیں چھوڑی کہ صحافت کے پیشہ ورانہ بنیادی اصولوں کو خاطر میں لانے کے بارے میں کوئی سوچ بھی سکے۔چنانچہ اب ہر اسلم ، حمیدے، بھورل اور ظہورے کو یہ راز معلوم ہوگیا ہے کہ ڈگڈگی سنتے ہی میڈیا کا بندر ناچنا شروع کردیتا ہے۔جنٹلمین بن کر دکھاتا ہے۔ڈنڈ بیٹھکیں نکالتا ہے اور تماشائیوں کے سامنے پاپی پیٹ نکال کر چکر لگاتا ہے تاکہ حسب ِ توفیق کوئی بھی خبر یا تبصرہ یا ساؤنڈ بائٹ یا افواہ کشکول میں ڈال دی جائے۔ تو یہ ہے میڈیا اور اس کی آزادی کا قصہ !

 اسے بریکنگ نیوز نے مار ڈالا

   ایک اور صحافی  موسیٰ خان خیل بھی دنیا میں نہیں رہے۔ امن معاہدے کے بعد کسی غیر جانبدار پیشے سے وابستہ شخص کی موت خود ہی اس بات کی گواہی ہے کہ سوات میں امن صرف ابھی معاہدے کے مسودے پر ہی ہے۔ میرے ایک دوست نے فون کر کے بتایا کہ موسیٰ خان خیل کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے تو میں نے جواب میں کہا کہ’ نہیں میرے دوست کو نامعلوم افراد نے نہیں بلکہ بریکنگ نیوز نے مارا ہے۔‘ اخبارات اور چینل مالکان کی اشتہاری دوڑ نے مجھے موسیٰ خان خیل جیسے پانچ اور عزیز دوستوں سے محروم کر دیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے حیات اللہ، ابراہیم، نور حکیم، امیر نواب اور اللہ نور وزیر بھی اسی دوڑ کا شکار ہوئے اور نجانے ہم صحافیوں کو اور کتنے دوستوں کی یادوں کو سینے میں دفن کرنے کی صعوبت اٹھانی پڑے گی۔ جنگ زدہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کو دفاع یا جارحیت کے نام پر قتل کرنے کا مینڈیٹ تو ملا ہی ہے اور جب کبھی صحافی مرتا ہے تو گلہ، شکوہ و شکایت، تنقید اور احتجاج بھی ان دونوں کے خلاف ہوتا ہے۔ لیکن آزادی صحافت کی تنظیمیں یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ بجا سہی کہ صحافی کی موت کا براہ راست الزام جنگ میں مصروف سپاہیوں یا شدت پسندوں پر لگایا جاتا ہے مگر اسکی جزوی ذمہ داری خود ان پر اور ان اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کے لیے انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہوئےایک صحافی موت کو گلے لگا لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ سرحد، فاٹا اور بلوچستان کے جنگ زدہ علاقوں میں اخبارات بالخصوص چینلز کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو کبھی جنگی حالات میں رپورٹنگ کرنے کی کوئی تربیت دی جاتی ہے۔وہ جس ذہنی کرب سے گزر رہے ہوتے ہیں کیا کبھی اس کا مداوا کیا ہے۔ کیا جنگ میں برسرِ پیکار گروپوں کی دھمکیوں کے سایے میں زندگی گزارنے والے ان صحافیوں کو کبھی ان کے اداروں کے مالکان یا صحافتی تنظیموں نے جان بچانے کی کوئی ترکیب بتائی ہے۔ پاکستان کے دیگر شہروں کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں محض آٹھ گھنٹوں تک کام کرنے والوں کو کیا معلوم کہ ان کا جنگ زدہ علاقے کا رپورٹر ساتھی ان کے پروگرام کا پیٹ بھرتے بھرتے کس کس طرح کے خطرات کا سامنا کرتا ہے۔ پر امن اور دلفریب فضاء میں بیٹھنے والا پروڈیوسر یا میزبان یا اخبار کا کوئی ایڈیٹر کیا جانے کہ ان کا رپورٹر خودکش حملے، بم دھماکے، لاشیں، بربادی اور تباہی کے مناظر رپورٹ کرتے کرتے خود کس طرح کے کربناک ذہنی انتشار کا شکار رہتا ہے۔ اور اس پر یہ کہ دور بیٹھے لوگ شورش زدہ علاقوں میں ان نزاکتوں کو بھی نہیں سمجھتے کہ اپنے رپورٹر سے ایسا کونساسوال کیا جائے کہ جواب دیتے وقت وہ ایسی بات کرنے پر مجبور نہ ہوجائے جو شدت پسند گروہوں یا سکیورٹی فورسز کو برا لگے اور وہ اس کے نام پر سرخ لکیر لگا کر اسے اپنا اگلا ٹارگٹ بنا ڈالیں۔ مجھے سوات میں کام کرنے والے کئی صحافی دوستوں نے بتایا ہے کہ انہیں اپنے اداروں نے تاکید کی ہے کہ وہ اپنے حریف چینل سے سبقت لیجانے کے لیے اپنی جان کو داؤ پر لگائیں۔ان کو لائیو رپورٹنگ کے لیے ڈی ایس این جی دیئے گئے ہیں کہ وہ بروقت موقع پر پہنچ جایا کریں۔ ایسے صحافیوں کی اپنے اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے ان احکامات کی بجا آوری میں درپیش مشکلات کی کہانی سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ موت کو ہتھیلی پر لیے ان صحافیوں کو ان خطرات کو مول لینے کا کیا ملتا ہے؟ صرف دس سے بیس ہزار روپے کی تنخوا۔ نہ لائف انشورنس، نہ طبی سہولیات کا وعدہ، نہ اپوانٹمنٹ لیٹر۔ بس کام ہی کام اور جب کبھی اس کام میں ذرا سی بھی کوتاہی ہو تو نوکری سے نکالنے کی دھمکی۔ رپورٹر کی موت تو اس وقت بھی ہو جاتی ہے جب اسے کہا جائے کہ تم کام نہیں کر سکتے۔ موسیٰ خان اور دیگر دوستوں نے کام کرتے کرتے موت کو گلے لگایا ہے۔ میری اور مجھ جیسے سینکڑوں دوسرے پاکستانی صحافیوں کی نظر میں ان کا رتبہ اور بھی بلند ہو گیا ہے۔ لیکن کیا وہ ایک اچھی، لمبی اور پرسکون زندگی گزارنے کے مستحق نہیں تھے؟                     

