انرجی سیور بلبوں کی بعض اقسام خطرناک امراض کا باعث بن سکتی ہیں

انرجی سیور بلبوںکی بعض اقسام سے تابکاری شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو جلد کے امراض سے لے کر کینسر جیسے مہلک مرض کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ انکشاف برطانوی ادارے برٹش ہیلتھ پروٹیکشن ایجنسی کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ایسے انرجی سیور جن کے اندر موجود بجلی کی تاریں نظر آتی ہیں اور ان پر مضبوط حفاظتی خول نہیں ہوتا سے بلب کے ارد گرد بالائے بنفش شعائیں پھیل جاتی ہیں جن کی مقدار خطرے کی حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ رپورٹ میں ایسے لوگوں جو ان بلبوں کے بہت قریب رہ کر کام کرتے ہیں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسلسل ایک گھنٹہ تک زیادہ ایسے جلتے ہوئے بلبوں کے پاس رہنے سے گریز کریں۔ برطانوی ادارے ایچ پی اے کے سائنسدان جان اوماگن کے مطابق انہوںنے انرجی سیور بلبوں پر تحقیق کا آغاز جلد کے امراض میں تیزی سے اضافے کے باعث کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض انرجی سیور بلبوں سے 2سینٹی میٹر کے فاصلے پر اتنی مقدار میں تابکار شعائیں موجود ہوتی ہیں جتنی موسم گرما کے ایک گرم دن میں دوپہر کے وقت دھوپ میں موجود ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انرجی سیور بلبوں سے پیدا ہونے والی تابکار شعاعیں عام تابکار شعاعوں کے مقابلہ میں زیادہ خطرناک ہیں اور ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انرجی سیور بلبوں کے جلد پر سرخ دھبے پڑنے کے واقعات کافی زیادہ ہیں

Respond to this post