ملکوں کو غلام بنانے اور وسائل پر قبضے کی امریکی جنگ کے خلاف جس نفرت کا آغاز بغداد سے ہوا تھا آج اس کا اظہار جامعہ کراچی میں ایک بار پھر اس وقت ہوا جب ایک امریکی اسکالر کلفرڈ مے کو ایک طالبعلم کے جوتے نے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکا کے سابق صدر بش کو جوتا کیا پڑا کہ اب تودنیا بھر کی اہم شخصیات سر بچانے کی فکر میں رہتی ہیں کہ نجانے کب جوتے کے ذریعے عوامی نفرت کا اظہار ہو جائے۔یہی کچھ ہوا پچھلے دنوں استنبول کے دورہ پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کے ساتھ جو یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں طلباء سے خطاب کر رہے
بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ ، اپوزیشن لیڈر ایل کے ایڈوانی اور وزیر داخلہ چدم برم بھی جوتے کھانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اور اب یہی واقعہ دہرایا گیا ہے جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں، جہاں دوران لیکچر امریکی اسکالر کلفرڈ مے بھی جوتے کا شکار ہو گئے ۔امریکی اسکالر آئی ایس او کے محمد حسین کو ان کے سوال پر مطمئن نہیں کر سکے تو طالب علم نے امریکی اسکالر کو اچانک جوتا دے مارا جس سے وہ جھک کر بچ نکلے۔ واقعے کے بعد ہال میں سنا ٹا چھاگیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ لیکچر سے پہلے محمد حسین کا تعارف ایک بہترین طالب علم کے طور پر کرایا گیا تھاسنگھ ، اپوزیشن لیڈر ایل کے ایڈوانی اور وزیر داخلہ چدم برم بھی جوتے کھانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اور اب یہی واقعہ دہرایا گیا ہے جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں، جہاں دوران لیکچر امریکی اسکالر کلفرڈ مے بھی جوتے کا شکار ہو گئے ۔امریکی اسکالر آئی ایس او کے محمد حسین کو ان کے سوال پر مطمئن نہیں کر سکے تو طالب علم نے امریکی اسکالر کو اچانک جوتا دے مارا جس سے وہ جھک کر بچ نکلے۔ واقعے کے بعد ہال میں سنا ٹا چھاگیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ لیکچر سے پہلے محمد حسین کا تعارف ایک بہترین طالب علم کے طور پر کرایا گیا تھا۔
اس سے قبل طالب علم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیکچر کے دوران اسکالر نے انقلاب ایران کو شر پسندی سے منسوب کیا تھا جو مغرب کی متعصبانہ رویہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔طالب علم کا کہنا تھا کہ فلسطین کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے متعلق سوال پر امریکی اسکالر نے مناسب جواب نہیں دیا اور ہنستے ہوئے سوال کا جواب دینے کے بجائے طنز کیا اورجواب نہیں دیا۔
ایک سوال کے جواب میں طالب علم نے کہا کہ ایک مظلوم انسان جوتا مارنے کے سوا اور کیا کرسکتا ہے، اسی طرح اپنی نفرت کا اظہارکیا جاسکتا ہے۔طالبعلم نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے اور انہوں نے جامعہ کی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس کے لئے مسائل کھڑے نہ کریں کیوں کہ جذبات کا آزادانہ اظہار ہر شہری کا حق ہے