امریکی ریاست میری لینڈ کی عدالت نے منی لانڈرنگ کی سازش اور دہشتگردی کے لیے مالی امداد خفیہ رکھنے پرپینتالیس سالہ پاکستانی نژاد امریکی سیف اللہ انجم رانجھا کو9 برس قید کی سزا سنائی ہے جبکہ اس کے بائیس لاکھ آٹھ ہزار امریکی ڈالر کے اثاثہ جات بھی قبضے میں لینے کا حکم دیاہے۔ڈسٹرکٹ اٹارنی روڈ جے کے مطابق سیف اللہ رانجھا پاکستان میں پیدا ہوا اور ستمبر انیس سو ستانوے میں قانون کے مطابق امریکہ کا شہری بن گیا۔ جس کے بعد اس نے کولمبیا کے ضلع میں ہنڈی کا غیر قانونی کاروبار شروع کیا۔رانجھا کیکیس پرکام کرنے والے ایک عینی شاہد کے مطابق رانجھا اور اس کے ساتھی بڑے پیمانے پر منشیات،سگریٹ اور ہتھیاروں کی اسمگلکنگ میں ملوث ہیں۔جبکہ ان پر الزام لگایا گیاہے کہ وہ القاعدہ اور اس سے ملحقہ تنظیموں کو مالی امداد فراہم کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں۔