بلوچستان میں جاری لڑائی اتنی اہم کیوں ہے؟

Al Qamar Online Photo at www.alqamar.org 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد سے صوبہ بلوچستان اور مرکزی حکومت کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے۔ تشدد، محرومی،تلخی، بھوک اور اضطراب روزمرہ زندگی کے حقائق ہیں۔ اس تنازعہ کے انسانی پہلو سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ آخر بلوچستان باقی دنیا کے لئے تشویش کا باعث کیوں ہے۔

بلوچستان کا صوبہ تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے سرحدیں ایران اور افغانستان کے ساتھ لگتی ہیں۔ اگر اس تنازعہ پر توجہ نہ دی گئی تو صوبے کے وسائل پر بلوچستان کے عوام اور پاکستانی حکومت کے درمیان یہ کھینچا تانی ملک کے شمالی علاقوں میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔

اگر یہ تنازعہ مزید طول پکڑ گیا تو اس سے گرد و پیش کے علاقے بھی سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے عدمِ استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان گیس، قدرتی وسائل اور بعض انتہائی کمیاب معدنیات کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ دو مجوزہ بین الاقوامی گیس پائپ لائنوں کا بڑا حصہ بھی اسی علاقے سے گزرتا ہے۔ ان میں سے ایک پائپ لائن ایران، پاکستان اور بھارت جب کہ دوسری ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان بچھائی جائے گی۔ بین الاقوامی قوتیں مثلا امریکہ، چین، ایران اور بھارت پہلے ہی قدرتی گیس تک رسائی اور بین الاقوامی تجارت کے لئے خلیجِ فارس کے داخلی راستے پر واقع گوادر کی بندگاہ کو استعمال کرنے کے لئے اس خطے کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

لیکن بلوچ ایک طویل عرصے سے یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ انہیں ان وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے ترقیاتی کاموں اور روزگار کے مواقع کی شکل میں منصفانہ حصہ نہیں دیا جا رہا۔ پاکستان کی حکومت گزشتہ کئی عشروں سے بہت سی بلوچ تحریکوں سے نبرد آزما ہے کیونکہ، حکومت کے مطابق، یہ لوگ بلاجواز خود مختاری بلکہ آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم حال ہی میں کچھ حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے اور جب سے تین عسکریت پسند بلوچ تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلیکن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نے ستمبر کے اوائل میں اچانک فائربندی کا اعلان کیا ہے، بلوچستان میں کوئی دہشت گرد حملہ یا تخریب کاری نہیں ہوئی۔

کیا ان حالات میں ہم بلوچستان میں دوبارہ امن بحال ہونے کی توقع رکھ سکتے ہیں؟

اس اقدام کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت معاملات کو درست کرنے کے لئے اس موقع سے کتنی جلدی اور کتنے مثر طریقے سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ بلوچ عوام بھی اپنے نفسیاتی صدمات سے سنبھل جائیں اور سیاسی رنجشوں کو گفت و شنید سے حل کریں۔ مذکورہ گروہوں کی طرف سے جارحانہ کارروائیاں روکنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس تنازعہ کو گولی کی بجائے بامعنی مذاکرات سے حل کرنے پر آمادہ ہیں۔

مسئلے کو حل کرنے کے لئے لازم ہے کہ دونوں فریق اسے ہار جیت کا مسئلہ نہ بنائیں بلکہ ایسا حل تلاش کریں جس میں دونوں ہی کی جیت ہو۔ مصالحتی تربیت کار جوڈتھ وارنر اور تھامس کرم کے مطابق ایسا کرنے کے لئے تین بنیادی شرائط کو پورا کرنا ہوگا یعنی تسلیم کرنا، قبولیت اور مطابقت پذیری۔

پاکستان کی حکومت اور بلوچ مزاحمتی تحریکوں سمیت سبھی کو سب سے پہلے اس تنازعہ سے نظر چرانے یا اس کے وجود سے انکار کرنے کی بجائے اسے تسلیم کرنا ہوگا اور پھر اس میں ہر فریق کی شمولیت کو بھی قبول کرنا ہوگا۔ مطابقت پذیری کا مطلب ہے کہ ایسے تمام خیالات کے لئے ذہن کھلا رکھا جائے جو ایک قابلِ عمل حل کی طرف لے جاتے ہوں۔ پختہ ارادے، نیک نیتی اور ایک دوسرے کو رعایت دینے کے لئے لچک دار رویے سے اس بات کا تعین ہو گا کہ یہ حل کیسے نافذ کئے جائیں گے۔

پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگست 2005 میں ہونے والے آچے معاہدے کی طرز پر کیا جانے والا کوئی معاہدہ اس صورتحال کا حل ہو سکتا ہے۔ آچے معاہدے سے انڈونیشیا میں 29 سال سے جاری کشمکش کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس معاہدے میں انڈونیشیا کہ حکومت نے آچے کے باشندوں کو خارجہ امور، بیرونی دفاع، قومی سلامتی اور مالی امور کے سوا تمام حکومتی شعبوں میں اختیارات دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس کے نتیجے میں آچے کے عوام نے مکمل آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کی بجائے مقامی سطح پر اقتدار حاصل کرنے پر اکتفا کر لیا۔

بلوچستان کے عوام بھی اس قسم کے انتظام سے بہت خوش ہوں گے۔ تشدد کی لہرجاری رہنے سے مرکزی حکومت اور بلوچ عوام کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو پائے گا۔

حکومت کو بلوچستان کے لوگوں کے مطالبات پر ہمدردی سے غور کرنے اور تنازعہ کے کسی سیاسی حل کے لئے آمادہ رہنا چاہیے۔ بیشتر پاکستانی عوام صوبوں کو اس سے زیادہ خود مختاری دینے کے حق میں ہیں جتنی موجودہ آئین میں عطا کی گئی ہے تاکہ ملک میں امن قائم ہو اور صوبائی عدمِ توازن دور ہو سکے۔

‘جہاں چاہ وہاں راہ’۔ نئی جمہوری حکومت قائم ہونے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ بلوچوں کو ان کے جائز حقوق اور پاکستانی حکومت کو اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لئے درکار محدود کنٹرول دینے کے لئے آئین میں ترمیم کے ذریعے بلوچستان کے لئے تبدیلی کو نظام کا حصہ بنایا جائے۔

اسلام آباد اور بلوچستان کے درمیان اس طرح کا امن معاہدہ شمال مغربی سرحدی صوبے اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے لئے بھی مثالی نمونے کا کام کرے گا۔ تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s