 خدا انہیں غریقِ رحمت کرے۔

SBP to Announce Monetary Policy for Next Quarter today

The monetary policy for third-quarter of the current fiscal year is being announced today, while the economists are divided on whether Pakistan will lower interest rates for the first time since 2002 to stoke growth, as price gains remain “stubbornly” high.

Stock market brokers, traders and industrialists all alike anxiously waiting as to whether the State bank of Pakistan (SBP) cuts the interest rate or not in its third-quarter monetary policy being announced here today. The analysts expecting a cut said that the private sector loans have dropped down seven times below Rs50 billion, while large-scale industrial production has fallen to minus 5.37, which was pacing up unemployment and the economic growth rate was feared to remain at 2.5 percent.

Senior bankers said that the interest rate constitute the miniscule part of any company’s trading. They said that the government would also have to address the energy crisis besides SBP monetary policy correlating with other policies. Economists also accept that following the entrance into IMF program, its approval on policy decisions was necessary.

It may be recalled that monetary policy is not made keeping in view the inflation and price-hike rates only. Lower interest rate would induce buying on taking loans and because of the low production capacity, the demand pressure would be met by imports, which would result in depletion of foreign exchange reserves, weakening of rupee value and widening trade deficit gap.

BJP worker hurls show at L. K. Advani

An angry BJP worker threw a shoe at party’s Prime Ministerial candidate, L. K. Advani on Thursday.

According to Indian media, the BJP worker Pawas Agarwal threw a shoe at Advani in Madhya Pradesh during first phase of Indian Lok Sabha polls. The police arrested Agarwall.

Earlier, a Sikh journalist threw a shoe at Indian Home Minister P. Chidambaram at a press conference, protesting against the minister’s reply on his question on CBI’s clean chit to Congress leader Jagdish Tytler in the 1984 Sikh riots case.