نظر نہ آنے والے لباس کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ

سائنسدانوں نے جادوئی خصوصیات کے حامل ایسے لباس کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے جس کو پہننے والا دوسروں کو نظر نہیں آئے گا۔

سائنسدانوں نے ایسے مواد کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے جو روشنی کی لہروں کو تین اطراف میں موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم یہ عمل بہت ہی مختصر رقبے تک ہی ممکن ہے اور بڑے اجسام کو چھپانے کیلئے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں کیلی فورنیا کی برکلے یونیورسٹی میں ژیانگ زانگ کی قیادت میں سائنسدانوں اور ماہرین کی ٹیم تحقیق کر رہی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جو تجربات کئے گئے تھے وہ صرف مائیکرولیول پر ہی کامیاب ثابت ہوسکتے تھے جس سے نظر نہ آنے والے لباس یا مادہ کی تیاری ناممکن تھی۔ اس کے علاوہ تیار کیا جانیوالا مادہ صرف دو اطراف میں روشنی کی لہروں کو موڑنے کی صلاحیت کا حامل تھا اور سہ رخی اطراف(تھری ڈی) میں اس کی کارکردگی قابل اعتبار نہیں تھی تاہم اس حوالہ سے تحقیق کا عمل جاری ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق جو نیا مواد تیار کیا گیا ہے وہ روشنی میں تینوں اطراف سے آنے والی شعاعوں کو موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پراجیکٹ کیلئے فوج کی طرف سے بھی بھاری فنڈز فراہم کئے گئے ہیں تاکہ اجسام کو چھپانے کی ٹیکنالوجی کومیدان جنگ میں استعمال کیا جاسکے۔ سائنسدانوں کے مطابق چھپانے میںمعاون مادہ کو میگنیشیم فلورائیڈ اورسلور سے تیار کیا گیا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے بتایا کہ جادوئی خصوصیات کے حامل لباس کی مثال بہتے دریا کی بیچ میں پڑے ہوئے بھاری پھتر  کی طرح ہوگی جس کے چاروں طرف پانی بہہ رہا ہو مگر وہ کسی کو نظر نہیں آتا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s